ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحجر (15) — آیت 65

فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ اتَّبِعۡ اَدۡبَارَہُمۡ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ وَّ امۡضُوۡا حَیۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾
پس تو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے چل اور خود ان کے پیچھے پیچھے چل اور تم میںسے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور چلے جائو جہاں تمھیں حکم دیا جاتا ہے۔ En
تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور اور آپ میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے۔ اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جایئے
En
اب تو اپنے خاندان سمیت اس رات کے کسی حصہ میں چل دے اور آپ ان کے پیچھے رہنا، اور (خبردار) تم میں سے کوئی (پیچھے) مڑکر بھی نہ دیکھے اور جہاں کا تمہیں حکم کیا جارہا ہے وہاں چلے جانا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت65) ➊ { وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ:} لوط علیہ السلام کو ان کے پیچھے چلنے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ ان کی اچھی طرح حفاظت کر سکیں، کوئی پیچھے نہ رہ جائے، سب مسلسل چلتے رہیں اور ٹھہر کر آنے والوں کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی یہی تھا، چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں پیچھے رہتے، کمزوروں کو آگے چلاتے اور سواری پر اپنے پیچھے بٹھاتے اور ان کے لیے دعا فرماتے۔ [أبوداوٗد، الجہاد، باب لزوم الساقۃ: ۲۶۳۹]
➋ { وَ لَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ:} کیونکہ مڑ کر دیکھنے میں وہ تیزی باقی نہیں رہے گی جو اللہ کے عذاب کی جگہ سے بھاگنے میں ہونی چاہیے اور وطن چھوڑتے وقت حسرت سے اسے بار بار دیکھنے کے بجائے بس آگے بڑھتے جاؤ، تاکہ نہ دل کسی اور طرف متوجہ ہو اور نہ اللہ کے ذکر و شکر اور تمھاری رفتار میں کوئی کمی واقع ہو، نہ قوم کی بدترین بربادی دیکھتے ہوئے دل میں کوئی رقت پیدا ہو۔
➌ {وَ امْضُوْا حَيْثُ تُؤْمَرُوْنَ:} وہ جگہ اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمائی، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ تعجب ہوتا ہے کہ بعض مفسرین اس کے بغیر ہی {قِيْلَ} (کہا گیا ہے) کہہ کر کبھی شام، کبھی اردن اور کبھی مصر کا نام لیتے ہیں، یہ اندھیرے میں تیر پھینکنے والی بات ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ لہٰذا تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور تم ان سب کے پیچھے رہو اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے۔ اور وہاں جاؤ [33] جہاں تمہیں حکم دیا گیا ہے
[33] آپ کی تبلیغ کا مرکز سدوم کا شہر تھا۔ اور یہ عذاب اسی شہر اور اس کے مضافات پر آیا تھا۔ ان کا علاقہ عراق اور فلسطین کے درمیان واقع تھا جہاں آج کل شرق اردن ہے۔ یہاں سے آپ کو شام کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ سورۃ ہود میں واقعہ کی ترتیب یہ ہے کہ جب فرشتے سیدنا لوطؑ کے ہاں آئے تو قوم کے بدمعاش اور غنڈے فوراً سیدنا لوطؑ کے گھر پہنچ گئے۔ اور آپ کو اپنے ان مہمانوں کو ان غنڈوں سے بچانے کی فکر لاحق ہو گئی۔ تا آنکہ آپؑ نے یہ فرمایا کہ ”کاش! مجھ میں ان کی مدافعت کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا“ تو اس وقت فرشتوں نے اپنا تعارف کرایا اور تسلی دی کہ آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اور یہاں ترتیب یہ ہے کہ عذاب کا ذکر پہلے آیا ہے اور باقی تفصیلات بعد میں۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مضمون کے تسلسل اور مناسبت کی بنا پر عذاب کا ذکر پہلے کر دیا گیا ہے ورنہ واقعہ کی اصل ترتیب وہی ہے جو پہلے سورۃ ہود میں مذکور ہوئی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

لوط علیہ السلام کو ہدایات ٭٭
حضرت لوط علیہ السلام سے فرشتے کہہ رہے ہیں کہ ’ رات کا کچھ حصہ گزر تے ہی آپ اپنے والوں کو کر یہاں سے چلے جائیں۔ خود آپ علیہ السلام ان سب کے پیچھے رہیں تاکہ ان کی اچھی طرح نگرانی کر چکیں ‘۔
یہی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے آخر میں چلا کرتے تھے تاکہ کمزور اور گرے پڑے لوگوں کا خیال رہے۔
پھر فرما دیا کہ ’ جب قوم پر عذاب آئے اور ان کا شور و غل سنائی دے تو ہرگز ان کی طرف نظریں نہ اٹھانا ‘، انہیں اسی عذاب و سزا میں چھوڑ کر تمہیں جانے کا حکم ہے، چلے جاؤ گویا ان کے ساتھ کوئی تھا جو انہیں راستہ دکھاتا جائے۔ ’ ہم نے پہلے ہی سے لوط (‏‏‏‏علیہ السلام) سے فرما دیا تھا کہ صبح کے وقت یہ لوگ مٹا دئیے جائیں گے ‘۔
جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «نَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ» ۱؎ [11-ھود:81]‏‏‏‏ ’ ان کے عذاب کا وقت صبح ہے جو بہت ہی قریب ہے ‘۔