ترجمہ و تفسیر — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 37

رَبَّنَاۤ اِنِّیۡۤ اَسۡکَنۡتُ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ بِوَادٍ غَیۡرِ ذِیۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَیۡتِکَ الۡمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِیُـقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجۡعَلۡ اَفۡئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہۡوِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ وَارۡ زُقۡہُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۷﴾
اے ہمارے رب! بے شک میں نے اپنی کچھ اولاد کو اس وادی میں آباد کیا ہے، جو کسی کھیتی والی نہیں، تیرے حرمت والے گھر کے پاس، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ سو کچھ لوگوں کے دل ایسے کر دے کہ ان کی طرف مائل رہیں اور انھیں پھلوں سے رزق عطا کر، تاکہ وہ شکر کریں۔ En
اے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میوؤں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں
En
اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اوﻻد اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے۔ اے ہمارے پروردگار! یہ اس لیے کہ وه نماز قائم رکھیں، پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے۔ اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما تاکہ یہ شکر گزاری کریں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت37) ➊ {رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ: مِنْ } تبعیض کے لیے ہے۔ کچھ اولاد سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی تو اس وقت اسحاق علیہ السلام پیدا ہو چکے تھے۔ انھیں اور ان کی والدہ سارہ علیھا السلام کو ابراہیم علیہ السلام نے دوسری جگہ (شام میں) ٹھہرایا ہوا تھا۔
➋ {بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ:} وادی نیچی جگہ کو کہا جاتا ہے، جہاں کبھی پانی بہتا ہو، خصوصاً پہاڑوں کے درمیان گہری جگہ کو وادی کہتے ہیں۔ { غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ } مکہ اور اس کے گردو نواح بلکہ ارض عرب میں کھیتی باڑی نہیں تھی، کیونکہ بارش کے علاوہ وہاں پانی نہیں ملتا تھا اور زمین بھی پتھریلی یا ریتلی تھی، خصوصاً مکہ والی جگہ میں تو بالکل نہ پانی تھا نہ کھیتی باڑی۔ ان غیر آباد بیابان پہاڑوں کے درمیان اسماعیل اور ان کی والدہ ہاجر علیھما السلام کو لا کر چھوڑ جانے کا، پھر ہاجر علیھا السلام کے صفا و مروہ کے درمیان دوڑنے کا اور پانی تلاش کرنے اور زم زم کے پھوٹ نکلنے کا لمبا واقعہ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مذکورہے۔ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب «یزفون» ‏‏‏‏ النسلان في المشي: ۳۳۶۴، ۳۳۶۵] ہزاروں سال بعد ابھی تک وہ { غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ } ہی ہے، البتہ طائف میں کچھ کھیتی باڑی اور پھل وغیرہ ہیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيْضَ، حَتّٰی يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهٖ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ، وَحَتّٰی تَعُوْدَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوْجًا وَأَنْهَارًا] قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ مال بہت زیادہ نہ ہو جائے، حتیٰ کہ آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نکلے گا، لیکن وہ کوئی ایسا شخص نہیں پائے گا جو اس سے اس کی زکوٰۃ لے لے اور جب تک ارض عرب دوبارہ مروج (سبزہ زار، کھلے کھیت) اور ندیوں نالوں کی صورت میں نہ بدل جائے۔ [مسلم، الزکاۃ، باب الترغیب في الصدقۃ قبل أن…: 157/60، قبل ح: ۱۰۱۳] لفظ { تَعُوْدَ } (دوبارہ نہ بدل جائے) سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے بھی کبھی یہ پہاڑ کشمیر کے پہاڑوں کی طرح سرسبز اور ندیوں نہروں والے تھے، قیامت کے قریب پھر اسی طرح ہو جائیں گے۔
➌ {عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ:} اس سے بعض مفسرین نے اخذ کیا ہے کہ یہ دعا ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ تعمیر کرنے کے بعد کی، ممکن ہے ایسا ہی ہو مگر بیت اللہ تو ابراہیم علیہ السلام کے وہاں جانے سے بھی بہت پہلے تعمیر ہو چکا تھا، کیونکہ وہ زمین پر اللہ کی عبادت کے لیے بنایا جانے والا پہلا گھر ہے اور سب جانتے ہیں کہ زمین پر اللہ کی عبادت آدم علیہ السلام سے یا اس سے بھی پہلے سے شروع ہے، اس کے بانی ٔ اول آدم علیہ السلام ہیں یا اس سے بھی پہلے کی کوئی مخلوق، مثلاً فرشتے یا جن وغیرہ۔ ہاں ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں سیلابوں کی وجہ سے یہ ایک ٹیلے کی شکل میں بدل چکا تھا، وہ جگہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو بتائی اور انھی پہلی بنیادوں پر دوبارہ کعبہ تعمیر ہوا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۸) اور سورۂ حج (۲۶){ الْمُحَرَّمِ } اس لیے کہ کئی کام جو دوسری جگہ حلال ہیں مثلاً شکار کرنا، درخت کاٹنا وغیرہ، وہ یہاں حرام ہیں اور اس گھر کی عزت نہ کرنے والے کا یہاں طاقت کے ذریعے سے قبضہ حرام ہے، ممکن نہیں۔ اس لیے اس گھر کا لقب {اَلْبَيْتُ الْعَتِيْقُ} بھی ہے، یعنی جو ہمیشہ سے آزاد رہا۔ عتیق کا ایک معنی قدیم بھی ہے۔
➍ { رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ: } معلوم ہوا کہ آدمی کو خود بھی اور اولاد کو بھی ایسی جگہ ٹھہرانا چاہیے جہاں اہل توحید کی مسجد پہلے سے موجود ہو، یا جب آدمی وہاں سکونت اختیار کرے تو سب سے پہلا کام اپنا مکان اور مسجد بیک وقت بنانے کا کرے، خواہ کچی اینٹوں کی چار دیواری ہی ہو، جیسا کہ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آتے ہی کیا تھا، تاکہ اقامت صلاۃ میں کوئی مشکل پیش نہ آئے اور وہ آبادیاں تو رہنے کے قابل ہی نہیں جو نہایت عالی شان ہونے کے باوجود اکیلے اللہ کی عبادت کے لیے بنائی ہوئی مسجدوں سے خالی ہیں، یا وہاں ایسی مسجدیں گھر سے اتنی دور ہیں کہ نماز کے لیے وقت پر پہنچنا مشکل ہے۔
