(آیت13،12){كَذٰلِكَنَسْلُكُهٗفِيْقُلُوْبِالْمُجْرِمِيْنَ …: ”نَسْلُكُهٗ“} میں {” هٗ “} ضمیر کے متعلق مفسرین نے دو وجہیں بیان کی ہیں، بعض نے کہا کہ {”هٗ“} کی ضمیر {”الذِّكْرَ“} کی طرف جا رہی ہے، یعنی ہم مجرموں کے دلوں کے اندر ذکر کو داخل کر دیتے ہیں اور وہ اسے اچھی طرح سنتے اور سمجھتے ہیں، مگر اس طرح کہ وہ باوجود دل سے سمجھنے کے اس پر ایمان بالکل نہیں لاتے اور پہلے لوگوں میں بھی یہی طریقہ گزر چکا ہے اور وہ اسی کی پاداش میں تباہ کیے جاتے رہے ہیں۔ زمخشری، رازی اور سید طنطاوی کی تفسیر کے مطابق {”نَسْلُكُهٗ“} اور {”لَايُؤْمِنُوْنَبِهٖ“} میں ضمیر غائب کا مرجع ایک رہتا ہے۔ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ نے بھی یہی تفسیر ذکر فرمائی ہے۔ دوسری تفسیر امام المفسرین طبری رحمہ اللہ کی ہے کہ {”نَسْلُكُهٗ“} میں ضمیر{ ”هٗ “} ”استہزا و کفر“ کی طرف جاتی ہے، یعنی ہم مجرموں کے جرائم کی پاداش میں ان کے دلوں میں کفر و استہزا داخل کر دیتے ہیں، اس طرح کہ وہ اللہ کے نازل کردہ ذکر پر بالکل ایمان نہیں لاتے، بلکہ اس سے استہزا کرتے ہیں اور پہلے لوگوں کا طریقہ بھی یہی رہا ہے۔ دونوں تفسیروں کا نتیجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 یعنی کفر اور رسولوں کا استہزاء ہم مجرموں کے دلوں میں دیتے ہیں یا رچا دیتے ہیں، یہ نسبت نے اپنی طرف اس لئے کی کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے گو ان کا فعل ان کی مسلسل معصیت کے نتیجے میں اللہ کی مشیت سے رونما ہوا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ ہم مجرموں کے دلوں میں ایسی ہی باتیں داخل کر دیتے ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