ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرعد (13) — آیت 9

عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡکَبِیۡرُ الۡمُتَعَالِ ﴿۹﴾
وہ غیب اور حاضر کو جاننے والا، بہت بڑا، نہایت بلند ہے۔ En
وہ دانائے نہاں وآشکار ہے سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے
En
ﻇاہر وپوشیده کا وه عالم ہے (سب سے) بڑا اور (سب سے) بلند وباﻻ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت9){عٰلِمُ الْغَيْبِ …: الْكَبِيْرُ } میں بھی مبالغہ ہے اور { الْمُتَعَالِ } (جو اصل میں {عَلَا يَعْلُوْ } کے باب تفاعل سے {مُتَعَالِوٌ} تھا) میں حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ مراد ہے۔ {مُتَعَالِوٌ} کی واؤ کو یاء سے بدلا تو {مُتَعَالِيٌ} ہوا، پھر یاء کو آیات کے آخری الفاظ (جنھیں اصطلاح میں فاصلہ، فواصل کہتے ہیں) کی موافقت اور تخفیف کے لیے حذف کر دیا گیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی کبریائی اور بلندی کا بے حد و حساب ہونا بیان ہوا ہے، جو درحقیقت پچھلی بات ہی کی تاکید ہے۔ { الْغَيْبِ } مصدر ہے، بمعنی اسم فاعل، یعنی غائب جو حواس اور بدیہ عقل سے غائب ہو۔ { الشَّهَادَةِ } مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی جو شاہد و حاضر ہے۔ اسم فاعل کو مصدر کی صورت میں لانے سے مبالغہ مقصود ہے، جیسے {زَيْدٌ عَادِلٌ} کے بجائے {زَيْدٌ عَدْلٌ} کہتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ وہ چھپی اور ظاہر ہر طرح کی باتوں [14] کو جاننے والا ہے سب سے بڑا ہے عالی شان والا ہے
[14] علم غیب اور شہادت کی صورتیں:۔
یعنی ماضی، حال اور مستقبل اللہ کی نگاہوں میں یکساں حیثیت رکھتے ہیں، وہ پیش آنے والے حالات کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح گزرے ہوئے واقعات اور موجودہ حالات کو جانتا ہے یا وہ ان قوانین فطرت کو بھی اسی طرح جانتا ہے جنہیں ابھی تک انسان دریافت نہیں کر سکا یا وہ اس کی دسترس سے باہر ہیں۔ جس طرح ان قوانین کو جانتا ہے جنہیں انسان دریافت کر چکا ہے یا کر رہا ہے۔ غرض غیب اور شہادت اتنے وسیع المفہوم الفاظ ہیں کہ ان میں بہت سے معانی کی گنجائش موجود ہے اور اس کے علم کی یہ لامحدود وسعت ہی اس کے سب سے بڑا اور عالی شان ہونے کی دلیل ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

علم الہٰی ٭٭
اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، تمام جاندار مادہ حیوان ہوں یا انسان، ان کے پیٹ کے بچوں کا، ان کے حمل کا، اللہ کو علم ہے کہ «وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ» ۱؎ [31-لقمان:34]‏‏‏‏ ’ پیٹ میں کیا ہے؟ اسے اللہ بخوبی جانتا ہے ‘ یعنی مرد ہے یا عورت؟ اچھا ہے یا برا؟ نیک ہے یا بد؟ عمر والا ہے یا بےعمر کا؟ چنانچہ ارشاد ہے «هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ» ۱؎ [53-النجم:32]‏‏‏‏ ’ وہ بخوبی جانتا ہے جب کہ تمہیں زمین سے پیدا کرتا ہے اور جب کہ تم ماں کے پیٹ میں چھپے ہوئے ہوتے ہو ‘، الخ۔
اور فرمان ہے «يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰث» ۱؎ [39-الزمر:6]‏‏‏‏ ’ وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے ایک کے بعد دوسری پیدائش میں تین تین اندھیروں میں ‘۔
ارشاد ہے «وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:12-14]‏‏‏‏ ’ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے نطفے کو خون بستہ کیا، خون بستہ کو لوتھڑا گوشت کا کیا۔ لوتھڑے کو ہڈی کی شکل میں کر دیا۔ پھر ہڈی کو گوشت چڑھایا، پھر آخری اور پیدائش میں پیدا کیا پس بہترین خالق با برکت ہے ‘۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی رہتی ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک وہ بصورت خون بستہ رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک وہ بصورت خون بستہ رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک وہ گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ خالق کا ایک فرشے کو بھیجتا ہے، جسے چار باتوں کے لکھ لینے کا حکم ہوتا ہے، اس کا رزق عمر عمل اور نیک بد ہونا لکھ لیتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6594]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے { وہ پوچھتا ہے کہ اے اللہ مرد ہو گا یا عورت؟ شقیق ہو گا یا سعید؟ روزی کیا ہے؟ عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ بتلاتا ہے اور وہ لکھ لیتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3333]‏‏‏‏