➎ {فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْۤ اِلَيْهِمْ: اَفْىِٕدَةً فُؤَادٌ} کی جمع ہے، یعنی دل، یا {وَفُوْدٌ} کی یعنی آنے والے۔ (عینی) { مِنَ النَّاسِ } کچھ لوگوں کے دل۔ { مِنْ } تبعیض کے لیے ہے۔ { تَهْوِيْۤ هَوَي يَهْوِيْ } (ض) سے گرنا اور{ هَوِيَ يَهْوٰي } (ع) سے چاہنا اور محبت کرنا مراد ہوتا ہے۔ کوئی چیز جب بلندی سے گرتی ہے تو نہایت تیزی سے گرتی ہے اور بے اختیار ہو کر گرتی ہے، یعنی کچھ لوگوں کے دل ایسے بنا دے کہ بے اختیار اس کی طرف دوڑتے چلے آئیں۔ تفاسیر میں بعض صحابہ و تابعین سے منقول ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اگر دعا میں کچھ لوگوں کی قید نہ لگاتے تو سب لوگوں کے دل، خواہ مسلم ہوتے یا یہود و نصاریٰ، اس کی طرف کھنچے چلے آتے۔ اس دعا کی قبولیت کا نظارہ ہر مسلمان اپنے دل میں اس گھر کے شوق سے اور وہاں حج وغیرہ کے لیے بار بار جانے والوں کی کثرت سے کر سکتا ہے۔
➏ {وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ:} مکہ میں دنیا کے تمام خطوں سے ہر موسم کا تازہ پھل دیکھ کر اس دعا کی قبولیت آنکھوں سے نظر آتی ہے۔ اس دعا کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۴ تا ۱۲۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

37۔ 1 مِنْ ذُرِّیَّتِیْ میں مِن اولاد کے لئے ہے۔ یعنی بعض کہتے ہیں حضرت ابراہم ؑ کے آٹھ صلبی بیٹے تھے، جن میں سے صرف حضرت اسماعیل ؑ کو یہاں بسایا (فتح القدیر) 37۔ 2 عبادت میں صرف نماز کا ذکر کیا، جس سے نماز کی اہمیت واضح ہے۔ 37۔ 3 یہاں بھی اولاد کے لئے ہے۔ کہ کچھ لوگ، مراد اس سے مسلمان ہیں۔ چناچہ دیکھ لیجئے کہ کس طرح دنیا بھر کے مسلمان مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں اور حج کے علاوہ بھی سارا سال یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اگر حضرت ابراہیم ؑ اَفْئِدَۃَ النَّاسِ (لوگوں کے دلوں) کہتے تو عیسائی، یہودی، مجوسی اور دیگر تمام لوگ مکہ پہنچتے۔ مِنَ النَّاسِ کے مِنْ نے اس دعا کو مسلمانوں تک محدود کردیا (ابن کثیر) 37۔ 4 اس دعا کی تاثیر بھی دکھ لی جائے کہ مکہ جیسی بےآب وگیاہ سرزمین میں جہاں کوئی پھلدار درخت نہیں، دنیا بھر کے پھل اور میوے نہایت فراوانی کے ساتھ مہیا ہیں حج کے موقع پر بھی، جب لاکھوں افراد مذید وہاں پہنچ جاتے ہیں، پھلوں کی فراوانی میں کوئی کمی نہیں آتی، کہا جاتا ہے کہ یہ دعا خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد مانگی۔ جب کہ پہلی دعا اس وقت مانگی، جب اپنی اہلیہ اور شیر خوار بچے اسماعیل کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر وہاں چھوڑ کر چلے گئے (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے قابل احترام گھر کے پاس ایسے میدان میں لا بسایا ہے جہاں کوئی کھیتی نہیں۔ [39] تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ [40] پروردگار! بعض لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انھیں کھانے کو پھل مہیا فرما۔ توقع ہے کہ یہ شکرگزار رہیں گے
