رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ کَانُوۡا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۲﴾
بہت بار چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش! وہ کسی طرح کے مسلم ہوتے۔
En
کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے
En
وه بھی وقت ہوگا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت2) ➊ {رُبَمَا:”رُبَّ “ } حرف جر ہے، {”مَا“} بمعنی وقت۔ {”رُبَّ “} کا لفظ تقلیل کے لیے آتا ہے، یعنی کسی وقت، جیسے: {”رُبَّ أَخٍ لَمْ تَلِدْهُ اُمُّكَ“} ”کئی بھائی ہیں جنھیں تیری ماں نے نہیں جنا“ اور تکثیر کے لیے بھی، مثلاً {”رُبَّمَا يَنْجُو الذَّكِيُّ“} ”بہت دفعہ ذہین آدمی کامیاب ہو جاتا ہے۔“ فرق موقع کو ملحوظ رکھ کر ہوتا ہے، مثلاً یہی مثال اگر اس طرح ہو کہ{ ” رُبَّمَا يَنْجُ الْكَسُوْلُ “} تو معنی ہو گا ”کسی وقت سست آدمی بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔“ اس آیت میں بعض علماء نے یہ لفظ تقلیل کے لیے قرار دیا ہے، یعنی ”کسی وقت “ اور بعض نے تکثیر کے لیے، یعنی بہت بار، صاحب مغنی اللبیب کے بقول یہاں یہی معنی راجح ہے، کیونکہ مرنے کے بعد کفار کا ہر لمحہ اسی حسرت میں گزرے گا۔ {” لَوْ “} تمنی کے لیے ہے۔ ایسی چیز کی خواہش جو ناممکن ہو تمنی کہلاتی ہے، ممکن کی خواہش ”ترجّی“ کہلاتی ہے۔
➋ { يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا:} یہ سورت مکی ہے، جب مسلمان ہر طرح کمزور اور مغلوب تھے تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تسلی دی کہ وہ وقت آ رہا ہے جب یہ کافر چاہیں گے کہ کاش! وہ مسلمان ہوتے، مگر وقت نکل جانے کے بعد کسی کام کی خواہش کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس وقت سے مراد دنیا میں ایسے مواقع بھی ہیں جب مسلمانوں کو فتح و کامرانی اور کفار کو شکست و رسوائی حاصل ہو گی، جیسے بدر، خیبر اور فتح مکہ وغیرہ اور کفار چاہیں گے کہ اس وقت مسلمان ہوتے تو ہمیں بھی یہ عزت و غنیمت ملتی اور موت کے وقت بھی اس تمنا کا اظہار کریں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ (99) لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا }» [المؤمنون: ۹۹، ۱۰۰] ”یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو کہتا ہے اے میرے رب! مجھے واپس بھیجو، تاکہ میں جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کر لوں۔ ہر گز نہیں، یہ توایک بات ہے جسے وہ کہنے والاہے۔“ پھر موت کے بعد کی سختیوں میں، خصوصاً جب آگ میں داخل ہونے کو ہوں گے، فرمایا: «{ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ }» [الأنعام: ۲۷] ”اور کاش! تو دیکھے جب وہ آگ پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش! ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والوں میں سے ہو جائیں۔“ اور سب سے زیادہ حسرت کے ساتھ یہ خواہش اس وقت کریں گے جب مسلمانوں میں سے جہنم میں جانے والے سب کے سب جہنم سے نکال لیے جائیں گے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل نار آگ میں جمع ہو جائیں گے اور ان کے ساتھ اہلِ قبلہ میں سے بھی وہ لوگ ہوں گے جنھیں اللہ چاہے گا تو کفار مسلمانوں سے کہیں گے: ”کیا تم مسلم نہیں تھے؟“ وہ کہیں گے: ”کیوں نہیں؟“ کفار کہیں گے: ”پھر تمھارے اسلام نے تمھیں کیا فائدہ دیا کہ تم بھی ہمارے ساتھ آگ میں پہنچ گئے؟“ وہ کہیں گے: ”ہمارے کچھ گناہ تھے جن کی و جہ سے ہم پکڑے گئے۔“ انھوں نے جو کچھ کہا اللہ تعالیٰ اسے سنے گا اور جو اہل قبلہ میں سے ہوں گے ان کے متعلق حکم دے گا اور وہ نکال لیے جائیں گے، تو جب جہنمی یہ دیکھیں گے تو کہیں گے: ”کاش! ہم بھی مسلم ہوتے اور ہم بھی اسی طرح نکل جاتے جیسے یہ نکلے ہیں۔“ (ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ الٓرٰ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ (1) رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ }» [السنۃ لابن أبي عاصم، باب ذکر من یخرج اللہ بتفضلہ من النار: ۸۴۳۔ مستدرک حاکم: ۲ / ۲۴۲، ح: ۲۹۵۴] شیخ البانی رحمہ اللہ نے ”ظلال السنۃ“ میں اسے صحیح کہا ہے اور اس مفہوم کی کئی احادیث بیان کی ہیں۔
