(آیت64،63){قَالُوْابَلْجِئْنٰكَبِمَاكَانُوْافِيْهِيَمْتَرُوْنَ …: ”اِمْتِرَاءٌ“} سے مضارع معلوم ہے، ایسا شک جو انسان کو ایسی بات پر جھگڑنے کے لیے آمادہ کرے جس کی حقیقت کچھ نہ ہو، بلکہ وہ صرف وہم و گمان پر مبنی ہو۔ (طنطاوی) اس لیے اس میں جھگڑے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ فرشتوں نے لوط علیہ السلام کو تسلی دینے کے لیے یہ بات کہی کہ ہم تمھیں پریشان کرنے کے لیے نہیں آئے، بلکہ وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے اور جھگڑتے رہے ہیں اور واقعی ہم سچ کہہ رہے ہیں۔ {”بِالْحَقِّ“} سے مراد عذاب ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ مَانُنَزِّلُالْمَلٰٓىِٕكَةَاِلَّابِالْحَقِّوَمَاكَانُوْۤااِذًامُّنْظَرِيْنَ }»[الحجر: ۸]”ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق (یعنی عذاب) کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیے گئے نہیں ہوتے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
63۔ 1 یعنی عذاب الٰہی، جس میں تیری قوم کو شک ہے کہ وہ آ بھی سکتا ہے؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
63۔ وہ کہنے لگے: ”بلکہ ہم تو تمہارے پاس وہ (عذاب) لائے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