فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِیۡرُ اَلۡقٰىہُ عَلٰی وَجۡہِہٖ فَارۡتَدَّ بَصِیۡرًا ۚ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ ۚۙ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۶﴾
پھر جیسے ہی خوش خبری دینے والا آیا اس نے اسے اس کے چہرے پر ڈالا تو وہ پھر بینا ہوگیا۔ کہنے لگا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ بے شک میں اللہ کی طرف سے جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
En
جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
En
جب خوشخبری دینے والے نے پہنچ کر ان کے منھ پر وه کرتا ڈاﻻ اسی وقت وه پھر سے بینا ہوگئے۔ کہا! کیا میں تم سے نہ کہا کرتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وه باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت96) ➊ {” فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِيْرُ “} اور {”فَلَمَّا جَاءَ الْبَشِيْرُ“} کے ترجمے کے فرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے اسی مترجم قرآن کے عرض مترجم میں سے فائدہ (۸) خوش خبری لانے والے نے آتے ہی چہرے پر قمیص ڈالی اور یوسف علیہ السلام کے زندہ ہونے کی خوش خبری دی تو اسی وقت آنکھیں دوبارہ روشن ہو گئیں۔
➋ { مَا لَا تَعْلَمُوْنَ:} یوسف علیہ السلام کی قمیص سے آنکھیں روشن ہونے اور ان کے زندہ ہونے کی خوش خبری آنے پر فرمایا کہ میں نے تمھیں کہا نہ تھا: «{ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ }» یعنی مجھے وحی الٰہی سے وہ باتیں معلوم ہوتی ہیں جو تم نہیں جانتے۔ مراد اپنے بچوں کو ملامت کرنا نہ تھا بلکہ تربیت کرنا تھا، تاکہ وہ نبوت کے مقام کو سمجھیں اور نبی کی بات کو محبت کے غلو پر یا عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے خرابی عقل پر محمول نہ کریں، مثلاً یہ یقین کہ یوسف علیہ السلام زندہ ہے، اللہ تعالیٰ اسے ضرور ملائے گا، یا یہ بات کہ مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔
➋ { مَا لَا تَعْلَمُوْنَ:} یوسف علیہ السلام کی قمیص سے آنکھیں روشن ہونے اور ان کے زندہ ہونے کی خوش خبری آنے پر فرمایا کہ میں نے تمھیں کہا نہ تھا: «{ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ }» یعنی مجھے وحی الٰہی سے وہ باتیں معلوم ہوتی ہیں جو تم نہیں جانتے۔ مراد اپنے بچوں کو ملامت کرنا نہ تھا بلکہ تربیت کرنا تھا، تاکہ وہ نبوت کے مقام کو سمجھیں اور نبی کی بات کو محبت کے غلو پر یا عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے خرابی عقل پر محمول نہ کریں، مثلاً یہ یقین کہ یوسف علیہ السلام زندہ ہے، اللہ تعالیٰ اسے ضرور ملائے گا، یا یہ بات کہ مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
96۔ 1 یعنی جب وہ خوشخبری دینے والا آگیا اور آکر وہ قمیص حضرت یعقوب ؑ کے چہرے پر ڈال دی تو اس سے معجزانہ طور پر ان کی بینائی بحال ہوگئی۔ 96۔ 2 کیونکہ میرے پاس ایک ذریعہ علم وحی بھی ہے، جو تم میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو حالات سے مشیت و مصلحت آگاہ کرتا رہتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
96۔ پھر جب خوشخبری لانے والا آگیا اور اس نے (قمیص) یعقوب کے چہرے پر ڈالی تو وہ فوراً بینا ہو گئے اور کہنے لگے میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں اللہ سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں [92] جانتے
[92] یعقوبؑ کی بینائی کی واپسی:۔
یہ خوشخبری دینے والا ان کا بڑا بھائی یہودا تھا۔ یہودا ہی تھا جس نے سیدنا یوسفؑ کو قتل کرنے سے بھائیوں کو روکا تھا اور کہا تھا کہ قتل کے بجائے اسے کسی گمنام کنویں میں ڈال دیا جائے نیز وہ یہودا ہی تھا جس نے کہا تھا کہ میں اب واپس جا کر کیسے اپنا منہ اپنے باپ کو دکھاؤں۔ لہٰذا میں اب یہاں مصر میں رہوں گا اور یہ یہودا ہی تھا جو قافلہ سے پہلے سیدنا یوسفؑ کی قمیص لے کر اپنے باپ کے پاس پہنچ گیا اور انھیں یوسفؑ اور بن یمین کے مل جانے کی خوشخبری سنائی۔ پھر قمیص آپ کے چہرہ پر ڈالی تو دفعتاً آپ کی بینائی لوٹ آئی، آنکھیں درست ہو گئیں اور سب کچھ نظر آنے لگا۔ پھر اسی نے بتایا کہ میرے باقی بھائی بھی پہنچ رہے ہیں نیز یہ کہ یوسفؑ نے ہم سب کو اور ہمارے سارے خاندان کو اپنے پاس بلایا ہے اور اب ہم اسی غرض سے یہاں آئے ہیں۔ اس وقت سیدنا یعقوبؑ نے سب گھر والوں سے کہا کہ اب تو تم اس حقیقت کو جان ہی گئے ہو گے کہ جو کچھ میں کہتا تھا درست تھا۔ اس لیے کہ میں وہ کچھ جانتا تھا جو تم جان ہی نہیں سکتے تھے اور وہ باتیں یہ تھیں کہ یوسف یقیناً زندہ ہے اسی لئے آپ نے بیٹوں کو اس کی تلاش میں بھیجا تھا نیز یہ کہ اس سے ملاقات ضرور ہو گی اور اللہ ہم سب کو کسی وقت اکٹھا کر دے گا، اور ان باتوں کا ماخذ علم وحی بھی ہو سکتا ہے جو صرف انبیاء کو عطا ہوتا ہے اور وہ خواب بھی جسے آپؑ اور سیدنا یوسفؑ کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف علیہ السلام یعقوب علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف علیہ السلام کا خون ہے، اب بدلے کے لیے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہو جائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہو جائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بے خبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف علیہ السلام کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے آج میرے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔
باپ جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے انکار نہیں اور مجھے اپنے رب سے یہ بھی امید ہے کہ وہ تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا اس لیے کہ وہ بخششوں اور مہربانیوں والا ہے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیا کرتا ہے میں صبح سحری کے وقت تمہارے لیے استغفار کروں گا۔ ابن جریر میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں آتے تو سنتے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تو نے پکارا، میں نے مان لیا تو نے حکم دیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے، پس تو مجھے بخش دے، آپ نے کان لگا کر غور کیا تو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر سے یہ آواز آ رہی ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہی وہ وقت ہے جس کے لیے یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے لیے تھوڑی دیر بعد استغفار کروں گا۔ حدیث میں ہے کہ یہ رات جمعہ کی رات تھی۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب جمعہ کی رات آ جائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1981:ضعیف] لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ بلکہ اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