ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرعد (13) — آیت 39

یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثۡبِتُ ۚۖ وَ عِنۡدَہٗۤ اُمُّ الۡکِتٰبِ ﴿۳۹﴾
اللہ مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔ En
خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے
En
اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ﺛابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت39){يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَ يُثْبِتُ …:} بظاہر یہ آیت اس حدیث کے خلاف ہے:ـ [جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ] [بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من التبتل والخصاء: ۵۰۷۶] جس چیز یا حال کو تم ملنے والے ہو قلم اس کے ساتھ خشک ہو چکا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو فیصلہ ہو چکا وہ اب مٹنے والا نہیں، اس سوال کے حل کے لیے اس آیت کی تفسیر اہل علم نے دو طرح سے کی ہے، ایک تو یہ کہ جس طرح معجزہ اور کرامت اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، کسی دوسرے کا اس میں کچھ دخل نہیں، اسی طرح کسی حکم کو باقی رکھنا یا اسے منسوخ کر دینا بھی اسی کے اختیار میں ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ کون سا حکم کب تک باقی رکھنا ہے اور کون سا حکم منسوخ کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ گویا یہ یہود پر رد ہے جو نسخ کے قائل نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں بھی ان پر رد فرمایا: «{ مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا [البقرۃ: ۱۰۶] یعنی جو بھی آیت ہم منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لے آتے ہیں اور یہ سب باقی رکھنا یا منسوخ کرنا (محو و اثبات) ام الکتاب میں درج ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت (۱۰۶) کی تفسیر بھی ملاحظہ فرما لیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے ایک رسول کے احکام پر عمل قائم رکھتا ہے، پھر جس وقت چاہتا ہے بعد میں آنے والے رسول کے احکام پر عمل فرض کر دیتا ہے اور پہلے پر عمل ختم کر دیتا ہے۔ { يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَ يُثْبِتُ } میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی بندے کے نامۂ اعمال میں کوئی بھی نیک یا بدعمل اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو باقی رکھتا ہے، چاہتا ہے تو مٹا دیتا ہے اور یہ نہیں کہ پہلے اسے علم نہیں تھا کہ میں نے کیا ثابت رکھنا ہے اور کیا مٹانا ہے، بلکہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ تقدیر کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، اسے قضائے مبرم کہتے ہیں اور یہ وہی ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ] [بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من التبتل والخصاء: ۵۰۷۶] تم جس چیز یا حال کو ملنے والے ہو اس کے ساتھ قلم خشک ہو چکا ہے۔ اور ایک تقدیر وہ ہے جس میں تبدیلی ہوتی ہے، اسے تقدیر معلق کہتے ہیں اور وہ بھی اللہ کے علم میں ہے۔ چنانچہ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے، بعض اسباب ظاہر ہیں اور بعض چھپے ہیں۔ اسباب کی تاثیر کا ایک اندازہ مقرر ہے، جب اللہ چاہے ان کی تاثیر اندازے سے کم یا زیادہ کر دے اور جب چاہے ویسی ہی رکھے۔ آدمی کبھی کنکر سے مرتا ہے اورگولی سے بچتا ہے اور ایک اندازہ ہر چیز کا اللہ کے علم میں ہے، وہ ہر گز نہیں بدلتا۔ اندازے کو تقدیر کہتے ہیں، یہ دو تقدیریں ہوئیں، ایک بدلتی ہے (تقدیر تاثیر اسباب) اور ایک نہیں بدلتی (یعنی علمِ الٰہی (موضح)
شیخ ناصر الدین البانی نے سلسلہ الاحادیث الضعیفہ (۵۴۴۸) میں فرمایا: قرطبی نے بھی اپنی تفسیر الجامع (۵؍۳۳۲) میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے، وہ لکھتے ہیں: اور عقیدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے (قضا) میں تبدیلی نہیں ہوتی اور یہ محو و اثبات بھی ان چیزوں میں شامل ہے جن کا فیصلہ پہلے ہو چکا ہے اور یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ قضا میں سے کچھ چیزیں وہ ہیں جو لازماً ہو کر رہنی ہیں، یہ وہ ہیں جو ثابت (مبرم) ہیں اور کچھ وہ ہیں جن میں بعض اسباب سے تبدیلی ہو جاتی ہے، یہ محو (مٹائی ہوئی) ہیں۔ (واللہ اعلم) غزنوی رحمہ اللہ نے فرمایا: میرے نزدیک یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ ہے وہ غیب سے نکل چکا ہے، کیونکہ بعض فرشتے بھی اس سے واقف ہیں، اس لیے وہ تبدیل ہو سکتا ہے، کیونکہ مخلوق کا اللہ تعالیٰ کے پورے علم سے واقف ہونا محال ہے اور اس کے علم میں اشیاء کی جو تقدیر اور طے شدہ بات ہے وہ کبھی نہیں بدلتی۔ (سلسلہ ضعیفہ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ غزنوی سے مراد عالی بن ابراہیم بن اسماعیل ہیں جن کا لقب تاج الشریعہ ہے، یہ ایک حنفی فقیہ مفسر ہیں، ان کی کتاب تفسیر التفسیر ہے جو بہت عمدہ ہے، جیسا کہ کئی علماء نے فرمایا ہے، ۵۸۲ ھ میں فوت ہوئے۔ الاعلام) خلاصہ یہ کہ اس محو و اثبات کا اس بدا کے غلط عقیدے سے کوئی تعلق نہیں جو بعض گمراہ لوگوں نے اختیار کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تم کوئی کام کرو، پھر اس کا غلط ہونا تمھیں معلوم ہو تو اسے بدل دو۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا حرام ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی جانتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط ہے۔
اس تفصیل سے اللہ کے فیصلے کے بدل نہ سکنے کے عقیدے اور ان تمام احادیث و اقوال صحابہ کے متعلق اشکال ختم ہو جاتا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات تقدیر بدل سکتی ہے، خصوصاً دعا سے، مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: [لاَ يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلاَّ الدُّعَاءُ وَلَا يَزِيْدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ] [ترمذی، القدر، باب ما جاء لا یرد القدر إلا الدعاء: ۲۱۳۹۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 153/1، ح: ۱۵۴] تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں ٹالتی اور عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز زیادہ نہیں کرتی۔ اسی طرح بعض صحابہ کی دعائیں کہ یا اللہ! اگر تو نے مجھے شقی لکھا ہے تو اسے بدل کر سعید لکھ دے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

39۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ ہیں وہ جس حکم کو چاہے منسوخ کردے اور جسے چاہے باقی رکھے۔ دوسرے معنی یہ ہیں اس نے جو تقدیر لکھ رکھی ہے، اس میں محو و اثبات کرتا رہتا ہے، اس کے پاس لوح محفوط ہے۔ اس کی تائید بعض احادیث و آثار سے ہوتی ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں آتا ہے کہ ' آدمی گناہوں کی وجہ سے رزق سے محروم کردیا جاتا ہے، دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے اور صلہ رحمی سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے (مسند احمد جلد۔ 5 ص۔ 277) بعض صحابہ سے یہ دعا منقول ہے (اللَّھُمَّ اِنْ کُنْتَ کَتَبْتَّنَا اٰشْقِیَاءَ فَامْحُنَا وَاَکْتُبْنَا سُعَدَاءَ وَاِنَّ کُنْتَ کَتَبْتَنَا سُعَدَاءَ فَائُبِسْتُنَا فَاِنَّکَ تَمْحُوْ مَا تَشَآءُ وَ تُثْبْتُ وَ عِنْدَکَ اُ مُّ الْکِتَابِ) حضرت عمر ؓ سے منقول ہے کہ وہ دوران طواف روتے ہوئے یہ دعا پڑھتے ـ' اللھم ان کنت کتبت علی شقوۃ او ذنبا فامحہ فانک تمحو ما تشاء وتثبت وعندک ام الکتاب فاجعلہ سعادۃ ومغفرۃ۔ ابن کثیر۔ اے اللہ اگر تو نے مجھ پر بدبختی اور گناہ لکھا ہے تو اسے مٹا دے، اس لئے کہ تو جو چاہے مٹائے اور جو چاہے باقی رکھے، تیرے پاس ہی لوح محفوظ ہے، پس تو بدبختی کو سعادت اور مغفرت سے بدل دے (ابن کثیر) اس مفہم پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ حدیث میں تو آتا ہے جف القلم بما ہو کائن۔ صحیح بخاری۔ جو کچھ ہونے والا ہے قلم اسے لکھ کر خشک ہوچکا ہے اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ محو واثبات بھی منجملہ قضاء و تقدیر ہی کے ہے۔ فتح القدیر۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اللہ جو چاہے (اس سے) مٹا دیتا ہے اور جو چاہے برقرار رکھتا ہے اور اصل کتاب [51] اسی کے پاس ہے
[51] ہر دور کے لئے الگ شریعت:۔
یعنی ہر نبی ایک ہی جیسے دین کے اصول پیش کرتا رہا ہے۔ مگر ان کی شریعتوں میں ان کے دور کے تقاضوں کے مطابق فرق رہا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ موسوی شریعت میں قصاص کا حکم تھا۔ عفو و درگزر کا نہ تھا۔ پھر عیسوی شریعت میں قصاص کے حکم کو پس پشت ڈال دیا گیا اور سارا زور عفو و درگزر پر دیا گیا اور شریعت محمدی میں پھر سے قصاص کا حکم بحال کر دیا گیا مگر افضلیت عفو و درگز کو ہی دی گئی احکام میں اس قسم کا رد و بدل اس دور کے لوگوں کی طبیعتوں کی اصلاح کے لیے کیا گیا۔ اللہ نے جس حکم کو چاہا سابقہ شریعتوں سے بحال رکھا اور جسے چاہا منسوخ کر کے نئی قسم کے احکام دے دیئے اور یہ سب کچھ اللہ کے علم ازلی محیط کے مطابق ہوتا ہے جسے ام الکتاب یا لوح محفوظ کہا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہر کام کا وقت مقرر ہے ٭٭
