اس آیت کی تفسیر آیت 54 میں تا آیت 56 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
55۔ 1 کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو خلاف نہیں ہوسکتا۔ علاوہ ازیں وہ ہر بات پر قادر ہے، کوئی بات اس کے لئے ناممکن نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
55۔ [29] وہ کہنے لگے:“ ہم تجھے سچی بشارت دے رہے ہیں لہذا مایوس [30] نہ ہو
[29] سورۃ ہود میں اور اس مقام میں قدرے اختلاف ہے سورۃ ہود کے مطابق فرشتوں نے یہ خوشخبری سیدنا ابراہیمؑ کی بیوی سارہ کو دی تھی جو پاس ہی کھڑی فرشتوں اور سیدنا ابراہیمؑ کا مکالمہ سن رہی تھی۔ اس نے بھی اس بڑھاپے کی عمر میں بچہ پیدا ہونے کی بشارت پر تعجب کا اظہار کیا تھا اور سیدنا ابراہیمؑ نے بھی از راہ تعجب فرشتوں سے یہی بات پوچھی کہ یہ کیا خوشخبری دے رہے ہو؟ [30] سیدنا ابراہیمؑ کا یہ تعجب اس لیے نہ تھا کہ وہ اس بات کو نا ممکن سمجھتے تھے یا اللہ کی رحمت سے مایوس ہو چکے تھے بلکہ اس لیے تھا کہ وہ اس تکرار سے تاکید مزید اور اسی نسبت سے اپنی مسرت میں مزید اضافہ کے خواہشمند تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