ترجمہ و تفسیر — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 28

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ کُفۡرًا وَّ اَحَلُّوۡا قَوۡمَہُمۡ دَارَ الۡبَوَارِ ﴿ۙ۲۸﴾
کیا تو نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اتارا۔ En
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا
En
کیا آپ نے ان کی طرف نظر نہیں ڈالی جنہوں نے اللہ کی نعمت کے بدلے ناشکری کی اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں ﻻ اتارا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت29،28) ➊ { اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا …: الْبَوَارِ } یہ {بَارَ يَبُوْرُ } (ن) کا مصدر ہے، معنی ہے:{ فَرْطُ الْكَسَادِ} یعنی انتہائی بے قدر و قیمت ہونا، پھر ہلاکت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ (راغب)
➋ انسان کو اپنے وجود کی نعمت سب سے پہلے مفت ملی، اس نے اس کا شکر اپنے خالق کی اطاعت کے بجائے کفر، یعنی ناشکری اور اس کے وجود یا اطاعت و عبادت سے انکار کے ساتھ کیا اور جو شخص جس قدر سرداری اور نعمت سے بہرہ ور تھا اس نے اتنا ہی اپنی قوم کو غلط راستے پر لگا کر جہنم میں پہنچایا۔ اس لحاظ سے آیت عام ہے مگر سیاق و سباق اور مفسرین کے مطابق یہاں مراد کفار قریش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں پیدا فرما کر اپنے مقدس گھر کا متولی بنا دیا۔ امن و اطمینان اور دنیا کا ہر پھل اور نعمت مہیا فرمائی، انھوں نے اس کا بدلہ توحید اور اطاعتِ الٰہی کے بجائے عین کعبہ میں اور اس کے اردگرد تین سو ساٹھ بت رکھ کر اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں اتار کر دیا، فرمایا: «{ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْبٰۤى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ ‏‏‏‏ [القصص: ۵۷] اور کیا ہم نے انھیں ایک باامن حرم میں جگہ نہیں دی؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔ اور دیکھیے سورۂ قریش۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان میں مبعوث فرما کر دنیا اور آخرت میں سرداری کی نعمت حاصل کرنے کا موقع دیا، مگر انھوں نے آپ پر ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے کے بجائے کفر کو اختیار کیا اور آپ کو ہر ایذا دی، حتیٰ کہ آپ کو حرم میں قتل کر دینے کا منصوبہ بنا لیا، جس کے نتیجے میں ان کے پیروکاروں کو دنیا میں جنگوں، خصوصاً بدر وغیرہ اور آخر میں فتح مکہ کی صورت میں رسوائی اور بربادی ملی، شدید قحط اور مکہ میں قافلوں کی آمد رک جانے کی صورت میں آمدنی ختم ہونے سے انھیں بھوک اور خوف نے گھیر لیا اور آخرت میں جہنم میں جانے کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ فرمایا: «{ وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ (112) وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ [النحل: ۱۱۲، ۱۱۳] اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو انھیں عذاب نے اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ ظالم تھے۔
➌ {اَلَمْ تَرَ:} اس کے اولین مخاطب اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر ہر وہ شخص اس کا مخاطب ہے جو مخاطب ہونے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کے ساتھ انسان خصوصاً کفار قریش کی نعمت کے مقابلے میں ناشکری اور کفرپر تعجب کا اظہار فرمایا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28۔ 1 اس کی تفسیر صحیح بخاری میں ہے کہ اس سے مراد کفار مکہ ہیں، جنہوں نت رسالت محمدیہ کا انکار کر کے اور جنگ بدر میں مسلمانوں سے لڑ کر اپنے لوگوں کو ہلاک کروایا، تاہم اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہ عام ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے رحمتہ للعالمین اور لوگوں کے لئے نعمت الٰہیہ بنا کر بھیجا، پس جس نے اس نعمت کی قدر کی، اسے قبول کیا، اس نے شکر ادا کیا، وہ جنتی ہوگیا اور جس نے اس نعمت کو رد کردیا اور کفر اختیار کیے رکھا، وہ جہنمی قرار پایا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت [36] پر غور نہیں کیا جنہوں نے اللہ کی نعمت (ایمان) کو کفر سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر جا اتارا