[39] یہاں بخاری سے ایک طویل حدیث درج کی جاتی ہے کہ کن حالات میں سیدنا ابراہیمؑ نے سیدنا اسمٰعیلؑ اور ان کی والدہ کو اس بے آب و گیاہ وادی میں لا کر بسایا تھا اور اللہ نے ان کے کھانے پینے کا سامان کیسے کیا۔ چاہ زمزم کا پھوٹنا اور بیت اللہ کی تعمیر وغیرہ بہت سے حالات اس حدیث میں تفصیلاً آگئے ہیں۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے سیدہ ہاجرہ نے کمر پٹہ باندھا تاکہ سارہ ان کا سراغ تک نہ پائیں۔ چنانچہ سیدنا ابراہیمؑ ہاجرہؑ اور اس کے بچے کو وہاں سے نکال لائے۔ ہاجرہ، اسمٰعیلؑ کو دودھ پلاتی تھی۔ سیدنا ابراہیمؑ نے انھیں ایک بڑے درخت تلے بٹھا دیا جہاں آب زمزم ہے مسجد الحرام کی بلند جانب میں۔ اس وقت نہ وہاں کوئی آدمی آباد تھا اور نہ ہی پانی تھا۔ آپ انھیں ایک تھیلہ کھجور کا اور ایک مشکیزہ پانی کا دے کر چلے آئے۔ سیدہ حاجرہ ان کے پیچھے آئیں اور پوچھا ”ابراہیم ہمیں ایسی وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو جہاں نہ کوئی آدمی ہے اور نہ پانی ہے؟“ ہاجرہ نے کئی بار یہ بات پوچھی مگر ابراہیمؑ نے مڑ کر نہ دیکھا۔ پھر کہنے لگیں ”کیا اللہ نے آپ کو ایسا حکم دیا ہے؟“ سیدنا ابراہیمؑ نے کہا ”ہاں“ پھر کہنے لگیں ”اچھا پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا“ پھر واپس آ گئیں۔ ابراہیم وہاں سے چل کر جب اس ٹیلہ پر پہنچے جہاں سے انھیں دیکھ نہ سکتے تھے تو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے اپنے ہاتھ اٹھا کر ان کلمات کے ساتھ دعا کی ”اے اللہ! میں نے اپنی اولاد کے ایک حصہ کو ایسی وادی میں لا بسایا ہے جہاں کوئی کھیتی نہیں۔۔ یشکرون تک“
صفا مروہ کی سعی کا آغاز کیسے ہوا؟
سیدہ ہاجرہ سیدنا اسمٰعیلؑ کو اپنا دودھ اور یہ پانی پلاتی رہیں حتیٰ کہ پانی ختم ہو گیا۔ تو خود بھی پیاسی اور بچہ بھی پیاسا ہو گیا۔ بچہ کو دیکھا کہ وہ پیاس کے مارے تڑپ رہا ہے۔ آپ بچہ کی یہ حالت دیکھ نہ سکیں اور چل دیں۔ دیکھا کہ صفا پہاڑی ہی آپ کے قریب ہے۔ اس پر چڑھیں پھر وادی کی طرف آگئیں۔ وہ دیکھ رہی تھیں کہ کوئی آدمی نظر آئے مگر کوئی آدمی نظر نہ آیا۔ آپ صفا سے اتر آئیں حتیٰ کہ وادی میں پہنچ گئیں اور اپنی قمیص کا دامن اٹھایا اور ایک مصیبت زدہ آدمی کی طرح دوڑنے لگیں یہاں تک کہ وادی طے کر لی اور مروہ پہاڑی پر آگئیں اور مروہ پر کھڑے ہو کر دیکھا کہ کوئی آدمی نظر آتا ہے مگر انھیں کوئی آدمی نظر نہ آیا۔ اسی کیفیت میں انہوں نے سات چکر لگائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس وقت سے ہی لوگوں نے صفا مردہ کا طواف شروع کیا“ پر جب وہ ساتویں چکر میں مروہ پر چڑھیں تو ایک آواز سنی۔ انہوں نے اپنے آپ سے کہا: خاموش رہو۔ (بات سنو) پھر کان لگایا تو وہی آواز سنی۔ کہنے لگیں ”میں نے تیری آواز سنی، کیا کچھ ہماری مدد کر سکتا ہے؟“ آپ نے اسی وقت زمزم کے مقام پر ایک فرشتہ دیکھا جس نے اپنی ایڑی یا اپنا پیر زمین پر مار کر اسے کھود ڈالا۔ تو پانی نکل آیا۔ سیدہ ہاجرہ اسے حوض کی طرح بنانے لگیں اور اپنے ہاتھ سے منڈیر باندھنے لگیں اور چلوؤں سے پانی اپنے مشکیزہ میں بھرنے لگیں جب وہ چلو سے پانی لیتیں تو اس کے بعد جوش سے پانی نکل آتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ام اسمٰعیل پر رحم فرمائے۔ اگر وہ زمزم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتیں یا (فرمایا) اس سے چلو چلو پانی نہ لیتیں تو زمزم ایک بہتا ہوا چشمہ بن جاتا“ چنانچہ سیدہ ہاجرہ نے پانی پیا اور اپنے بچے کو دودھ پلایا۔ فرشتے نے ان سے کہا: تم جان کی فکر نہ کرو۔ یہاں اللہ کا گھر ہے یہ بچہ اور اس کا باپ تعمیر کریں گے اور اس وقت کعبہ گر کر زمین سے اونچا ٹیلہ بن چکا تھا اور برسات کا پانی اس کے دائیں بائیں سے گزر جاتا تھا۔
آب زمزم اور بنو جرہم:۔
کچھ عرصہ بعد وہاں جرہم (قبیلہ) کے لوگ یا ان کے گھر والے کداء کے راستے سے آ رہے تھے ادھر سے گزرے۔ وہ مکہ کے نشیب میں اترے۔ انہوں نے وہاں ایک پرندہ گھومتا دیکھا تو کہنے لگے: یہ پرندہ ضرور پانی پر گردش کر رہا ہے ہم اس میدان سے واقف ہیں یہاں کبھی پانی نہیں دیکھا۔ چنانچہ انہوں نے ایک دو آدمی بھیجے۔ انہوں نے پانی موجود پایا تو واپس جا کر انھیں پانی کی خبر دی تو وہ بھی آ گئے۔ ام اسمٰعیل وہیں پانی کے پاس بیٹھیں تھیں۔ انہوں نے پوچھا: کیا ہمیں یہاں قیام کرنے کی اجازت دیں گی؟ ام اسمٰعیلؑ نے کہا: ہاں۔ لیکن پانی میں تمہارا حق نہیں ہو گا۔ وہ کہنے لگے: ”ٹھیک ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام اسمٰعیلؑ خود بھی یہ چاہتی تھیں کہ انسان وہاں آباد ہوں “چنانچہ وہ وہاں اتر پڑے اور اپنے گھر والوں کو بھی بلا بھیجا۔ جب وہاں ان کے کئی گھر آباد ہو گئے اور اسمٰعیلؑ جوان ہو گئے اور انھیں لوگوں سے عربی سیکھی تو ان کی نگاہ میں وہ بڑے اچھے جوان نکلے۔ وہ ان سے محبت کرتے تھے اور اپنے خاندان کی ایک عورت ان کو بیاہ دی۔ اور ان کی والدہ فوت ہو گئیں۔
سیدنا ابراہیمؑ کا پہلی بار وہاں سے گزرنا:۔
ایک دفعہ سیدنا ابراہیمؑ اپنے بیوی بچے کو دیکھنے آئے اس وقت اسمٰعیلؑ خود گھر پر نہ تھے۔ آپ نے ان کی بیوی سے ان کے متعلق پوچھا وہ کہنے لگیں ”روزی کی تلاش میں نکلے ہیں“ پھر آپ نے اس سے گزر بسر کے متعلق پوچھا تو کہنے لگی بڑی تنگی سے زندگی بسر ہو رہی ہے اور سختی کی آپ سے خوب شکایت کی۔ آپؑ نے کہا، ”جب تیرا خاوند آئے تو اسے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ اپنے گھر کی چوکھٹ بدل دے“ جب اسمٰعیلؑ آئے تو انہوں نے محسوس کیا جیسے کوئی مہمان آیا ہو۔ بیوی سے پوچھا کیا کوئی آیا تھا؟ اس نے کہا ”ہاں اس طرح کا ایک بوڑھا آیا تھا، تمہارے متعلق پوچھتا تھا تو میں نے اسے بتا دیا۔ پھر پوچھا کہ تمہاری گزران کیسے ہوتی ہے تو میں نے کہا بڑی تنگی ترشی سے دن کاٹ رہے ہیں۔“ اسمٰعیلؑ نے پوچھا ”کچھ اور بھی کہا تھا؟“ کہنے لگی ”ہاں، تمہیں سلام کہا تھا اور کہا تھا کہ گھر کی چوکھٹ تبدیل کر دو۔“ اسمٰعیلؑ کہنے لگے ”وہ میرے والد تھے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں چھوڑ دوں۔ اب تو اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا“ چنانچہ اسمٰعیلؑ نے اسے طلاق دے دی اور ایک دوسری عورت سے شادی کر لی۔
سیدنا ابراہیمؑ کا دوسرا چکر:۔
