یَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَیۡرَ الۡاَرۡضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوۡا لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۴۸﴾
جس دن یہ زمین اور زمین سے بدل دی جائے گی اور سب آسمان بھی اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا ہے، بڑا زبردست ہے۔
En
جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دیئے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ وزبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے
En
جس دن زمین اس زمین کے سوا اور ہی بدل دی جائے گی اور آسمان بھی، اور سب کے سب اللہ واحد غلبے والے کے روبرو ہوں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت48) ➊ {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ:} اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز زمین و آسمان کی موجودہ شکل و صورت بدل جائے گی۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَكُوْنُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَكْفَؤُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ] [بخاري، الرقاق، باب یقبض اللہ الأرض یوم القیامۃ: ۶۵۲۰۔ مسلم: ۲۷۹۲] ”قیامت کے دن زمین ایک روٹی بن جائے گی، جبار (اللہ تعالیٰ) اسے اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ کرے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفرمیں اپنی روٹی الٹ پلٹ کرتا ہے، اہلِ جنت کی مہمان نوازی کے لیے۔“ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے: [يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلٰی أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ كَقُرْصَةِ نَقِيٍّ، لَيْسَ فِيْهَا مَعْلَمٌ لِأَحَدٍ] [بخاري، الرقاق، باب یقبض اللّٰہ الأرض یوم القیامۃ: ۶۵۲۱۔ مسلم: ۲۷۹۰] ”لوگ قیامت کے دن سفید مٹیالی زمین پر اکٹھے کیے جائیں گے، جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے، اس میں کسی کا کوئی نشان نہیں ہو گا۔“ قرآن مجید میں بھی ہے کہ قیامت کے دن زمین صاف چٹیل میدان بن جائے گی جس میں کوئی بلندی یا پستی نظر نہیں آئے گی۔ (دیکھے طٰہٰ: ۱۰۵ تا ۱۰۷) رہا یہ سوال کہ یہ تبدیلی زمین و آسمان کی ذات میں ہو گی یا ان کی صفات میں، تو اس کے بارے میں قرآن مجید یا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز ثابت نہیں، اس لیے ہمیں اسی پر یقین رکھنا ہو گا جو قرآن کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے۔
➋ { وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ:} یہ ان مشرکین کے ردّ کے لیے فرمایا جو اپنے شرکاء کا بھی کچھ اختیار سمجھتے ہیں کہ اس دن سب لوگ اس اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے جو اکیلا ہے، بڑا زبردست ہے، کوئی دوسرا کسی اختیار کا مالک نہ ہو گا۔
➋ { وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ:} یہ ان مشرکین کے ردّ کے لیے فرمایا جو اپنے شرکاء کا بھی کچھ اختیار سمجھتے ہیں کہ اس دن سب لوگ اس اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے جو اکیلا ہے، بڑا زبردست ہے، کوئی دوسرا کسی اختیار کا مالک نہ ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
48۔ 1 امام شوکانی فرماتے ہیں کہ آیت میں دونوں احتمال ہیں کہ یہ تبدیلی صفات کے لحاظ سے ہو یا ذات کے لحاظ سے۔ یعنی یہ آسمان و زمین اپنے صفات کے اعتبار سے بدل جائیں گے یا ویسے ہی ذاتی طور پر یہ تبدیلی آئے گی، نہ زمین رہے گی اور نہ یہ آسمان۔ زمین بھی کوئی اور ہوگی اور آسمان بھی کوئی اور حدیث میں آتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '۔ یحشر الناس یوم القیامۃ علی الارض بیضاء عفراء کقرصہ النقی لیس فیھا علم لا حد۔ صحیح مسلم قیامت والے دن لوگ سفید بھوری زمین پر اکھٹے ہونگے جو میدہ کی روٹی کی طرح ہوگی۔ اس میں کسی کا کوئی جھنڈا (یا علامتی نشان) نہیں ہوگا۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہ جب یہ آسمان و زمین بدل دئیے جائیں گے تو پھر لوگ اس دن کہاں ہونگے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' صراط پر ' یعنی پل صراط پر (حوالہ مزکور) ایک یہودی کے پوچھنے پر آپ نے فرمایا کہ ' لوگ اس دن پل کے قریب اندھیرے میں ہونگے (صحیح مسلم)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ جس دن یہ زمین اور آسمان تبدیل [48] کر دیئے جائیں گے اور لوگ اکیلے اور زبردست اللہ کے حضور حاضر ہو جائیں گے
[48] اللہ کی عدالت میں لوگوں کی پیشی اور حساب:۔
نفخہ صور اول کے وقت موجودہ نظام کائنات درہم برہم ہو جائے گا جیسا کہ سورۃ تکویر اور بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد نفخہ صور ثانی تک کیا کیا تغیرات واقع ہوں گے اور یہ درمیانی عرصہ کتنا ہو گا۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ نفخہ صور ثانی پر ایک نیا نظام کائنات وجود میں لایا جائے گا جس میں یا تو موجودہ زمین و آسمان کی ذوات ہی تبدیل کر دی جائیں گی یا ان کی ہیئت میں خاصا تغیر و تبدل واقع ہو گا۔ آیت کے الفاظ میں دونوں معنوں کی گنجائش ہے۔ اسی نفخہ ثانی کے وقت آدمؑ سے لے کر قیامت تک پیدا شدہ سب انسانوں کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا۔ انہی واقعات کا نام قرآن کی اصطلاح میں حشر و نشر ہے۔ اس نئی زمین اور نئے آسمان کے لیے طبعی قوانین بھی موجودہ قوانین سے الگ ہوں گے اور اسی زمین پر اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو گی۔ میزان الاعمال رکھی جائے گی اور لوگوں کے اعمال کے مطابق ان کی جزاو سزا کے فیصلے ہوں گے۔ قرآن کی بعض آیات سے زمین میں تبدیلی کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین میں اس دن کوئی بلندی یا پستی نہیں رہے گی۔ سب پہاڑ زمین بوس کر دیئے جائیں گے اور سب کھڈے بھر دیئے جائیں گے اس طرح سطح زمین ہموار اور پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جائے گی اور سب سے اہم تبدیلی یہ ہو گی کہ سمندروں، دریاؤں اور ندی نالوں کو خشک کر دیا جائے۔ اور سمندر کی سطح کا رقبہ خشکی کے رقبہ سے تین گناہ زیادہ ہے اس طرح موجودہ زمین سے اس وقت کی تبدیل شدہ زمین کم از کم چار گنا بڑھ جائے گی اور دوسرے وہ زمین بالکل ہموار ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انبیاء کی مدد ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کو مقرر اور موکد کر رہا ہے کہ ’ دنیا آخرت میں جو اس نے اپنے رسولوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے وہ کبھی اس کے خلاف کرنے والا نہیں۔ اس پر کوئی اور غالب نہیں وہ سب پر غالب ہے اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں اس کا چاہا ہو کر رہتا ہے۔ وہ کافروں سے ان کے کفر کا بدلہ ضرور لے گا قیامت کے دن ان پر حسرت و مایوسی طاری ہوگی۔ اس دن زمین ہوگی لیکن اس کے سوا اور ہو گی اسی طرح آسمان بھی بدل دئے جائیں گے ‘۔
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ایسی سفید صاف زمین پر حشر کئے جائیں گے جیسے میدے کی سفید ٹکیا ہو جس پر کوئی نشان اور اونچ نہ ہو گی }۔ [صحیح بخاری:6521]
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ایسی سفید صاف زمین پر حشر کئے جائیں گے جیسے میدے کی سفید ٹکیا ہو جس پر کوئی نشان اور اونچ نہ ہو گی }۔ [صحیح بخاری:6521]
مسند احمد میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”سب سے پہلے میں نے ہی اس آیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پل صراط پر } }۔ [مسند احمد:35/6:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ { تم نے وہ بات پوچھی کہ میری امت میں سے کسی اور نے یہ بات مجھ سے نہیں پوچھی } }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:20972:ضعیف و منقطع]
اور روایت میں ہے کہ { یہی سوال مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا کا «وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌ بِيَمِيْنِهٖ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:67] کے متعلق تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا تھا }۔ [مسند احمد:116/6:صحیح]
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں { میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا ایک یہودی عالم آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر سلام علیک کہا میں نے اسے ایسے زور سے دھکا دیا کہ قریب تھا کہ گر پڑے اس نے مجھ سے کہا تو نے مجھے دھکا دیا؟ میں نے کہا بے ادب یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہتا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتا ہے اس نے کہا ہم تو جو نام ان کا ان کے گھرانے کے لوگوں نے رکھا ہے اسی نام سے پکاریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے خاندان نے میرا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہی رکھا ہے }۔
یہودی نے کہا سنیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات دریافت کرنے آیا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر میرا جواب تجھے کوئی نفع بھی دے گا؟ } اس نے کہا سن تو لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں جو تنکا تھا اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر پھراتے ہوئے فرمایا کہ { اچھا دریافت کرلو }۔
اس نے کہا سب سے پہلے پل صراط سے پار کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا: { مہاجرین فقراء }۔ اس نے پوچھا انہیں سب سے پہلے تحفہ کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مچھلی کی کلیجی کی زیادتی }۔ اس نے پوچھا اس کے بعد انہیں کیا غذا ملے گی؟ فرمایا: { جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت کے اطراف میں چرتا چگتا رہا تھا }۔
اس نے پوچھا پھر پینے کو کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جنتی نہر سلسبیل کا پانی }۔ یہودی نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب جواب برحق ہیں۔ اچھا اب میں ایک بات اور پوچھتا ہوں جسے یا تو نبی جانتا ہے یا دنیا کے اور دو ایک آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { کیا میرا جواب تجھے کچھ فائدہ دے گا؟ } اس نے کہا سن تو لوں گا۔ بچے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مرد کا خاص پانی سفید رنگ کا ہوتا ہے اور جب عورت کا خاص پانی زرد رنگ کا۔ جب یہ دونوں جمع ہوتے ہیں تو اگر مرد کا پانی غالب آجائے تو بحکم الٰہی لڑکا ہوتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے }۔ یہودی نے کہا بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور یقیناً آپ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر وہ وآپس چلا گیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب سکھا دیا }۔ [صحیح مسلم:315]
اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ { تم نے وہ بات پوچھی کہ میری امت میں سے کسی اور نے یہ بات مجھ سے نہیں پوچھی } }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:20972:ضعیف و منقطع]
اور روایت میں ہے کہ { یہی سوال مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا کا «وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌ بِيَمِيْنِهٖ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:67] کے متعلق تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا تھا }۔ [مسند احمد:116/6:صحیح]
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں { میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا ایک یہودی عالم آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر سلام علیک کہا میں نے اسے ایسے زور سے دھکا دیا کہ قریب تھا کہ گر پڑے اس نے مجھ سے کہا تو نے مجھے دھکا دیا؟ میں نے کہا بے ادب یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہتا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتا ہے اس نے کہا ہم تو جو نام ان کا ان کے گھرانے کے لوگوں نے رکھا ہے اسی نام سے پکاریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے خاندان نے میرا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہی رکھا ہے }۔
یہودی نے کہا سنیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات دریافت کرنے آیا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر میرا جواب تجھے کوئی نفع بھی دے گا؟ } اس نے کہا سن تو لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں جو تنکا تھا اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر پھراتے ہوئے فرمایا کہ { اچھا دریافت کرلو }۔
اس نے کہا سب سے پہلے پل صراط سے پار کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا: { مہاجرین فقراء }۔ اس نے پوچھا انہیں سب سے پہلے تحفہ کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مچھلی کی کلیجی کی زیادتی }۔ اس نے پوچھا اس کے بعد انہیں کیا غذا ملے گی؟ فرمایا: { جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت کے اطراف میں چرتا چگتا رہا تھا }۔
اس نے پوچھا پھر پینے کو کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جنتی نہر سلسبیل کا پانی }۔ یہودی نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب جواب برحق ہیں۔ اچھا اب میں ایک بات اور پوچھتا ہوں جسے یا تو نبی جانتا ہے یا دنیا کے اور دو ایک آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { کیا میرا جواب تجھے کچھ فائدہ دے گا؟ } اس نے کہا سن تو لوں گا۔ بچے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مرد کا خاص پانی سفید رنگ کا ہوتا ہے اور جب عورت کا خاص پانی زرد رنگ کا۔ جب یہ دونوں جمع ہوتے ہیں تو اگر مرد کا پانی غالب آجائے تو بحکم الٰہی لڑکا ہوتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے }۔ یہودی نے کہا بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور یقیناً آپ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر وہ وآپس چلا گیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب سکھا دیا }۔ [صحیح مسلم:315]
ابن جریر طبری میں ہے کہ { یہودی عالم کے پہلے سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس وقت مخلوق اللہ کی مہمانی میں ہوگی پس اس کے پاس کی چیز ان سے عاجز نہ ہوگی } }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:20976:ضعیف]
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ کہتے ہیں ”یہ زمین بدل دی جائے گی اور زمین سفید میدے کی ٹکیا جیسی ہوگی جس میں نہ کوئی خون بہا ہوگا جس پر نہ کوئی خطا ہوئی ہوگی آنکھیں تیز ہوں گی داعی کی آواز کانوں میں ہوگی سب ننگے پاؤں ننگے بدن کھڑے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ پسینہ مثل لگام کے ہو جائے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
ایک مرفوع روایت میں ہے کہ { سفید رنگ کی وہ زمین ہوگی جس پر نہ خون کا قطرہ گرا ہوگا نہ اس پر کسی گناہ کا عمل ہوا ہوگا }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:249/13:صحیح موقوفاً] اسے مرفوع کرنے والا ایک ہی راوی ہے یعنی جریر بن ایوب اور وہ قوی نہیں۔
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ کہتے ہیں ”یہ زمین بدل دی جائے گی اور زمین سفید میدے کی ٹکیا جیسی ہوگی جس میں نہ کوئی خون بہا ہوگا جس پر نہ کوئی خطا ہوئی ہوگی آنکھیں تیز ہوں گی داعی کی آواز کانوں میں ہوگی سب ننگے پاؤں ننگے بدن کھڑے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ پسینہ مثل لگام کے ہو جائے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
ایک مرفوع روایت میں ہے کہ { سفید رنگ کی وہ زمین ہوگی جس پر نہ خون کا قطرہ گرا ہوگا نہ اس پر کسی گناہ کا عمل ہوا ہوگا }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:249/13:صحیح موقوفاً] اسے مرفوع کرنے والا ایک ہی راوی ہے یعنی جریر بن ایوب اور وہ قوی نہیں۔
ابن جریر میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے پاس اپنا آدمی بھیجا پھر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا { جانتے ہو میں نے آدمی کیوں بھیجا ہے؟ } انہوں نے کہا اللہ ہی کو علم ہے اور اس کے رسول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۱؎ [14-ابراھیم:48] کے بارے میں یاد رکھو وہ اس دن چاندی کی طرح سفید ہوگی }۔ جب وہ لوگ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا؟ انہوں نے کہا کہ سفید ہو گی جیسے میدہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:20947:ضعیف] اور بھی سلف سے مروی ہے کہ چاندی کی زمین ہو گی۔
سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”آسمان سونے کا ہوگا۔“ ابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ باغات بنا ہوا ہوگا۔“ محمد بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں ”زمین روٹی بن جائے گی کہ مومن اپنے قدموں تلے سے ہی کھالیں۔“ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ”زمین بدل کر روٹی بن جائے گی۔“
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن ساری زمین آگ بن جائے گی اس کے پیچھے جنت ہوگی جس کی نعمتیں باہر سے ہی نظر آ رہی ہوں گی لوگ اپنے پسینوں میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ابھی حساب کتاب شروع نہ ہوا ہو گا۔ انسان کا پسینہ پہلے قدموں میں ہی ہو گا پھر بڑھ کر ناک تک پہنچ جائے گا بوجہ اس سختی اور گھبراہٹ اور خوفناک منظر کے جو اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔“
حضرت کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں ”آسمان باغات بن جائیں گے سمندر آگ ہو جائیں گے زمین بدل دی جائے گی۔“
ابوداؤد کی حدیث میں ہے { سمندر کا سفر صرف غازی یا حاجی یا عمرہ کرنے والے ہی کریں۔ کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے یا آگ کے نیچے سمندر ہے }۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف جداً]
صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اللہ تعالیٰ زمین کو بسیط کرکے عکاظی چمڑے کی طرح کھینچے گا اس میں کوئی اونچ نِیچ نظر نہ آئے گی پھر ایک ہی آواز کے ساتھ تمام مخلوق اس نئی زمین پر پھیل جائے گی }۔
پھر ارشاد ہے کہ { تمام ہے کہ تمام مخلوق اپنی قبروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے سامنے روبرو ہو جائے گی وہ اللہ جو اکیلا ہے اور جو ہر چیز پر غالب ہے سب کی گردنیں اس کے سامنے خم ہیں اور سب اس کے تابع فرمان ہیں }۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن ساری زمین آگ بن جائے گی اس کے پیچھے جنت ہوگی جس کی نعمتیں باہر سے ہی نظر آ رہی ہوں گی لوگ اپنے پسینوں میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ابھی حساب کتاب شروع نہ ہوا ہو گا۔ انسان کا پسینہ پہلے قدموں میں ہی ہو گا پھر بڑھ کر ناک تک پہنچ جائے گا بوجہ اس سختی اور گھبراہٹ اور خوفناک منظر کے جو اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔“
حضرت کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں ”آسمان باغات بن جائیں گے سمندر آگ ہو جائیں گے زمین بدل دی جائے گی۔“
ابوداؤد کی حدیث میں ہے { سمندر کا سفر صرف غازی یا حاجی یا عمرہ کرنے والے ہی کریں۔ کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے یا آگ کے نیچے سمندر ہے }۔ [سنن ابوداود:2489،قال الشيخ الألباني:ضعیف جداً]
صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اللہ تعالیٰ زمین کو بسیط کرکے عکاظی چمڑے کی طرح کھینچے گا اس میں کوئی اونچ نِیچ نظر نہ آئے گی پھر ایک ہی آواز کے ساتھ تمام مخلوق اس نئی زمین پر پھیل جائے گی }۔
پھر ارشاد ہے کہ { تمام ہے کہ تمام مخلوق اپنی قبروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے سامنے روبرو ہو جائے گی وہ اللہ جو اکیلا ہے اور جو ہر چیز پر غالب ہے سب کی گردنیں اس کے سامنے خم ہیں اور سب اس کے تابع فرمان ہیں }۔