ارشاد ہے کہ ’ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود انسان ہونے کے رسول اللہ ہیں۔ ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے تمام رسول بھی انسان ہی تھے، کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے بیوی، بچوں والے تھے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ اے اشرف الرسل آپ لوگوں سے کہہ دیجئیے کہ «قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ» ۱؎ [18-الكهف:110]‏‏‏‏ ’ میں بھی تم جیسا ہی ایک انسان ہوں میری طرف وحی الٰہی کی جاتی ہے ‘۔
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا راتوں کو تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں گوشت بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے بھی ملتا ہوں جو شخص میرے طریقے سے منہ موڑ لے وہ میرا نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5063]‏‏‏‏
مسند احمد میں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ چار چیزیں تمام انبیاء علیہم السلام کا طریقہ رہیں خوشبو لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور مہندی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1080،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ ’ معجزے ظاہر کرنا کسی نبی علیہ السلام کے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ عزوجل کے قبضے کی چیز ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے ہر ایک بات مقررہ وقت اور معلوم مدت کتاب میں لکھی ہوئی ہے، ہر شے کی ایک مقدار معین ہے ‘۔
«أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [22-الحج:70]‏‏‏‏ ’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا اللہ کو علم ہے سب کچھ کتاب میں لکھا موجود ہے یہ تو اللہ پر بہت ہی آسان ہے ‘۔
ہر کتاب کی جو آسمان سے اتری ہے اس کی ایک اجل ہے اور ایک مدت مقرر ہے ان میں سے جسے چاہتا ہے منسوخ کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ پس اس قرآن سے جو اس نے اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ پر نازل فرمایا ہے تمام اگلی کتابیں منسوخ ہو گئیں۔
اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے سال بھر کے امور مقرر کر دئے لیکن اختیار سے باہر نہیں جو چاہا باقی رکھا جو چاہا بدل دیا۔ سوائے شقاوت، سعادت، حیات و ممات کے، کہ ان سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے ان میں تغیر نہیں ہونا۔
منصور کہتے ہیں میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ہم میں سے کسی کا یہ دعا کرنا کیسا ہے کہ الٰہی اگر میرا نام نیکوں میں ہے تو باقی رکھ اور اگر بدوں میں ہے تو اسے ہٹا دے اور نیکوں میں کر دے۔‏‏‏‏ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ تو اچھی دعا ہے، سال بھر کے بعد پھر ملاقات ہوئی یا کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا تھا تو میں نے ان سے یہی بات دریافت کی آپ رحمہ اللہ نے «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ» ۱؎ [44-الدخان:3،4]‏‏‏‏ سے دو آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا لیلۃ القدر میں سال بھر کی روزیاں، تکلیفیں مقرر ہو جاتی ہیں۔ پھر جو اللہ چاہے مقدم مؤخر کرتا ہے، ہاں سعادت شقاوت کی کتاب نہیں بدلتی۔‏‏‏‏
شفیق بن سلمہ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ! اگر تو نے ہمیں بدبختوں میں لکھا ہے تو اسے مٹا دے اور ہماری گنتی نیکوں میں لکھ لے اور اگر تو نے ہمیں نیک لوگوں میں لکھا ہے تو اسے باقی رکھ تو جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے باقی رکھے اصل کتاب تیرے ہی پاس ہے۔‏‏‏‏
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے روتے روتے یہ دعا پڑھا کرتے تھے «اللَّهُمَّ إِنْ كُنْت كَتَبْت عَلَيَّ شِقْوَة أَوْ ذَنْبًا فَامْحُهُ فَإِنَّك تَمْحُو مَا تَشَاء وَتُثْبِت وَعِنْدك أُمّ الْكِتَاب فَاجْعَلْهُ سَعَادَة وَمَغْفِرَة» اے اللہ اگر تو نے مجھ پر برائی اور گناہ لکھ رکھے ہیں تو انہیں مٹا دے تو جسے چاہے مٹاتا ہے اور باقی رکھتا ہے ام الکتاب تیرے پاس ہی ہے تو اسے سعادت اور رحمت کر دے۔‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی یہی دعا کیا کرتے تھے۔
کعب رحمہ اللہ نے امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر ایک آیت کتاب اللہ میں نہ ہوتی تو میں قیامت تک جو امور ہونے والے ہیں سب آپ رضی اللہ عنہ کو بتا دیتا۔ پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:401/7:ضعیف و کذب]‏‏‏‏ ان تمام اقوال کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر کی الٹ پلٹ اللہ کے اختیار کی چیز ہے۔
چنانچہ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { بعض گناہوں کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم کر دیا جاتا ہے اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی اور عمر کی زیادتی کرنے والی بجز نیکی کے کوئی چیز نہیں }۔ نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4022:قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]‏‏‏‏
