وَ اسۡتَفۡتَحُوۡا وَ خَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۱۵﴾
اور انھوں نے فیصلہ مانگا اور ہر سرکش، سخت عناد رکھنے والا نامراد ہوا۔
En
اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو ہر سرکش ضدی نامراد رہ گیا
En
اور انہوں نے فیصلہ طلب کیا اور تمام سرکش ضدی لوگ نامراد ہوگئے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت15){وَ اسْتَفْتَحُوْا …: } فتح کا معنی قرآن مجید میں ”فتح و نصرت“ بھی آیا ہے اور ”فیصلہ“ بھی۔ {” اسْتَفْتَحُوْا “} کا معنی انھوں نے فتح و نصرت مانگی، یا انھوں نے فیصلہ مانگا اور اس کا فاعل پیغمبر بھی ہو سکتے ہیں اور کفار بھی۔ اگر معنی فتح و نصرت ہو تو مطلب یہ ہو گا کہ پیغمبروں نے بے شمار آزمائشیں آنے پر اپنے رب سے فتح و نصرت کی دعا کی جو قبول ہوئی، فرمایا: «{ حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ }» [البقرۃ: ۲۱۴] ”یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے کہہ اٹھے، اللہ کی مدد کب ہو گی؟ سن لو بے شک! اللہ کی مدد قریب ہے۔“ اگر {” اسْتَفْتَحُوْا “} کا فاعل کفار ہوں تو مطلب یہ ہو گا کہ ”کافروں نے اپنے داتاؤں اور دستگیروں سے فتح و نصرت کی دعا مانگی مگر وہ ناکام ہوئے۔“ اگر فتح کا معنی فیصلہ ہو تو مطلب ہو گا کہ پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، فرمایا: «{ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ }» [الأعراف: ۸۹] ”اے ہمارے رب! تو ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔“ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر سرکش و سخت عناد رکھنے والا ناکام و نامراد ہوا۔ یا مطلب یہ ہے کہ کفار نے اللہ تعالیٰ سے فیصلے کی دعا کی، فرمایا: «{ وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ }» [الأنفال: ۳۲] ”اور جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔“ {” اسْتَفْتَحُوْا “ } کے ان چاروں معنوں میں سے جو معنی بھی کریں وہ درست ہے اور قرآن مجید کے مختلف مقامات پر چاروں معانی موجود ہیں۔ قرآن کا اعجاز دیکھیے کہ ایک ہی لفظ ایسا بولا جو چاروں پر صادق آتا ہے۔ غرض دنیا میں نتیجہ یہ نکلا کہ ہر سرکش اور سخت عناد رکھنے والا کافر ناکام اور نامراد ہوا۔ رہا آخرت کا انجام تو وہ آئندہ آیت میں مذکور ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 اس کا فاعل ظالم مشرک بھی ہوسکتے ہیں کہ انہوں نے بالآخر اللہ سے فیصلہ طلب کیا۔ یعنی اگر یہ رسول سچے ہیں تو یا اللہ ہم کو اپنے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر دے جیسے مشرکین مکہ نے کہا (اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) 8۔ الانفال:32) ' اور جب کہ ان لوگوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ قرآن آپ کی طرف سے واقعی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب واقع کر دے '۔ جس طرح جنگ بدر کے موقع پر مشرکین مکہ نے اس قسم کی آرزو کی تھی جس کا ذکر اللہ نے (انفال۔ 19) میں کیا ہے یا اس کا فاعل رسول ہوں کہ انہوں نے اللہ سے فتح و نصرت کی دعائیں کیں، جنہیں اللہ نے قبول کیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ رسولوں نے فتح کی دعا [19] مانگی تھی اور (اس کے نتیجہ میں) ہر جابر دشمن نامراد ہو گیا
[19] یعنی ایک طرف تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے فتح و نصرت کے لیے دعا مانگ رہے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مخالفین یہ مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب کیوں نہیں لے آتے جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے رہتے ہو۔ اس وقت اللہ رسولوں کی مدد کرتا ہے اور سرکش معاندین اور ہٹ دھرم لوگوں کا سر کچل دیتا ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» ۱؎ [37-الصافات:171-173] کہ ’ ہمارا کلمہ ہمارے رسولوں کے بارے میں سبقت کر چکا ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا ‘۔
اور آیت میں ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ’ اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے ‘۔
اور آیت میں ارشاد ہے کہ «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:105] ’ ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے ‘۔
موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ «قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّـهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:128] ’ تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا» ۱؎ [7-الأعراف:137] ’ ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہو گیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یک مشت خاک میں مل گئیں ‘۔
نبیوں سے فرما دیا گیا کہ ’ یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لیے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں ‘۔
جیسے فرمان باری ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:41-37]، یعنی ’ جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» ۱؎ [55-الرحمن:46] ’ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں ‘۔
اور آیت میں ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ’ اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے ‘۔
اور آیت میں ارشاد ہے کہ «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:105] ’ ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے ‘۔
موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ «قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّـهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:128] ’ تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا» ۱؎ [7-الأعراف:137] ’ ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہو گیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یک مشت خاک میں مل گئیں ‘۔
نبیوں سے فرما دیا گیا کہ ’ یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لیے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں ‘۔
جیسے فرمان باری ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:41-37]، یعنی ’ جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» ۱؎ [55-الرحمن:46] ’ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں ‘۔
رسولوں نے اپنے رب سے مدد و فتح اور فیصلہ طلب کیا یا یہ کہ ان کی قوم نے اسے طلب کیا جیسے قریش مکہ نے کہا تھا کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ۱؎ [8-الأنفال:32] ’ الٰہی اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب ہمیں کر ‘۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الٰہی آج سچے کو غالب کر یہی ہوا بھی۔
مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ «إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ وَإِن تَنتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ» ۱؎ [8-الأنفال:19] ’ تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آ گئی اب بھی اگر باز آ جاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے ‘ الخ۔
نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہو گا کہ «أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ» ۱؎ [50-ق:26-24] ’ ہر ایک کافر سر کش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ ‘۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الٰہی آج سچے کو غالب کر یہی ہوا بھی۔
مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ «إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ وَإِن تَنتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ» ۱؎ [8-الأنفال:19] ’ تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آ گئی اب بھی اگر باز آ جاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے ‘ الخ۔
نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہو گا کہ «أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ» ۱؎ [50-ق:26-24] ’ ہر ایک کافر سر کش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ ‘۔
