ترجمہ و تفسیر — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 7

وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکُمۡ لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَ لَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿۷﴾
اور جب تمھارے رب نے صاف اعلان کر دیا کہ بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمھیں زیادہ دوں گا اور بے شک اگر تم نا شکری کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب یقینا بہت سخت ہے۔ En
اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کہ) میرا عذاب بھی سخت ہے
En
اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت7) ➊ { وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ: آذَنَ يُؤْذِنُ} کا معنی اطلاع دینا، اعلان کرنا ہے۔ باب تفعل میں جانے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا ہے صاف اعلان کر دیا۔
➋ { لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ:} کیونکہ کسی کے بھی احسان کی قدر دانی اور اس کا شکریہ ادا کرنے سے اس کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ کا توکہنا ہی کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللّٰهِ، مِنْ أَجْلِ ذٰلِكَ وَعَدَ اللّٰهُ الْجَنَّةَ] [مسلم، اللعان: ۱۴۹۹]کوئی شخص ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنی تعریف پسند ہو، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کو زبانی شکر اتنا پسند ہے تو عملاً شکر اور اطاعت پر اس کی نوازش کس قدر ہو گی۔
➌ { وَ لَىِٕنْ كَفَرْتُمْ:} اس کا جواب تو یہ تھا {لَأُعَذِّبَنَّكُمْ} کہ اگر تم کفر کرو گے تو میں تمھیں ضرور عذاب دوں گا، مگر اسے حذف کرکے ایسا جملہ استعمال فرمایا جو اس جملے کا مفہوم بھی ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی نہایت شدت کو بھی، یعنی فرمایا: «{وَ لَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ اور یہ بھی قرآن کا اعجاز ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 اس نے تمہیں اپنے وعدے سے تمہیں آگاہ اور خبردار کردیا ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ قسم کے معنی میں ہو یعنی جب تمہارے رب نے اپنی عزت و جلال اور کبریائی کی قسم کھا کر کہا (ابن کثیر) 7۔ 2 نعمت پر شکر کرنے پر مذید انعامات سے نوازوں گا، 7۔ 3 اس کا مطلب یہ ہوا کہ کفران نعمت (ناشکری) اللہ کو ناپسند ہے، جس پر اس نے سخت عذاب کی وعید بیان فرمائی ہے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ عورتوں کی اکثریت اپنے خاوندوں کی ناشکری کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گی (صحیح مسلم)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا تھا: اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو پھر میرا [9] عذاب بھی بڑا سخت ہے
[9] شکر اور اس کا فائدہ:۔
شکر یا احسان شناسی میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھ دی ہے کہ بھلائی کو بحال رکھتی ہے بلکہ مزید بھلائیوں کو بھی اپنی طرف جذب کرتی ہے اور ناشکری یا احسان فراموشی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے احسان نا شناس سے پہلی نعمت بھی چھن جاتی ہے اور حالات مزید بد تر پیدا ہو جاتے ہیں اور یہ نتائج اس دنیا سے گذر کر آخرت تک بھی چلتے ہیں۔ اس مضمون کی تفصیل کے لیے ہم یہاں دو احادیث درج کرتے ہیں:
1۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے ایک کوڑھی، ایک گنجا اور ایک اندھا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں آزمانا چاہا اور ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور کہنے لگا، ”تم کیا چاہتے ہو؟“ ”اچھا رنگ اور اچھی جلد، کیونکہ لوگ مجھ سے نفرت و کراہت کرتے ہیں“ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اس کا رنگ اور جلد درست ہو گئی۔ پھر فرشتے نے پوچھا، ”تمہیں کون سا مال پسند ہے؟“ وہ کہنے لگا ”اونٹ“ فرشتے نے اسے ایک دس ماہ کی اونٹنی مہیا کر دی اور کہا ”اللہ اس میں برکت دے گا“ پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور کہا ”تم کیا چاہتے ہو؟“ اس نے کہا ”یہی کہ میرا گنج جاتا رہے اور اچھے بال اگ آئیں“ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا وہ تندرست ہو گیا اور اچھے بال اگ آئے۔ پھر اس سے پوچھا ”تمہیں کون سا مال پسند ہے؟“ گنجے نے کہا ”گائیں“ چنانچہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ گائے مہیا کر دی اور کہا ”اللہ اس میں برکت دے گا“ پھر فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور پوچھا ”تم کیا چاہتے ہو؟“ اس نے کہا ”یہی کہ یہ میری بینائی مجھ کو مل جائے“ فرشتے نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ بینا ہو گیا۔ پھر اس سے پوچھا ”تمہیں کون سا مال پسند ہے؟“ اس نے کہا ”بکریاں“ چنانچہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ بکری مہیا کر دی اور کہا ”اللہ اس میں برکت دے گا“ کچھ مدت گزرنے پر کوڑھی کے پاس اونٹوں کا، گنجے کے پاس گائے کا اور اندھے کے پاس بکریوں کا بہت بڑا ریوڑ بن چکا تھا۔ اب فرشتہ پھر ان کے پاس (انسانی صورت میں) آیا۔ پہلے کوڑھی کے پاس گیا اور کہا ”میں محتاج آدمی ہوں میرا سب سامان جاتا رہا اب اللہ کی اور اس کے بعد تیری مدد کے بغیر میں کہیں پہنچ بھی نہیں سکتا۔ میں تم سے اس اللہ کے نام پر سوال کرتا ہوں جس نے تیرا رنگ اور جلد اچھی کر دی اور تجھے بہت سا مال دیا کہ ایک اونٹ مجھے دے دو تاکہ میں اپنے ٹھکانے پر پہنچ سکوں“ وہ کہنے لگا ”میں نے تو بہت سے لوگوں کا قرض دینا ہے“ فرشتے نے کہا ”میں تجھے پہچانتا ہوں تو کوڑھی تھا لوگ تجھ سے کراہت کرتے تھے اور تو محتاج تھا اور اللہ نے تم پر مہربانی کی اور یہ سب کچھ عطا کیا“ کوڑھی کہنے لگا ”واہ مجھے تو یہ سب کچھ باپ دادے کی وراثت سے ملا ہے“ فرشتے نے کہا: ”اگر تم نے جھوٹ بولا ہے تو اللہ تجھے تیری پہلی حالت میں لوٹا دے“ پھر وہ گنجے کے پاس آیا۔ اس سے بھی بالکل ویسے ہی سوال و جواب ہوئے جیسے کوڑھی سے ہوئے تھے اسے بھی فرشتے نے بالآخر یہی کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تجھے اپنی پہلی حالت میں پھیر دے۔ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور ویسے ہی سوال کیا جیسے کوڑھی اور گنجے سے کیا تھا۔ اندھا یہ سوال سن کر کہنے لگا ”واقعی میں اندھا تھا۔ اللہ نے مجھے بینائی بخشی۔ میں محتاج تھا اللہ نے مجھے مالدار کر دیا۔ اب تم نے مجھ سے اسی اللہ کے نام پر سوال کیا ہے جو کچھ چاہتے ہو لے لو میں روکوں گا نہیں۔“ فرشتے نے کہا، (میں محتاج نہیں فرشتہ ہوں) اپنی بکریاں اپنے ہی پاس رکھو۔ اللہ نے تم تین آدمیوں کو آزمایا تھا۔ اللہ تجھ سے تو خوش ہو گیا اور تیرے دونوں ساتھیوں (کوڑھی اور گنجے) سے ناراض ہوا۔ [بخاری، کتاب الانبیاء۔ باب ما ذکربنی عن اسرائیل حدیث ابرص واقرع واعمیٰ]
ناشکری کا انجام:۔
سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دوزخ دکھائی گئی۔ اس میں عورتیں زیادہ تھیں جو کفر کرتی ہیں ” صحابہ نے کہا “کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں؟” فرمایا: “نہیں وہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہوتی ہیں۔ اگر تم کسی عورت سے عمر بھر بھلائی کرو۔ پھر وہ تم سے کوئی ناگوار بات دیکھے تو کہہ دے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں“ [بخاری، کتاب الایمان۔ باب کفران العشیر وکفر دون کفر]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اولاد کا قاتل ٭٭
فرمان الٰہی کے مطابق موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں، مثلاً قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بے وقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے۔
یہ مطلب بھی اس جملے کا ہو سکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جیسے فرمان ہے «وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:168]‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انہیں بھلائی برائی سے آزما لیا کہ وہ لوٹ آئیں، جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگاہ کر دیا ‘۔ اور یہ معنی بھی ممکن ہیں کہ ’ جب اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اپنی عزت و جلالت اور کبریائی کی ‘۔ جیسے «وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ» ۱؎ [7-الأعراف:167]‏‏‏‏، میں۔
پس اللہ کا حتمی وعدہ ہوا اور اس کا اعلان بھی کہ شکر گزاروں کی نعمتیں اور بڑھ جائیں گی اور ناشکروں کی نعمتوں کے منکروں اور ان کے چھپانے والوں کی نعمتیں اور چھن جائیں گی اور انہیں سخت سزا ہو گی۔
حدیث میں ہے { بندہ بوجہ گناہ کے اللہ کی روزی سے محروم ہو جاتا ہے }۔[سنن ابن ماجه:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک سائل گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک کھجور دی۔ وہ بڑا بگڑا اور کھجور نہ لی۔ پھر دوسرا سائل گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی وہی کھجور دی اس نے اسے بخوشی لے لیا اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عطیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیس درہم دینے کا حکم فرمایا }۔
اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی سے فرمایا: { اسے لے جاؤ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چالیس درہم ہیں وہ اسے دلوا دو } }۔ [مسند احمد:155/3:ضعیف]‏‏‏‏
موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ تم سب اور روئے زمین کی تمام مخلوق بھی ناشکری کرنے لگے تو اللہ کا کیا بگاڑے گا؟ وہ بندوں سے اور ان کی شکر گزاری سے بے نیاز اور بےپرواہ ہے۔ تعریفوں کا مالک اور قابل وہی ہے۔
چنانچہ فرمان ہے «اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اِنَّهٗ عَلِـيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» ۱؎ [39-الزمر:7]‏‏‏‏ ’ تم اگر کفر کرو تو اللہ تم سے غنی ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «كَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ» ۱؎ [64-التغابن:6]‏‏‏‏ ’ انہوں نے کفر کیا منہ موڑ لیا تو اللہ نے ان سے مطلقاً بے نیازی برتی ‘۔
صحیح مسلم شریف میں حدیثِ قدسی ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے میرے بندو اگر تمہارے اول آخر انسان جن سب مل کر بہترین تقوے والے دل کے شخص جیسے بن جائیں تو اس سے میرا ملک ذرا سا بھی بڑھ نہ جائے گا اور اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بدترین دل کے بن جائیں تو اس وجہ سے میرے ملک میں سے ایک ذرہ بھی نہ گھٹے گا ‘۔
’ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان جن سب ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کا سوال پورا کر دوں تو بھی میرے پاس کے خزانوں میں اتنی ہی کمی آئے گی جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہو ‘ }۔ [صحیح مسلم:2577]‏‏‏‏ پس ہمارا رب پاک ہے بلند ہے غنی ہے اور حمید ہے۔