اور صحیح حدیث میں ہے کہ { صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5986]‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { دعا اور قضاء دونوں کی مڈبھیڑ آسمان و زمین کے درمیان ہوتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:486]‏‏‏‏
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ عزوجل کے پاس لوح محفوظ ہے جو پانچ سو سال کے راستے کی چیز ہے سفید موتی کی ہے یاقوت کے دو پٹھوں کے درمیان۔ تریسٹھ بار اللہ تعالیٰ اس پر توجہ فرماتا ہے۔ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ام الکتاب اسی کے پاس ہے۔‏‏‏‏
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { رات کی تین ساعتیں باقی رہنے پر دفتر کھولا جاتا ہے پہلی ساعت میں اس دفتر پر نظر ڈالی جاتی ہے جسے اس کے سوا کوئی اور نہیں دیکھتا پس جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2502:ضعیف]‏‏‏‏
کلبی فرماتے ہیں روزی کو بڑھانا گھٹانا عمر کو بڑھانا گھٹانا اس سے مراد ہے، ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے یہ بات کس نے بیان کی؟ فرمایا ابوصالح نے ان سے جابر بن عبداللہ بن رباب نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
پھر ان سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو جواب دیا کہ جمعرات کے دن سب باتیں لکھی جاتی ہیں ان میں سے جو باتیں جزا سزا سے خالی ہوں نکال دی جاتی ہیں جیسے تیرا یہ قول کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں آیا، میں گیا وغیرہ جو سچی باتیں ہیں اور ثواب عذاب کی چیزیں نہیں اور باقی جو ثواب عذاب کی چیزیں ہیں وہ رکھ لی جاتی ہیں۔‏‏‏‏
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ جو کتابیں ہیں ایک میں کمی زیادتی ہوتی ہے اور اللہ کے پاس ہے اصل کتاب وہی ہے۔‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20487:ضعیف]‏‏‏‏ فرماتے ہیں مراد اس سے وہ شخص ہے جو ایک زمانے تک تو اللہ کی اطاعت میں لگا رہتا ہے پھر معصیت میں لگ جاتا ہے اور اسی پر مرتا ہے پس اس کی نیکی محو ہو جاتی ہے اور جس کے لیے ثابت رہتی ہے۔‏‏‏‏
یہ وہ ہے جو اس وقت تو نافرمانیوں میں مشغول ہے لیکن اللہ کی طرف سے، اس کے لیے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہو چکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الٰہی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لیے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہو چکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الٰہی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لیے ثابت رہتی ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے نہ بخشے، اور آیت میں ہے «فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [2-البقرة:284]‏‏‏‏ ’ وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے جو چاہتا ہے منسوخ کرتا ہے جو چاہتا ہے تبدیل نہیں کرتا ناسخ کا اختیار اسی کے پاس ہے اور اول بدل بھی۔‏‏‏‏
بقول قتادہ رحمہ اللہ یہ آیت مثل آیت «مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [2-البقرة:106]‏‏‏‏، کے ہے یعنی ’ جو چاہے منسوخ کر دے جو چاہے باقی اور جاری رکھے ‘۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب اس سے پہلے کی آیت اتری کہ ’ کوئی رسول بغیر اللہ کے فرمان کے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا ‘ تو قریش کے کافروں نے کہا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل بے بس ہیں کام سے تو فراغت حاصل ہو چکی ہے پس انہیں ڈرانے کے لیے یہ آیت اتری کہ ’ ہم جو چاہیں تجدید کر دیں ‘ ہر رمضان میں تجدید ہوتی ہے پھر اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے روزی بھی تکلیف بھی دیتا ہے اور تقسیم بھی۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس کی اجل آ جائے چل بستا ہے نہ آئی ہو رہ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے دن پورے کر لے۔‏‏‏‏ ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔
حلال حرام اس کے پاس ہے کتاب کا خلاصہ اور جڑ اسی کے ہاتھ ہے کتاب خود رب العٰلمین کے پاس ہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے ام الکتاب کی بابت دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اللہ نے مخلوق کو اور مخلوق کے اعمال کو جان لیا۔‏‏‏‏ پھر کہا کہ کتاب کی صورت میں ہو جائے ہو گیا۔‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ام الکتاب سے مراد ذکر ہے۔‏‏‏‏