اس کے بعد ابراہیمؑ جتنی مدت اللہ نے چاہا اپنے ملک میں قیام پذیر رہے۔ پھر یہاں آئے تو بھی اسمٰعیلؑ نہ ملے۔ آپ نے ان کی بیوی سے اسمٰعیلؑ کے متعلق پوچھا تو کہنے لگی۔ ”روزی کمانے گئے ہیں“ پھر آپ نے پوچھا ”تمہارا کیا حال ہے اور گزر بسر کیسی ہوتی ہے؟“ وہ کہنے لگی ”اللہ کا شکر ہے بڑی اچھی گزر بسر ہو رہی ہے“ آپؑ نے پوچھا ”کیا کھاتے ہو؟“ کہنے لگی ”گوشت“ پوچھا ”کیا پیتے ہو؟“ کہنے لگی ”پانی“ پھر سیدنا ابراہیمؑ نے دعا کی ”یا اللہ ان کے گوشت اور پانی میں برکت دے۔“ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ان دنوں مکہ میں اناج نام کو نہ تھا ورنہ ابراہیمؑ اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔ اور اگر مکہ کے علاوہ دوسرے لوگ صرف ان دو چیزوں پر گزران کریں تو انھیں موافق نہ آئیں۔ خیر ابراہیمؑ نے (اپنی بہو سے) کہا کہ ”جب تمہارا خاوند آئے تو اسے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ یہ چوکھٹ اچھی ہے اس کی حفاظت کرو“ جب اسمٰعیلؑ آئے تو بیوی سے پوچھا ”(آج) کوئی آیا تھا؟“ وہ کہنے لگی ”ہاں ایک خوش شکل بزرگ آئے تھے بہت اچھے آدمی تھے۔ آپ کا پوچھتے تھے میں نے بتا دیا نیز پوچھا کہ تمہاری گزران کیسی ہے میں نے کہا بہت اچھی ہے“ اسمٰعیلؑ نے پوچھا ”کچھ اور بھی کہا تھا“ کہنے لگی ”ہاں آپ کو سلام کہا تھا اور کہا تھا کہ تمہارے دروازے کی چوکھٹ عمدہ ہے اس کو حفاظت سے رکھنا“ اسمٰعیلؑ نے اسے بتایا کہ ”وہ میرے والد تھے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھے اپنے پاس ہی رکھوں “
تیسرا چکر بیت اللہ کی تعمیر اور اس کا مقصد:۔
پھر کچھ مدت بعد جتنی اللہ کو منظور تھی سیدنا ابراہیمؑ آئے تو اس وقت اسمٰعیلؑ زمزم کے پاس ایک درخت تلے بیٹھے اپنے تیر درست کر رہے تھے۔ والد کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور باپ بیٹا بڑے تپاک سے ملے۔ اس کے بعد ابراہیمؑ نے کہا ”اسمٰعیل! اللہ نے مجھے ایک حکم دیا ہے کیا اس کام میں تو میری مدد کرے گا؟“ انہوں نے کہا ”ضرور کروں گا“ ابراہیمؑ کہنے لگے: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس مقام پر ایک گھر بناؤں اور ایک اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا۔ چنانچہ باپ بیٹا دونوں نے اس گھر کی بنیاد اٹھائی۔ اسمٰعیلؑ پتھر لاتے اور ابراہیمؑ تعمیر کرتے جاتے۔ جب دیواریں اونچی ہو گئیں تو اسمٰعیلؑ یہ پتھر (مقام ابراہیم) لے کر آئے اور اسے وہاں رکھ دیا۔ اب ابراہیمؑ اس پر کھڑے ہو کر چنائی کرتے اور اسمٰعیل پتھر دیتے جاتے تھے اور دونوں یہ دعا پڑھتے۔ ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ غرض وہ چاروں طرف سے بیت اللہ کی تعمیر کرتے جاتے اور یہی دعا پڑھتے جاتے۔ [بخاری۔ کتاب الانبیاء۔ باب یزفون النسلان فی المشی]
[40] بیت اللہ کی آبادی کے لئے سیدنا ابراہیمؑ کی دعا:۔
جب سیدنا ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم سے اپنے بیوی اور بچے کو اس بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑا تھا اس وقت بیت اللہ کے صرف نشانات باقی رہ گئے تھے۔ پھر کافی مدت بعد آپ تشریف لائے جبکہ سیدنا اسمٰعیلؑ جوان ہو چکے تھے۔ اس وقت باپ بیٹا دونوں نے مل کر ازسر نو بیت اللہ کو اس کی بنیادوں پر اٹھا کر اس کی عمارت کھڑی کی۔ اسی تعمیر کے دوران آپؑ اللہ سے جو دعائیں کرتے رہے ان کے بعض جملے ان آیات میں مذکور ہیں۔ اس تعمیر کا اولین مقصد آپ کے نزدیک یہ تھا کہ آپ کی اولاد نماز کی پابند رہے اور بعد میں نسلاً بعد نسل نماز کا سلسلہ جاری رہے پھر آپ کے ذہن میں ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ اس سنگلاخ زمین اور بے آب و گیاہ وادی میں جہاں کھانے کو کچھ ملتا نہیں یہ مسجد آباد کیسے ہو گی؟ تو اس سلسلہ میں آپ نے دعا کی کہ دنیا کے لوگوں میں سے بعض کے دل اس مسجد یا میری اولاد کی طرف مائل کر دے تاکہ یہ جگہ آباد ہو جائے اور مسجد بھی آباد ہو۔ اور دوسری دعا یہ فرمائی کہ جو لوگ اس طرف مائل ہوں ان کے کھانے پینے کا سامان بھی مہیا فرما تاکہ وہ یہاں آباد رہ سکیں۔
دعا کی قبولیت:۔
آپ کی یہ دعا ٹھیک ٹھیک قبول ہو گئی۔ چنانچہ اس وقت سے لے کر آج تک لوگ دنیا کے مختلف ملکوں اور گوشوں سے بیت اللہ کے حج و عمرہ کے لیے جاتے ہیں اور یہ مسجد اتنی آباد ہوئی کہ دنیا کی کوئی مسجد اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ کی دعا یہ تھی کہ بعض لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر، اگر آپ سب لوگوں کے دلوں کو مائل کا کہہ دیتے تو بیت اللہ کی طرف آنے والوں کی اس قدر بھر مار ہو جاتی کہ رہنے کو جگہ نہ ملتی۔ رہا دعا کا دوسرا حصہ تو اس کی قبولیت کا اندازہ اس بات سے فرمائیے کہ دنیا کا کوئی پھل ایسا نہیں جو مکہ نہ پہنچتا ہو۔ اطراف عالم سے پھل وہاں پہنچ جاتے ہیں حالانکہ مکہ کی اپنی زمین ایسی ہے کہ وہاں ایک بھی ثمردار درخت نہیں۔ حتیٰ کہ جانوروں کے لیے چارہ تک پیدا نہیں ہوتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دوسری دعا ٭٭
یہ دوسری دعا ہے پہلی دعا اس شہر کے آباد ہونے سے پہلے جب آپ اسماعیل علیہ السلام کو مع ان کی والدہ صاحبہ کے یہاں چھوڑ کرگئے تھے۔ تب کی تھی اور یہ دعا اس شہر کے آباد ہو جانے کے بعد کی اسی لیے یہاں «بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ» کا لفظ لائے اور نماز کے قائم کرنے کا بھی ذکر فرمایا۔
ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ متعلق ہے لفظ المحرم ساتھ یعنی اسے باحرمت اس لیے بنایا ہے کہ یہاں والے بااطمینان یہاں نمازیں ادا کر سکیں۔‏‏‏‏ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے، اگر سب لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکانے کی دعا ہوتی تو فارس و روم یہود و نصاری غرض تمام دنیا کے لوگ یہاں الٹ پڑتے۔ آپ علیہ السلام نے صرف مسلمانوں کے لیے یہ دعا کی۔ اور دعا کرتے ہیں کہ انہیں پھل بھی عنایت فرما۔‏‏‏‏ یہ زمین زراعت کے قابل بھی نہیں اور دعا ہو رہی ہے پھلوں کی زوزی کی اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی جیسے ارشاد ہے «اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ» [28-القصص:57]‏‏‏‏ یعنی ’ کیا ہم نے انہیں حرمت و امن والی ایسی جگہ عنایت نہیں فرمائی؟ جہاں ہر چیز کے پھل ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں جو خاص ہمارے پاس کی روزی ہے ‘۔
پس یہ بھی اللہ کا خاص لطف و کرم عنایت و رحم ہے کہ شہر کی پیداوار کچھ بھی نہیں اور پھل ہر قسم کے وہاں موجود، چاروں طرف سے وہاں چلے آئیں۔ یہ ہے ابراہیم خلیل الرحمن صلوات اللہ وسلامہ علیہ کی دعا کی قبولیت۔