ترجمہ و تفسیر — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 49

وَ تَـرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ یَوۡمَئِذٍ مُّقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصۡفَادِ ﴿ۚ۴۹﴾
اور تو مجرموں کو اس دن زنجیروں میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑے ہوئے دیکھے گا۔ En
اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں
En
آپ اس دن گناه گاروں کو دیکھیں گے کہ زنجیروں میں ملے جلے ایک جگہ جکڑے ہوئے ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت49) ➊ {وَ تَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ: قَرَنٌ } قاف اور راء کے فتحہ کے ساتھ، وہ رسی جس میں دو بیل یا دو آدمی اکٹھے بندھے ہوتے ہیں۔ { مُقَرَّنِيْنَ } کئی آدمی جو آپس میں اکٹھے جکڑے ہوتے ہوں۔ سورۂ صٓ (۳۸) میں ہے: «{وَ اٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ یعنی سلیمان علیہ السلام کے تابع کئی جن کر دیے جو زنجیروں میں باہم جکڑے ہوئے تھے۔ لسان العرب میں ہے کہ { مُقَرَّنِيْنَ } یا تو{ مَقْرُوْنِيْنَ } کے معنی میں ہے، یا باب تفعیل تکثیر کے لیے ہے، یعنی کئی مجرم آپس میں زنجیروں میں بری طرح جکڑے ہوئے ہوں گے۔
➋ {فِي الْاَصْفَادِ: الْاَصْفَادِ صَفَدٌ} (فاء کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے جو اس زنجیر کو کہتے ہیں جو پاؤں میں ڈالی جائے، یا وہ طوق جس کے ساتھ ہاتھ پاؤں کو گردن کی طرف باندھ دیا جاتا ہے۔ [الوسیط للطنطاوی] یعنی اے مخاطب! تو اس دن کئی مجرموں کو ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں بندھے ہوئے دیکھے گا۔ ہر قسم کا مجرم اپنے جیسے مجرموں کے ساتھ جکڑا ہوا ہو گا۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۱۳) اور سورۂ حاقہ (۳۰ تا ۳۳) اور ہر فاسق اپنے جیسے فاسق کے ساتھ ہو گا۔ دیکھیے سورۂ صافات (۲۲، ۲۳) اور مریم (۶۸)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ اور اس دن آپ مجرموں کو زنجیروں [49] میں جکڑا ہوا دیکھیں گے
[49] مجرموں کی با پہ زنجیر پیشی:۔
مجرموں کو اللہ کے حضور قیدیوں کی صورت میں پابند سلاسل بنا کر پیش کیا جائے گا اور اس کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی نوعیت کے سب مجرموں کو اکٹھا کر کے سب کو ایک ہی زنجیر کے ذریعہ منسلک کر دیا جائے گا جیسا کہ قرآن کی بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جکڑے ہوئے مفسد انسان ٭٭
’ زمین و آسمان بدلے ہوئے ہیں۔ مخلوق اللہ کے سامنے کھڑی ہے، اس دن اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم دیکھو گے کہ کفر و فساد کرنے والے گنہگار آپس میں جکڑے بندھے ہوئے ہوں گے ہر ہر قسم کے گنہگار دوسروں سے ملے جلے ہوئے ہوں گے ‘۔
جیسے فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22]‏‏‏‏ ’ ظالموں کو اور ان کی جوڑ کے لوگوں کو اکٹھا کرو ‘
اور آیت میں ہے «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7]‏‏‏‏ ’ جب کہ نفس کے جوڑے ملا دیے جائیں ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:13]‏‏‏‏ یعنی ’ جب کہ جہنم کے تنگ مکان میں وہ ملے جلے ڈالے جائیں گے تو ہاں وہ موت موت پکاریں گے ‘۔ سلیمان علیہ السلام کے جنات کی بابت بھی «وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ» [38-ص:38، 37]‏‏‏‏ «أَصْفَادِ» کا لفظ ہے۔
«أَصْفَادِ» کہتے ہیں قید کی زنجیروں کو عمرو بن کلثوم کے شعر میں «فَآبُوا بِالثِّيَابِ وَبِالسَّبَايَا وأُبْنَا بِالْمُلُوكِ مُصَفَّدِينَا» ، «مُصَفَّدِ» زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کے معنی میں آیا ہے۔
جو کپڑے انہیں پہنائے جائیں گے وہ گندھک کے ہوں گے جو اونٹوں کو لگایا جاتا ہے اسے آگ تیزی اور سرعت سے پکڑتی ہے یہ لفظ «قَطِرَان» بھی ہے «قَطّرَانِ» بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، پگھلے ہوئے تانبے کو «قَطِرَانٍ» کہتے ہیں اس سخت گرم آگ جیسے تانبے کے ان دوزخیوں کے لباس ہوں گے۔‏‏‏‏
«تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:104]‏‏‏‏ ’ ان کے منہ بھی آگ میں ڈھکے ہوئے ہوں گے چہروں تک آگ چڑھی ہوئی ہوگی، سر سے شعلے بلند ہو رہے ہوں گے، منہ بگڑ گئے ہوں گے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جو ان سے نہ چھوٹیں گے حسب پر فخر، نسب میں طعنہ زنی، ستاروں سے بارش کی طلبی، میت پر نوحہ کرنے والی نے اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرلی تو اسے قیامت کے دن گندھک کا کرتا اور کھجلی کا دوپٹا پہنایا جائے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:342/5:صحیح]‏‏‏‏ مسلم میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح مسلم:934]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { وہ جنت دوزخ کے درمیان کھڑی کی جائے گی گندھک کا کرتا ہو گا اور منہ پر آگ کھیل رہی ہو گی }۔ [طبرانی کبیر:18/8-78:ضعیف]‏‏‏‏
«لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» ۱؎ [53-النجم:31]‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے کاموں کا بدلہ دے گا۔ بروں کی برائیاں سامنے آ جائیں گی نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے گا ‘۔
اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد ساری مخلوق کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ ممکن ہے یہ آیت بھی مثل «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1]‏‏‏‏ کے ہو یعنی ’ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا لیکن پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ پھیرے ہوئے ہی ہیں ‘۔ اور ممکن ہے کہ بندے کے حساب کے وقت کا بیان ہو۔ یعنی بہت جلد حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ کیونکہ وہ تمام باتوں کا جاننے والا ہے اس پر ایک بات بھی پوشیدہ نہیں۔ جیسے ایک ویسے ہی ساری مخلوق۔
جیسے فرمان ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» ۱؎ [31-لقمان:28]‏‏‏‏ ’ تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد کا زندہ کر دینا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو مارنا اور جلانا ‘۔
یہی معنی حضرت مجاہد رحمہ اللہ کے قول کے ہیں کہ حساب کے احاطے میں اللہ تعالیٰ بہت جلدی کرنے والا ہے۔‏‏‏‏ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں یعنی وقت حساب بھی قریب اور اللہ کو حساب میں دیر بھی نہیں۔ ادھر شروع ہوا ادھر ختم ہوا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