[36] ان لوگوں سے مراد قریشی مشرک سردار ہیں جن کے ہاتھ میں اس وقت سارے عرب کی باگ ڈور تھی۔ یہ لوگ بیت اللہ کے پاسبان تھے اور اسی پاسبانی کی وجہ سے ان کی عرب بھر میں عزت کی جاتی تھی۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور قرآن نازل فرمایا۔ یہ اللہ کی ان پر دوسری بڑی مہربانی تھی۔ مگر ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کا جواب ضد اور عناد سے دیا۔ حق کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔ پھر اس مخالفت میں بڑھتے ہی گئے تا آنکہ خود بھی تباہ ہوئے اور اپنی قوم کو بھی تباہ کر کے چھوڑا اور مرنے کے بعد خود بھی جہنم واصل ہوں گے اور اپنے پیرو کاروں کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

منافقین قریش ٭٭
صحیح بخاری میں ہے[صحیح بخاری:کتاب التفسیر:سورۃ ابراھیم باب:3]‏‏‏‏ «أَلَمْ تَرَ» معنی میں «أَلَمْ تَعْلَمْ» کے ہے یعنی کیا تو نہیں جانتا «بَوَارِ» کے معنی ہلاکت کے ہیں «بَارَ يَبُورُ بَوْرًا» ‏‏‏‏ سے «بُورًا» ‏‏‏‏ کے معنی «هَالِكِينَ» کے ہیں۔
مراد ان لوگوں سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفار اہل مکہ ہیں اور قول ہے کہ مراد اس سے جبلہ بن ابہم اور اس کی اطاعت کرنے والے وہ عرب ہیں جو رومیوں سے مل گئے تھے۔‏‏‏‏ [تفسیر قرطبی:451/7]‏‏‏‏
لیکن مشہور اور صحیح قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اول ہی ہے۔ گو الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے تمام کفار مشتمل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر اور کل لوگوں کے لیے نعمت بنا کر بھیجا ہے جس نے اس رحمت و نعمت کی قدر دانی کی وہ جنتی ہے اور جس نے ناقدری کی وہ جہنمی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایک قول سیدنا ابن عباس کے پہلے قول کی موافقت میں مروی ہے ابن کواء کے جواب میں آپ رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ بدر کے دن کے کفار قریش ہیں۔‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص کے سوال پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مراد اس سے منافقین قریش ہیں۔‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ فرمایا کہ کیا مجھ سے قرآن کی بابت کوئی کچھ بات دریافت نہیں کرتا؟ واللہ! میرے علم میں اگر آج کوئی مجھ سے زیادہ قرآن کا عالم ہوتا تو چاہے وہ سمندروں پار ہوتا لیکن میں ضرور اس کے پاس پہنچتا۔ یہ سن کر عبداللہ بن کواء کھڑا ہوگیا اور کہا یہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمان الٰہی ہے کہ انہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدلا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا؟
آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ مشریکن قریش ہیں ان کے پاس اللہ کی نعمت ایمان پہنچی لیکن اس نعمت کو انہوں نے کفر سے بدل دیا۔‏‏‏‏
اور روایت میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد قریش کے دو فاجر ہیں بنو امیہ اور بنو مغیرہ۔‏‏‏‏ بنو مغیرہ نے اپنی قوم کو بدر میں لا کھڑا کیا اور انہیں ہلاکت میں ڈالا اور بنو امیہ نے احد والے دن اپنے والوں کو غارت کیا۔ بدر میں ابوجہل تھا اور احد میں ابوسفیان اور ہلاکت کے گھر سے مراد جہنم ہے۔
اور روایت میں ہے کہ بنو مغیرہ تو بدر میں ہلاک ہوئے اور بنو امیہ کو کچھ دنوں کا فائدہ مل گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جب آپ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ دونوں قریش کے بدکار ہیں۔ میرے ماموں اور تیرے چچا، میری ممیاں والے تو بدر کے دن ناپید ہوگئے اور تیرے چچا والوں کو اللہ نے مہلت دے رکھی ہے۔ یہ جہنم میں جائیں گے جو بری جگہ ہے۔ انہوں نے خود شرک کیا دوسروں کو شرک کی طرف بلایا۔‏‏‏‏
’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہہ دو کہ دنیا میں کچھ کھا پی لو پہن اوڑھ لو آخر ٹھکانا تو تمہارا جہنم ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24]‏‏‏‏ ’ ہم انہیں یونہی سا آرام دے دیں گے پھر سخت عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے ‘۔
«مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» ۱؎ [10-یونس:70]‏‏‏‏ ’ دنیاوی نفع اگرچہ ہو گا لیکن لوٹیں گے تو ہماری ہی طرف اس وقت ہم انہیں ان کے کفر کی وجہ سے سخت عذاب کریں گے ‘۔