ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الۡعِیۡرُ قَالَ اَبُوۡہُمۡ اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ ﴿۹۴﴾
اور جب قافلہ جدا ہوا، ان کے باپ نے کہا بے شک میں تو یوسف کی خوشبو پا رہا ہوں، اگر یہ نہ ہوکہ تم مجھے بہکا ہوا کہو گے۔ En
اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے
En
جب یہ قافلہ جدا ہوا تو ان کے والد نے کہا کہ مجھے تو یوسف کی خوشبو آرہی ہے اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت94) ➊ {وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ …:} اس سے انبیاء کو اللہ تعالیٰ کے عطا کر دہ علم کا اندازہ ہوتا ہے اور اس حقیقت کا بھی کہ خود ان کے پاس کتنا علم ہوتا ہے۔ یہی قمیص تھی، اسی راستے سے آئی تھی، چند میل دور کنویں میں پڑے ہوئے لخت جگر کا علم نہ ہو سکا، نہ اس کی خوشبو آئی اور جب اللہ تعالیٰ نے بتایا تو قافلے کے نکلتے ہی یوسف علیہ السلام کی خوشبو آنا شروع ہو گئی۔ یہ واقعہ ان بے شمار دلائل میں سے ایک واضح دلیل ہے کہ انبیاء عالم الغیب نہیں ہوتے، ہاں جتنی بات انھیں وحی کے ذریعے سے بتائی جاتی ہے وہ انھیں معلوم ہو جاتی ہے اور یہی عام آدمی اور نبی کا فرق ہے کہ نبی کو وحی الٰہی ہوتی ہے، دوسرے اس نعمت سے محروم ہیں۔ اس بات کو شیخ سعدی نے کمال خوبی کے ساتھ گلستان میں نظم کیا ہے:
یکے پر سید ازاں گم کردہ فرزند
کہ اے روشن گہر پیر خردمند
زمصرش بوئے پیراہن شمیدی
چرا درچاہ کنعانش ندیدی
بگفت احوال ما برقِ جہان است
دمے پیدا و دیگردم نہان است
گہے برطارمِ اعلی نشینم
گہے برپشتِ پائے خود نہ بینیم
یعنی کسی نے اس فرزند کو گم کر دینے والے سے پوچھا کہ اے روشن نسب والے عقل مند بزرگ! تو نے مصر سے اس کی قمیص کی خوشبو پا لی، تونے اسے کنعان کے کنویں میں کیوں نہ دیکھا، اس نے کہا ہمارے (انبیاء کے) احوال کوندنے والی بجلی کی طرح ہیں، ایک دم ظاہر ہوتے اور دوسرے لمحے پوشیدہ ہو جاتے ہیں، کبھی ہم اعلیٰ و بلند مقام پر بیٹھے ہوتے ہیں، کبھی ہم اپنے پاؤں کی پشت پر (لگی چیز) نہیں دیکھتے۔ آخری شعر کے پہلے مصرع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے میں جبریل علیہ السلام کے نماز کے دوران میں آ کر بتانے کی طرف کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے پر نجاست لگی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے نماز ہی میں اتار دیے۔
➋ { لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ:} یعنی اگر یہ نہ ہو کہ تم کہو گے کہ بڑھاپے اور یوسف کی محبت کی وجہ سے میری عقل میں خلل پڑ گیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

94۔ 1 ادھر یہ قمیص لے کر قافلہ مصر سے اور ادھر حضرت یعقوب ؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعجاز کے طور پر حضرت یوسف ؑ کی خوشبو آنے لگ گئی یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اللہ کے پیغمبر کو بھی، جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع نہ پہنچے، پیغمبر بیخبر ہوتا ہے، چاہے بیٹا اپنے شہر کے کسی کنوئیں ہی میں کیوں نہ ہو، اور جب اللہ تعالیٰ انتظام فرما دے تو پھر مصر جیسے دور دراز کے علاقے سے بھی بیٹے کی خوشبو آجاتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

94۔ جب یہ قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو اس وقت ان کے باپ یعقوب نے کہا: اگر تم مجھے یہ نہ کہو کہ بڈھا سٹھیا گیا (تو حقیقت یہ ہے کہ) میں یوسف کی بو محسوس [91] کر رہا ہوں
[91] سیدنا یعقوبؑ کا بیٹوں کو یوسفؑ کے زندہ ہونے کی خبر دینا اور ان کا مذاق اڑانا:۔
ادھر یہ قافلہ مصر سے روانہ ہوا تو ادھر سینکڑوں میل دور کنعان میں سیدنا یعقوبؑ اپنے جدا شدہ بیٹے یوسفؑ کی بو محسوس کرنے لگے۔ مگر جب ان کے پاس ہی ان کی بستی کے ایک کنوئیں میں پڑے رہے اس وقت اس کا علم نہ ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کو اللہ تعالیٰ غیب کا اتنا ہی علم عطا کرتا ہے جتنا وہ چاہتا ہے اور اس وقت عطا کرتا ہے جب چاہتا ہے۔ سیدنا یوسفؑ کی زندگی کے تمام تر واقعات میں اللہ کی مشیئت ہی کام کرتی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا یعقوبؑ کے صبر و تحمل اور توکل علی اللہ کا پورا پورا امتحان لیا۔ پھر جب اس امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد اس کے ثمرہ کا وقت آیا تو ملاقات سے پہلے ہی سیدنا یعقوبؑ پر وجدانی کیفیت طاری کر دی۔ یا وحی سے مطلع کر دیا۔ مگر اس کیفیت کا آپ گھر والوں سے کھل کر اظہار کرنے سے بھی ہچکچا رہے تھے اور جب کہی تو اس انداز سے کہی کہ اگر تم لوگ یوں نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے کی وجہ سے کچھ بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہوں تو بات یہ ہے کہ مجھے آج یوسفؑ کی خوشبو آرہی ہے اور مشکل یہ ہے کہ یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گی۔ چنانچہ گھر والوں نے ویسی ہی باتیں کیں جیسا کہ آپ کو اندیشہ تھا۔ کہنے لگے: یوسف کا ذکر تو تم اکثر کرتے ہی رہتے ہوں، اس کی محبت، اس کے زندہ ہونے اور اس سے دوبارہ ملنے کا یقین تو تمہارے دل میں گھر کر چکا ہے یہ تو وہی پرانی باتیں ہیں جو یوسفؑ کی خوشبو بن کر تمہارے دماغ میں آرہی ہیں۔ یوسف سے والہانہ محبت مختلف تخیلات کی صورت میں تمہارے دل میں گردش کرتی رہتی ہے اور وہی تخیل ہمیں بتانے لگتے ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
چونکہ اللہ کے رسول یعقوب علیہ السلام اپنے رنج و غم میں روتے روتے نابینا ہو گئے تھے، اس لیے یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی ان شاءاللہ ان کی نگاہ روشن ہو جائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام کو یوسف کی خوشبو پہنچا دی تو آپ علیہ السلام نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف علیہ السلام کی خوشبو آ رہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے پر تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:294/7:]‏‏‏‏ جو بحکم الٰہی ہوا نے یعقوب کو یوسف کے پیراہن کی خوشبو پہنچا دی۔ اس وقت یوسف علیہ السلام کی گمشدگی کی مدت اسی سال کی گزر چکی تھی اور قافلہ اسی فرسخ آپ سے دور تھا۔ لیکن بھائیوں نے کہا آپ تو یوسف علیہ السلام کی محبت میں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں نہ غم آپ کے دل سے دور ہو نہ آپ کو تسلی ہو۔ ان کا یہ کلمہ بