ترجمہ و تفسیر — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 46

وَ قَدۡ مَکَرُوۡا مَکۡرَہُمۡ وَ عِنۡدَ اللّٰہِ مَکۡرُہُمۡ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مَکۡرُہُمۡ لِتَزُوۡلَ مِنۡہُ الۡجِبَالُ ﴿۴۶﴾
اور بے شک انھوں نے تدبیر کی، اپنی تدبیر اور اللہ ہی کے پاس ان کی تدبیرہے اور ان کی تدبیر ہرگز ایسی نہ تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں۔ En
اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں
En
یہ اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں اور اللہ کو ان کی تمام چالوں کا علم ہے اور ان کی چالیں ایسی نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت46) ➊ {وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ …: } یعنی ان پہلے کفار اور موجودہ کفار نے اپنے انبیاء اور اہل ایمان کے خلاف اپنی زیادہ سے زیادہ اور خطرناک سے خطرناک جو بھی خفیہ تدبیر اور سازش وہ کر سکتے تھے کی۔ { مَكْرَهُمْ } سے یہی مراد ہے اور اللہ کو ان کی ہر سازش کا علم تھا۔ اس آیت کے تحت تفسیروں میں نمرود کا قصہ بھی ذکر کر دیا گیا ہے جو صحت کے ساتھ ثابت نہیں۔ (رازی)
➋ {وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ:} یہ{ اِنْ } نافیہ (یعنی نہیں کے معنی میں) ہے، اس کے بعد لام پر کسرہ ہے، اسے لام جحد کہتے ہیں جو نفی کی تاکید کے لیے آتا ہے اور اس کے بعد فعل مضارع {أَنْ} کے ساتھ منصوب ہوتا ہے جو لام جحد کے بعد وجوباً محذوف ہوتا ہے۔ عام قراء ت یہی ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی تدبیر ہر گز ایسی نہ تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں یعنی اللہ کا دین جو پہاڑوں کی طرح مستحکم ہے ان کی سازشیں کسی صورت اسے نقصان نہ پہنچا سکتی تھیں۔
کسائی کی قراء ت اس سے مختلف ہے، وہ { لِتَزُوْلَ } کو لام کے فتح کے ساتھ اور { تَزُوْلُ } کو مرفوع پڑھتے ہیں۔ اس صورت میں { وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ } میں{ اِنْ إِنَّهُ} کا (یعنی حرف مشبہ بالفعل{ إِنَّ} اور اس کے اسم ضمیر شان { هٗ } کا قائم مقام) مخفف ہے اور{ لَتَزُوْلُ} میں لامِ ابتدا تاکید کے لیے ہے۔ معنی یہ ہو گا کہ یقینا ان کی تدبیر اور سازش ایسی خطرناک اور شدید خوف ناک تھی کہ پہاڑ بھی (اگر کسی طرح اپنی جگہ سے ٹل سکتے تو) ان سازشوں سے ضرور ہی ٹل جاتے۔
یاد رہے کہ یہ ترجمہ {لَتَزُوْلُ} یعنی لامِ ابتدا مفتوح اور آخری لام مرفوع پڑھنے کی صورت میں ہو گا، پہلی قراء ت (یعنی پہلا لام مکسور اور آخری منصوب) کا یہ ترجمہ اگر کوئی کرلے تو وہ درست نہیں ہو گا۔ معنوی طور پر دوسری قراء ت بھی بہت عمدہ ہے اور پہلی بھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

46۔ 1 یہ جملہ حالیہ ہے کہ ہم نے ان کے ساتھ جو کیا وہ کیا، درآنحالیکہ انہوں نے باطل کے اثبات اور حق کے رد کرنے کے لئے مقدور بھر حیلے اور مکر کیے اور اللہ کو ان تمام چالوں کا علم ہے یعنی اس کے پاس درج ہے جس کی وہ ان کو سزا دے گا۔ 46۔ 2 کیونکہ اگر پہاڑ ٹل گئے ہوتے تو اپنی جگہ برقرار نہ ہوتے، جب کہ سب پہاڑ اپنی اپنی جگہ ثابت اور برقرار ہیں۔ یہ ان نافیہ کی صورت میں ہے دوسرے معین ان مخففۃ من المثقلۃ کے لیے گئے ہیں یعنی یقینا ان کے مکر تو اتنے بڑے تھے کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جاتے یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کے مکروں کو کامیاب نہیں ہوتے دیا جیسے مشریکن کے شرک کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تکاد السموات یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ھدا۔ ان دعوا للرحمن ولدا۔ سورة مریم۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں اس بات پر کہ انہوں نے کہا اللہ رحمان کی اولاد ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ ان لوگوں نے (حق کے خلاف) خوب چالیں چلیں۔ حالانکہ ان کی چالوں کا توڑ اللہ کے پاس موجود تھا۔ اگرچہ ان کی چالیں ایسی خطرناک تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل [46] جائیں
[46] کفار مکہ کی زبردست چال کیا تھی؟
یہ الفاظ بطور محاورہ استعمال ہوئے ہیں یعنی ان کی چالیں اس قدر یقینی اور تیر بہدف تھیں کہ ان کے خطا ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ وہ چالیں کیا تھیں؟ اس کا ذکر قرآن کی دوسری آیات میں موجود ہے کہ یا تو اس پیغمبر کو جلا وطن کر دیا جائے یا قید کر دیا جائے یا قتل کر دیا جائے۔ پھر اتفاق اس بات پر ہوا تھا کہ اس کے گھر کا محاصرہ کیا جائے اور یہ محاصرین ہر قبیلے کے ایک ایک فرد پر مشتمل ہوں گے۔ جو سب مل کر حملہ کر کے اس کو قتل کریں گے اور اس طرح پیغمبر اسلام اور اسلام دونوں کا مکمل طور پر قلع قمع ہو جائے گا وغیرذٰلِکَ یہ مطلب اس صورت میں ہے۔ جب ﴿وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ میں ان کو شرطیہ سمجھا جائے اور بعض مفسرین نے یہاں ان کو نافیہ سمجھا ہے اس صورت میں اس کا معنی یہ ہو گا کہ ان کی چالیں کوئی ایسی تو نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ ٹل جاتے۔ یعنی اللہ کی چال کے مقابلہ میں ان کی چالوں کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اللہ کی تدبیر ہی ایسی مستحکم ہوتی ہے کہ اس سے پہاڑ بھی ٹل جاتے ہیں۔ نا ممکن باتیں بھی ممکن بن جاتی ہیں۔ اور بعض مفسرین ان الفاظ کو صرف قریش مکہ تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ ان الفاظ سے تمام سرکش اقوام مراد لیتے ہیں جنہوں نے نہایت مضبوط اور بلند و بالا عمارتیں تعمیر کر رکھی تھیں کہ اللہ کا عذاب آئے بھی تو وہ محفوظ رہ سکیں۔ پہاڑ ٹل جائیں تو ٹل جائیں مگر ان کی تدبیریں ناکام نہ ہوں۔ مگر جب عذاب آیا تو تباہ و برباد ہو گئے پھر تم ان سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