➌ {” مُسْلِمِيْنَ “} نکرہ ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”کاش! وہ کسی طرح کے مسلمان ہوتے“ یعنی گناہ گار بھی ہوتے تو آخر جہنم سے نکل ہی جاتے۔
➋ { يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا:} یہ سورت مکی ہے، جب مسلمان ہر طرح کمزور اور مغلوب تھے تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تسلی دی کہ وہ وقت آ رہا ہے جب یہ کافر چاہیں گے کہ کاش! وہ مسلمان ہوتے، مگر وقت نکل جانے کے بعد کسی کام کی خواہش کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس وقت سے مراد دنیا میں ایسے مواقع بھی ہیں جب مسلمانوں کو فتح و کامرانی اور کفار کو شکست و رسوائی حاصل ہو گی، جیسے بدر، خیبر اور فتح مکہ وغیرہ اور کفار چاہیں گے کہ اس وقت مسلمان ہوتے تو ہمیں بھی یہ عزت و غنیمت ملتی اور موت کے وقت بھی اس تمنا کا اظہار کریں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ (99) لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا }» [المؤمنون: ۹۹، ۱۰۰] ”یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو کہتا ہے اے میرے رب! مجھے واپس بھیجو، تاکہ میں جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کر لوں۔ ہر گز نہیں، یہ توایک بات ہے جسے وہ کہنے والاہے۔“ پھر موت کے بعد کی سختیوں میں، خصوصاً جب آگ میں داخل ہونے کو ہوں گے، فرمایا: «{ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ }» [الأنعام: ۲۷] ”اور کاش! تو دیکھے جب وہ آگ پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش! ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والوں میں سے ہو جائیں۔“ اور سب سے زیادہ حسرت کے ساتھ یہ خواہش اس وقت کریں گے جب مسلمانوں میں سے جہنم میں جانے والے سب کے سب جہنم سے نکال لیے جائیں گے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل نار آگ میں جمع ہو جائیں گے اور ان کے ساتھ اہلِ قبلہ میں سے بھی وہ لوگ ہوں گے جنھیں اللہ چاہے گا تو کفار مسلمانوں سے کہیں گے: ”کیا تم مسلم نہیں تھے؟“ وہ کہیں گے: ”کیوں نہیں؟“ کفار کہیں گے: ”پھر تمھارے اسلام نے تمھیں کیا فائدہ دیا کہ تم بھی ہمارے ساتھ آگ میں پہنچ گئے؟“ وہ کہیں گے: ”ہمارے کچھ گناہ تھے جن کی و جہ سے ہم پکڑے گئے۔“ انھوں نے جو کچھ کہا اللہ تعالیٰ اسے سنے گا اور جو اہل قبلہ میں سے ہوں گے ان کے متعلق حکم دے گا اور وہ نکال لیے جائیں گے، تو جب جہنمی یہ دیکھیں گے تو کہیں گے: ”کاش! ہم بھی مسلم ہوتے اور ہم بھی اسی طرح نکل جاتے جیسے یہ نکلے ہیں۔“ (ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ الٓرٰ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ (1) رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ }» [السنۃ لابن أبي عاصم، باب ذکر من یخرج اللہ بتفضلہ من النار: ۸۴۳۔ مستدرک حاکم: ۲ / ۲۴۲، ح: ۲۹۵۴] شیخ البانی رحمہ اللہ نے ”ظلال السنۃ“ میں اسے صحیح کہا ہے اور اس مفہوم کی کئی احادیث بیان کی ہیں۔
➌ {” مُسْلِمِيْنَ “} نکرہ ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”کاش! وہ کسی طرح کے مسلمان ہوتے“ یعنی گناہ گار بھی ہوتے تو آخر جہنم سے نکل ہی جاتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
2۔ 1 یہ آرزو کب کریں گے؟ موت کے وقت، جب فرشتے انھیں جہنم کی آگ دکھاتے ہیں یا جب جہنم میں چلے جائیں گے یا اس وقت جب گنہگار ایمانداروں کو کچھ عرصہ بطور سزا، جہنم میں رکھنے کے بعد جہنم سے نکالا جائے گا یا میدان محشر میں، جہاں حساب کتاب ہو رہا ہوگا اور کافر دیکھیں گے کہ مسلمان جنت میں جا رہے ہیں تو آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے۔ رُبَمَا اصل میں تو تکثیر کے لئے ہے لیکن کبھی کمی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کی طرف سے یہ آرزو ہر موقعے پر ہوتی رہے گی لیکن اس کا انھیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ ایک وقت [2] آئے گا جب کافر یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے
[2] کافر کون کون سے وقت مسلمان ہونے کی خواہش کریں گے؟
ربما تکثیر اور تقلیل دونوں مواقع پر استعمال ہوتا ہے یعنی اس کا معنی بسا اوقات اور اکثر اوقات بھی ہو سکتا ہے اور ”کبھی کبھی“ بھی۔ اور اس لفظ کا استعمال بالخصوص اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا متوقع ہو لیکن وہ یاد نہ کرے تو اسے کہتے ہیں کہ کبھی تو ہمیں یاد کرو گے۔ اور اس سے مراد ہر وہ وقت ہو سکتا ہے جب کسی کافر کو اپنی سابقہ زندگی اور اعمال پر حسرت اور ندامت ہو اور اپنے مقابلہ میں مسلمانوں کو عزت اور فلاح و بہبود سے سرفراز ہوتا دیکھے۔ جیسے غزوہ بدر کے موقع پر کافروں کی خوب پٹائی ہوئی اور مسلمانوں کو عزت اور فتح نصیب ہوئی اور ایسے مواقع بے شمار ہو سکتے ہیں۔ دنیا میں بھی، آخرت میں بھی حتیٰ کہ موت کے وقت بھی۔ جب فرشتے مہیب شکل و صورت میں کافر کی جان نکالنے کے لیے آئیں گے اور ایسی آرزو کا آخری موقع وہ ہو گا جب قیامت کے دن کافر کچھ گنہگار مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ دوزخ میں دیکھ کر کہیں گے۔ تم بھی ہمارے ساتھ دوزخ میں ہو تو تمہارے ایمان اور توحید نے تمہیں کیا فائدہ دیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ کسی موحد کو جہنم میں نہ رہنے دے گا۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی گویا یہ آخری موقع ہو گا جب کافر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعد ازمرگ پشیمانی ٭٭
کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہو گی۔
اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ’ جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں ‘۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔
سیدنا ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ گنہگار مسلمانوں کو جہنم میں مشرکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ روک لے گا تو مشرک ان مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس اللہ کی تم دنیا میں عبادت کرتے رہے اس نے تمہیں آج کیا فائدہ دیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اور ان مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا۔
اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ’ جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں ‘۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔
سیدنا ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ گنہگار مسلمانوں کو جہنم میں مشرکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ روک لے گا تو مشرک ان مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس اللہ کی تم دنیا میں عبادت کرتے رہے اس نے تمہیں آج کیا فائدہ دیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اور ان مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا۔
اس وقت کافر تمنا کریں گے کا کاش وہ بھی دنیا میں مسلمان ہوتے۔ ایک روایت میں ہے کہ مشرکوں کے اس طعنے پر اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ ’ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے آزاد کر دو ‘، الخ۔
طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے کہنے والوں میں بعض لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے جہنم میں جائیں گے پس لات و عزیٰ کے پجاری ان سے کہیں گے کہ تمہارے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے نے تمہیں کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ ہی جہنم میں جل رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اللہ ان سب کو وہاں سے نکال لے گا۔ اور نہر حیات میں غوطہٰ دے کر انہیں ایسا کر دے گا جیسے چاند گہن سے نکلا ہو۔ پھر یہ سب جنت میں جائیں گے وہاں انہیں جہنمی کہا جائے گا }۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر کسی نے کہا کیا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مجھ پر قصداً جھوٹ بولنے والا اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔“ ۱؎ [طبرانی:7289:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { مشرک لوگ اہل قبلہ سے کہیں گے کہ تم تو مسلمان تھے پھر تمہیں اسلام نے کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے گناہ تھے جن کی پاداش میں ہم پکڑے گئے الخ، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چھٹکارے کے وقت کفار کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور ان کی طرح جہنم سے چھٹکارا پاتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» پڑھ کر شروع سورت سے مسلمین تک تلاوت فرمائی۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں اعوذ کے بدلے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا پڑھنا ہے }۔۱؎ [طبرانی کبیر:48/7:صحیح الاسناد]
طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے کہنے والوں میں بعض لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے جہنم میں جائیں گے پس لات و عزیٰ کے پجاری ان سے کہیں گے کہ تمہارے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے نے تمہیں کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ ہی جہنم میں جل رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اللہ ان سب کو وہاں سے نکال لے گا۔ اور نہر حیات میں غوطہٰ دے کر انہیں ایسا کر دے گا جیسے چاند گہن سے نکلا ہو۔ پھر یہ سب جنت میں جائیں گے وہاں انہیں جہنمی کہا جائے گا }۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر کسی نے کہا کیا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مجھ پر قصداً جھوٹ بولنے والا اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔“ ۱؎ [طبرانی:7289:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { مشرک لوگ اہل قبلہ سے کہیں گے کہ تم تو مسلمان تھے پھر تمہیں اسلام نے کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے گناہ تھے جن کی پاداش میں ہم پکڑے گئے الخ، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چھٹکارے کے وقت کفار کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور ان کی طرح جہنم سے چھٹکارا پاتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» پڑھ کر شروع سورت سے مسلمین تک تلاوت فرمائی۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں اعوذ کے بدلے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا پڑھنا ہے }۔۱؎ [طبرانی کبیر:48/7:صحیح الاسناد]
اور روایت میں ہے کہ { ان مسلمان گنہگاروں سے مشرکین کہیں گے کہ تم تو دینا میں یہ خیال کرتے تھے کہ تم اولیاء اللہ ہو پھر ہمارے ساتھ یہاں کیسے؟ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کی اجازت دے گا۔ پس فرشتے اور نبی اور مومن شفاعت کریں گے اور اللہ انہیں جہنم سے چھوڑا جائے گا، اس وقت مشرک لوگ کہیں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے تو شفاعت سے محروم نہ رہتے اور ان کے ساتھ جہنم سے چھوٹ جاتے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8106:ضعیف]
یہی معنی اس آیت کے ہیں یہ لوگ جب جنت میں جائیں گے تو ان کے چہروں پر قدرے سیاہی ہو گی اس وجہ سے انہیں جہنمی کہا جاتا ہو گا۔ پھر یہ دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ لقب بھی ہم سے ہٹا دے پس انہیں جنت کی ایک نہر میں غسل کرنے کا حکم ہو گا اور وہ نام بھی ان سے دور کر دیا جائے گا۔
ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بعض لوگوں کو آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑ لے گی اور بعض کو زانوں تک اور بعض کو گردن تک جیسے جن کے گناہ اور جیسے جن کے اعمال ہوں گے۔ بعض ایک مہینے کی سزا بھگت کر نکل آئیں گے سب سے لمبی سزا والا وہ ہوگا جو جہنم میں اتنی مدت رہے گا جتنی مدت دنیا کی ہے یعنی دنیا کے پہلے دن سے دنیا کے آخری دن تک۔ جب ان کے نکالنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کر لے گا اس وقت یہود و نضاری اور دوسرے دین والے جہنمی ان اہل توحید سے کہیں گے کہ تم اللہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ایمان لائے تھے پھر بھی آج ہم اور تم جہنم میں یکساں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو سخت غصہ آئے گا کہ ان کی اور کسی بات پر اتنا غصہ نہ آیا تھا پھر ان موحدوں کو جہنم سے نکال کر جنت کی نہر کے پاس لایا جائے گا۔ یہ ہے فرمان آیت «رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ» ۱؎ [15-الحجر:2] میں ہے }۔ ۱؎ [ابن الجوزی فی العلل المتناهییة:1568/2:ضعیف]
پھر بطور ڈانٹ کے فرماتا ہے کہ «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» ۱؎ [14-ابراھیم:30] ’ انہیں کھاتے پیتے اور مزے کرتے چھوڑ دے آخر تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے ‘۔
تم کھا پی لو، تمہارا مجرم ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ انہیں ان کی دور دراز کی خواہشیں توبہ کرنے سے، اللہ کی طرف جھکنے سے غافل رکھیں گی۔ عنقریب حقیقت کھل جائے گی۔
یہی معنی اس آیت کے ہیں یہ لوگ جب جنت میں جائیں گے تو ان کے چہروں پر قدرے سیاہی ہو گی اس وجہ سے انہیں جہنمی کہا جاتا ہو گا۔ پھر یہ دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ لقب بھی ہم سے ہٹا دے پس انہیں جنت کی ایک نہر میں غسل کرنے کا حکم ہو گا اور وہ نام بھی ان سے دور کر دیا جائے گا۔
ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بعض لوگوں کو آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑ لے گی اور بعض کو زانوں تک اور بعض کو گردن تک جیسے جن کے گناہ اور جیسے جن کے اعمال ہوں گے۔ بعض ایک مہینے کی سزا بھگت کر نکل آئیں گے سب سے لمبی سزا والا وہ ہوگا جو جہنم میں اتنی مدت رہے گا جتنی مدت دنیا کی ہے یعنی دنیا کے پہلے دن سے دنیا کے آخری دن تک۔ جب ان کے نکالنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کر لے گا اس وقت یہود و نضاری اور دوسرے دین والے جہنمی ان اہل توحید سے کہیں گے کہ تم اللہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ایمان لائے تھے پھر بھی آج ہم اور تم جہنم میں یکساں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو سخت غصہ آئے گا کہ ان کی اور کسی بات پر اتنا غصہ نہ آیا تھا پھر ان موحدوں کو جہنم سے نکال کر جنت کی نہر کے پاس لایا جائے گا۔ یہ ہے فرمان آیت «رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ» ۱؎ [15-الحجر:2] میں ہے }۔ ۱؎ [ابن الجوزی فی العلل المتناهییة:1568/2:ضعیف]
پھر بطور ڈانٹ کے فرماتا ہے کہ «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» ۱؎ [14-ابراھیم:30] ’ انہیں کھاتے پیتے اور مزے کرتے چھوڑ دے آخر تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے ‘۔
تم کھا پی لو، تمہارا مجرم ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ انہیں ان کی دور دراز کی خواہشیں توبہ کرنے سے، اللہ کی طرف جھکنے سے غافل رکھیں گی۔ عنقریب حقیقت کھل جائے گی۔
اتمام حجت کے بعد ٭٭
’ ہم کسی بستی کو دلیلیں پہنچانے اور ان کا مقرر وقت ختم ہونے سے پہلے ہلاک نہیں کرتے۔ ہاں جب وقت مقررہ آ جاتا ہے پھر تقدیم تاخیر ناممکن ہے ‘۔
اس میں اہل مکہ کی تنبیہ ہے کہ وہ شرک سے الحاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے باز آ جائیں ورنہ مستحق ہلاکت ہو جائیں گے اور اپنے وقت پر تباہ ہو جائیں گے۔
اس میں اہل مکہ کی تنبیہ ہے کہ وہ شرک سے الحاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے باز آ جائیں ورنہ مستحق ہلاکت ہو جائیں گے اور اپنے وقت پر تباہ ہو جائیں گے۔