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں بجز اللہ تعالیٰ علیم وخبیر کے اور کوئی نہیں جانتا کل کی بات اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ پیٹ میں کیا بڑھتا ہے اور کیا گھٹتا ہے کوئی نہیں جانتا۔ بارش کب برسے گی اس کا علم بہی کسی کو نہیں کون شخص کہاں مرے گا اسے بھی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کب قائم ہوگی اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4697]‏‏‏‏
پیٹ میں کیا گھٹتا ہے اس سے مراد حمل کا ساقط ہو جانا ہے اور رحم میں کیا بڑھ رہا ہے کیسے پورا ہو رہا ہے، یہ بھی اللہ کو بخوبی علم رہتا ہے۔ دیکھ لو کوئی عورت دس مہینے لیتی ہے کوئی نو۔ کسی کا حمل گھٹتا ہے، کسی کا بڑھتا ہے۔ نو ماہ سے گھٹنا، نو سے بڑھ جانا اللہ کے علم میں ہے۔
ضحاک رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں دو سال ماں کے پیٹ میں رہا جب پیدا ہوا تو میرے اگلے دو دانت نکل آئے تھے۔‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ حمل کی انتہائی مدت دو سال کی ہوتی ہے۔‏‏‏‏
کمی سے مراد بعض کے نزدیک ایام حمل میں خون کا آنا اور زیادتی سے مراد نو ماہ سے زیادہ حمل کا ٹھہرا رہنا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نو سے پہلے جب عورت خون کو دیکھے تو نو سے زیادہ ہو جاتے ہیں مثل ایام حیض کے۔ خون کے گرنے سے بچہ اچھا ہو جاتا ہے اور نہ گرے تو بچہ پورا پاٹھا اور بڑا ہوتا ہے۔
مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں بالکل بے غم، بے کھٹکے اور باآرام ہوتا ہے۔ اس کی ماں کے حیض کا خون اس کی غذا ہوتا ہے، جو بے طلب آرام اسے پہنچتا رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماں کو ان دنوں حیض نہیں آتا۔ پھر جب بچہ پیدا ہوتا ہے زمین پر آتے ہی روتا چلاتا ہے، اس انجان جگہ سے اسے وحشت ہوتی ہے، جب اس کی نال کٹ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روزی ماں کے سینے میں پہنچا دیتا ہے اور اب بھی بے طلب، بے جستجو، بے رنج و غم، بے فکری کے ساتھ اسے روزی ملتی رہتی ہے۔ پھر ذرا بڑا ہوتا ہے اپنے ہاتھوں کھانے پینے لگتا ہے۔
لیکن بالغ ہوتے ہی روزی کے لیے ہائے ہائے کرنے لگتا ہے۔ موت اور قتل تک سے روزی حاصل ہونے کا امکان ہو تو پس وپیش نہیں کرتا۔ افسوس اے ابن آدم تجھ پر حیرت ہے جس نے تجھے تیری ماں کے پیٹ میں روزی دی، جس نے تجھے تیری ماں کی گود میں روزی دی جس نے تجھے بچے سے بالغ بنانے تک روزی دی۔ اب تو بالغ اور عقلمند ہو کر یہ کہنے لگا کہ ہائے کہاں سے کھاؤں گا؟ موت ہو یا قتل ہو؟ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ ہر چیز اس کے پاس اندازے کے ساتھ موجود ہے رزق اجل سب مقرر شدہ ہے۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی صاحبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی بھیجا کہ میرا بچہ آخری حالت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ ان سے کہہ دو کہ جو اللہ لے لے وہ اسی کا ہے، جو دے رکھے وہ بھی اسی کا ہے، ہر چیز کیا صحیح اندازہ اسی کے پاس ہے، ان سے کہہ دو کو صبر کریں اور اللہ سے ثواب کی امید رکھیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1284]‏‏‏‏
اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو بھی جانتا ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہے اور اسے بھی جو بندوں پر ظاہر ہے، اس سے کچھ بھی مخفی نہیں۔ وہ سب سے بڑا،وہ ہر ایک سے بلند ہے ہر چیز اس کے علم میں ہے ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز ہے، تمام سر اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں تمام بندے اس کے سامنے عاجز لاچار اور محض بے بس ہیں۔