ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحجر (15) — آیت 62

قَالَ اِنَّکُمۡ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿۶۲﴾
تو اس نے کہا تم تو ایسے لوگ ہو جن کی جان پہچان نہیں۔ En
تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا سے لوگ ہو
En
تو انہوں (لوط علیہ السلام) نے کہا تم لوگ تو کچھ انجان سے معلوم ہو رہے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت62){قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ:} جن کی جان پہچان نہ ہو، اجنبی، اُوپرے۔ ابراہیم علیہ السلام کی طرح لوط علیہ السلام بھی انھیں پہچان نہ سکے۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ دوسری ساری مخلوق کی طرح یہ دونوں جلیل القدر انبیاء بھی عالم الغیب نہ تھے، ورنہ وہ ان کے آنے سے پہلے ہی انھیں جانتے ہوتے اور ان کے آنے سے باخبر ہوتے، بلکہ ابراہیم علیہ السلام کو پہلے ہی معلوم ہوتا کہ مجھے اتنی عمر میں اسحاق عطا ہوں گے اور لوط علیہ السلام کو پہلے ہی اپنی قوم کا انجام معلوم ہوتا، مگر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ابراہیم علیہ السلام کا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے پر صبر، آگ میں ڈالے جانے پر بھی استقامت کا اظہار، جبار مصر کی زیادتی کی آزمائش پر صبر، ہاجر اور اسماعیل کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑنے پر صبر، غرض ان کی کوئی آزمائش، آزمائش نہیں رہے گی، کیونکہ اگر پہلے علم ہو کہ ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا تو ہر شخص آگ میں کود سکتا ہے اور بیٹے کی گردن پر چھری چلانے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ شیعہ حضرات نے تو انبیاء کے علاوہ اپنے بارہ اماموں کو ہر گزری ہوئی اور آنے والی بات جاننے والا قرار دیا۔ دیکھیے ان کی کتاب الکافی کی فہرست، جسے وہ اتنا معتبر سمجھتے ہیں جتنا اہل سنت صحیح بخاری کو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62۔ 1 یہ فرشتے حسین نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے اور حضرت لوط ؑ کے لئے بالکل انجان تھے، اس لئے انہوں نے ان سے اجنبیت اور بیگانگی کا اظہار کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ تو لوط نے انھیں کہا: ”تم تو کچھ اجنبی لوگ معلوم [32] ہوتے ہو“
[32] سیدنا لوط اور آل لوط کو نکل جانے کا حکم اور ہدایات:۔
یہ فرشتے جب لوطؑ کے ہاں آئے تو خوبصورت اور بے ریش نوجوانوں کی صورت میں آئے۔ سیدنا لوطؑ کے یہ مہمان بالکل اجنبی مہمان تھے۔ آپ کو بھی ان کی آمد سے خطرہ محسوس ہوا لیکن آپ کے خطرہ کی نوعیت بالکل الگ تھی۔ آپ اپنی قوم کا حال بھی جانتے تھے اور یہ نوجوان لڑکے بہت خوبصورت تھے لہٰذا دل ہی دل میں آپ پیش آنے والے حالات سے سخت خوفزدہ تھے۔ فرشتوں نے آپ کو اصل صورت حال بتلا کر آپ کے اس خوف کو دور کر دیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ اس مجرم قوم کے گناہوں کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ لہٰذا ہم ان کے مکمل استیصال کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ اب آپ ایسا کریں کہ جب گہری رات چھا جائے تو آپ اپنے گھر والوں اور ایمان دار لوگوں کو ساتھ لے کر یہاں سے نکل جائیں۔ البتہ تمہاری بیوی تمہارے ساتھ نہیں جائے گی۔ کیونکہ وہ ان لوگوں کے گناہوں میں برابر کی شریک ہے۔ صبح دم ان پر عذاب آنے والا ہے اور جب تم نکلو تو خود سب سے پیچھے رہو اور تم لوگوں میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے کیونکہ یہ نہ تو تماشا دیکھنے کا وقت ہے اور نہ مجرم قوم کی ہلاکت پر آنسو بہانے کا بلکہ اگر کوئی آدمی پیچھے کھڑا رہ گیا تو ممکن ہے اسے بھی کچھ گزند پہنچ جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دو حسین لڑکے ٭٭
یہ فرشتے نو جوان حسین لڑکوں کی شکل میں حضور لوط علیہ السلام کے پاس گئے۔ تو لوط علیہ السلام نے کہا تم بالکل نا شناس اور انجان لوگ ہو۔
تو فرشتوں نے راز کھول دیا کہ ہم اللہ کا عذاب لے کر آئے ہیں جسے آپ علیہ السلام کی قوم نہیں مانتی اور جس کے آنے میں شک شبہ کر رہی تھی۔ ہم حق بات اور قطعی حکم لے کر آئے ہیں اور «مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ» ’ فرشتے حقانیت کے ساتھ ہی نازل ہوا کرتے ہیں ‘ ۱؎ [15-الحجر:8]‏‏‏‏ اور ہم ہیں بھی سچے۔ جو خبر آپ کو دے رہے ہیں وہ ہو کر رہے گی کہ آپ نجات پائیں اور آپ علیہ السلام کی یہ کافر قوم ہلاک ہوگی۔