حدیث شریف میں ہے کہ { «إِنَّهُ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتُنَادِي الْخَلَائِقَ فَتَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ» قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا وہ تمام مخلوق کو ندا کر کے کہے گی کہ میں ہر ایک سر کش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں }۔ [سنن ترمذي:2574، قال الشيخ الألباني:صحیح] الخ۔
اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہو گا جب کہ انبیاء علیہم السلام تک اللہ کے سامنے گڑگڑا رہے ہوں گے۔ «وَرَاء» یہاں پر معنی «أَمَامُ» سامنے کے ہیں جیسے آیت «وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا» ۱؎ [18-الکھف:79] میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت ہی «وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ» ہے۔
غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہو گی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہو گا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر وہاں اس کے لیے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبودار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے۔ جیسے فرما «هَـٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَآخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ» ۱؎ [38-ص:58،57]
پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا۔ «صَدِيدٍ» کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہوگا۔ اسی کو «طِينَةُ الْخَبَالِ» بھی کہا جاتا ہے۔ [مسند احمد:460/6:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ { جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہو گی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گر پڑے گی۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2583،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کا فرمان ہے کہ «وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:15] ’ جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ‘۔
اور آیت میں ہے «وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ» ۱؎ [18-الکھف:29] ’ ان کی تواضع اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہو گا جو چہرے بھون دے گا بڑا ہی برا پانی ہے ‘۔
جبراً گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا، فرشتے لوہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے، بدمزگی، بدبو، حرارت، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہو گا۔ بدن میں، اعضاء میں، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہو گی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہو سکتی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آ رہی ہے لیکن آتی نہیں۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لیے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آ گئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں۔
جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ «إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:68-64] ’ وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے ‘۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اللہ کی پناہ۔
اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہو گا جب کہ انبیاء علیہم السلام تک اللہ کے سامنے گڑگڑا رہے ہوں گے۔ «وَرَاء» یہاں پر معنی «أَمَامُ» سامنے کے ہیں جیسے آیت «وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا» ۱؎ [18-الکھف:79] میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت ہی «وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ» ہے۔
غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہو گی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہو گا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر وہاں اس کے لیے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبودار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے۔ جیسے فرما «هَـٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَآخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ» ۱؎ [38-ص:58،57]
پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا۔ «صَدِيدٍ» کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہوگا۔ اسی کو «طِينَةُ الْخَبَالِ» بھی کہا جاتا ہے۔ [مسند احمد:460/6:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ { جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہو گی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گر پڑے گی۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2583،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اللہ کا فرمان ہے کہ «وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:15] ’ جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ‘۔
اور آیت میں ہے «وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ» ۱؎ [18-الکھف:29] ’ ان کی تواضع اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہو گا جو چہرے بھون دے گا بڑا ہی برا پانی ہے ‘۔
جبراً گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا، فرشتے لوہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے، بدمزگی، بدبو، حرارت، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہو گا۔ بدن میں، اعضاء میں، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہو گی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہو سکتی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آ رہی ہے لیکن آتی نہیں۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لیے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آ گئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں۔
جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ «إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:68-64] ’ وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے ‘۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اللہ کی پناہ۔
فرمان رب عالیشان ہے آیت «هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ» ۱؎ [55-الرحمن:43] ’ یہی وہ جہنم ہے جسے کافر جھٹلاتے رہے ‘۔ آج جہنم کے اور ابلتے ہوئے تیز گرم پانی کے درمیان وہ چکر کھاتے پھریں گے۔
اور آیت میں ہے کہ «إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَذَا مَا كُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ» ۱؎ [44-الدخان:43-50] ’ زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے ‘۔
سورۃ الواقعہ میں فرمایا کہ «وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ» [56-الواقعة:41-44] ’ وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت ‘۔
دوسری آیت میں ہے «هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ» ۱؎ [38-ص:58-55] ’سرکشوں کے لیے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ‘۔ «وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ» ۱؎ [41-فصلت:46] ’ یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہو گا نہ کہ اللہ کا ظلم ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَذَا مَا كُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ» ۱؎ [44-الدخان:43-50] ’ زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے ‘۔
سورۃ الواقعہ میں فرمایا کہ «وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ» [56-الواقعة:41-44] ’ وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت ‘۔
دوسری آیت میں ہے «هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ» ۱؎ [38-ص:58-55] ’سرکشوں کے لیے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ‘۔ «وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ» ۱؎ [41-فصلت:46] ’ یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہو گا نہ کہ اللہ کا ظلم ‘۔