ترجمہ و تفسیر — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 31

قُلۡ لِّعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خِلٰلٌ ﴿۳۱﴾
میرے بندوں سے جو ایمان لائے ہیں، کہہ دے کہ وہ نماز قائم کریں اور اس میں سے جو ہم نے انھیں دیا ہے، پوشیدہ اور ظاہر خرچ کریں، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہو گی اور نہ کوئی دلی دوستی۔ En
(اے پیغمبر) میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہوگا اور نہ دوستی (کام آئے گی) ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں
En
میرے ایمان والے بندوں سے کہہ دیجئے کہ نمازوں کو قائم رکھیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ پوشیده اور ﻇاہر خرچ کرتے رہیں اس سے پہلے کہ وه دن آجائے جس میں نہ خرید وفروخت ہوگی نہ دوستی اور محبت En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت31) ➊ {قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا:} انسان سارے ہی اللہ کے بندے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کا {عِبَادِيْ} (میرے بندے) کہنا بہت بڑی عزت افزائی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا [بنی إسرائیل: ۱] پاک ہے وہ جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان لوگوں سے کہہ دیں جن میں دو وصف ہیں، ایک تو یہ کہ وہ صرف میرے بندے ہیں، کسی غیر کے نہیں، جو اپنے نام عبداللہ، عبد الرحمٰن اور ان جیسے رکھتے ہیں، نہ کہ عبد الحسین، عبد النبی، پیراں دتہ، غوث بخش وغیرہ اور جو قولاً و عملاً صرف میری عبادت اور بندگی کرتے ہیں، نہ کہ کسی غیر کی اور دوسرا وصف یہ کہ وہ ایمان لے آئے ہیں۔
➋ {يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ يُنْفِقُوْا …:} یہ دونوں فعل لام امر مقدر کی وجہ سے مجزوم ہیں۔ اقامت کا معنی ہے سیدھا کرنا، یعنی نماز کو درست کرکے پڑھیں، اس میں ہمیشگی، وقت پر ادا کرنا، تمام ارکان کو صحیح ادا کرنا اور خشوع کے ساتھ ادا کرنا سب کچھ آ جاتا ہے۔ نماز میں بندگی کی ہر قسم کا کچھ نہ کچھ حصہ آ جاتا ہے، قبلہ کی طرف رخ حج سے مناسبت رکھتا ہے، قیام، رکوع سجود اور دو زانو ہونا غلامی اور بندگی کے اظہار کی مختلف صورتیں ہیں، نماز کے دوران میں کھانے پینے وغیرہ سے اجتناب روزے سے مناسبت رکھتا ہے، کاروبار چھوڑ کر آنا اس شخص کے لیے ممکن ہی نہیں جو اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے پر تیار ہی نہیں اور کئی اور چیزیں ایسی ہیں جو صرف نماز ہی میں ہیں، کسی اور عبادت میں نہیں۔ قرآن مجید میں اکثر نماز اور زکوٰۃ یا خرچ کرنا اکٹھا آیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی ان دونوں کے بغیر نہیں ہو سکتی۔
➌ { مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً:} اس میں دو باتوں کی طرف توجہ لازم ہے۔ ایک تو لفظ {مِنْ} ہے کہ اللہ نے ہمیں جوکچھ دیا ہے جان، مال، اولاد، قوت، علم، عزت، غرض جو شمار ہی نہیں ہو سکتا، وہ سارے کا سارا ہم سے خرچ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، کیونکہ اسے ہماری کمزوری کا علم ہے جو اس نے سورۂ محمد کی آیت (۳۶، ۳۷) میں ذکر فرمائی ہے۔ دوسرا لفظ {رَزَقْنَا} ہے کہ تم نے جو کچھ خرچ کرنا ہے ہمارے دیے ہوئے میں سے کرنا ہے، اگر یہ سوچو گے تو دل میں بخل نہیں آئے گا اور اگر سب کچھ اپنا سمجھو گے تو مشکل ہی سے خرچ کر سکو گے۔ { سِرًّا } یعنی پوشیدہ اس لیے کہ وہ ریا سے پاک ہے اور { عَلَانِيَةً } یعنی علانیہ اس لیے کہ دوسروں کو رغبت ہو، یا فرض زکوٰۃ ہو تو علانیہ دو، کیونکہ چھپا کر دینے سے زکوٰۃ نہ دینے کی تہمت کا خطرہ ہے۔
➍ {مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَ لَا خِلٰلٌ: خِلٰلٌ } یہ باب مفاعلہ کا مصدر ہے، بمعنی دلی دوستی، مراد ہے قیامت کا دن کہ جس میں نیک اعمال خریدے جا سکیں گے نہ کسی کی دوستی اور محبت کام آئے گی کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچا سکے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یعنی نیک عمل بکتے نہیں اور کوئی دوستی سے رعایت نہیں کرتا۔ (موضح) اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا: «{ اَلْاَخِلَّآءُ يَوْمَىِٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ [الزخرف: ۶۷] سب خلیل (دلی دوست) اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31۔ 1 نماز کو قائم کرنے کا مطلب ہے کہ اسے اپنے وقت پر اور نماز کو ٹھیک طریقہ کے ساتھ اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے، جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ انفاق کا مطلب ہے زکوٰۃ ادا کی جائے، اقارب کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے اور دیگر ضرورت مندوں پر احسان کیا جائے یہ نہیں کہ صرف اپنی ذات اور اپنی ضروریات پر تو بلا دریغ خوب خرچ کیا جائے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بتلائی ہوئی جگہوں پر خرچ کرنے سے گریز کیا جائے۔ قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ جہاں نہ خریدو فروخت ممکن ہوگی نہ کوئی دوستی ہی کسی کام آئے گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ (اے نبی)! میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے ہیں کہہ دیجئے کہ وہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کیا کریں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خریدو فروخت ہو گی اور نہ دوستی کام آئے گی

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

احسان اور احسن سلوک ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی اطاعت کا اور اپنے حق ماننے کا اور مخلوق رب سے احسان وسلوک کرنے کا حکم دے رہا ہے فرماتا ہے کہ ’ نماز برابر پڑھتے رہیں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت ہے اور زکوٰۃ ضرور دیتے رہیں قرابت داروں کو بھی اور انجان لوگوں کو بھی ‘۔
اقامت سے مراد وقت کی، حد کی، رکوع کی، خشوع کی، سجدے کی حفاظت کرنا ہے۔ اللہ کی دی ہوئی روزی اس کی راہ میں پوشیدہ اور کھلے طور پر اس کی خوشنودی کے لیے اوروں کو بھی دینی چاہیئے تاکہ اس دن نجات ملے جس دن کوئی خرید و فروخت نہ ہو گی نہ کوئی دوستی آشنائی ہو گی۔ کوئی اپنے آپ کو بطور فدیے کے بیچنا بھی چاہے تو بھی ناممکن۔
جیسے فرمان ہے «فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مَاْوٰىكُمُ النَّارُ هِىَ مَوْلٰىكُمْ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [57-الحديد:15]‏‏‏‏ یعنی ’ آج تم سے اور کافروں سے کوئی فدیہ اور بدلہ نہ لیا جائے گا۔ وہاں کسی کی دوستی کی وجہ سے کوئی چھوٹے گا نہیں بلکہ وہاں عدل و انصاف ہی ہوگا ‘۔
«خِلَالٌ» مصدر ہے، امراء لقیس کے شعر میں بھی یہ لفظ ہے ؎
«صَرَفْتُ الْهَوَى عَنْهُنَّ مِنْ خَشْيَةِ الرَّدَى وَلَسْتُ بِمُقْلِيِّ الْخِلَالِ وَلَا قَالٍ» ۔ دنیا میں لین دین، محبت دوستی کام آ جاتی ہے لیکن وہاں یہ چیز اگر اللہ کے لیے نہ ہو تو محض بےسود رہے گی۔ کوئی سودا گری، کوئی شناسا وہاں کام نہ آئے گا۔ زمین بھر کر سونا فدیے میں دینا چاہے لیکن رد ہے کسی کی دوستی کسی کی سفارش کافر کو کام نہ دے گی۔
فرمان الٰہی ہے آیت «وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:48]‏‏‏‏ ’ اس دن کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو، جس دن کوئی کسی کو کچھ کام نہ آئے گا، نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ کسی کو کسی کی شفاعت نفع دے گی نہ کوئی کسی کی مدد کر سکے گا ‘۔
فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:254]‏‏‏‏ ’ ایمان دارو جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے، تم اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ بیوپار ہے نہ دوستی نہ شفاعت۔ کافر ہی دراصل ظالم ہیں ‘۔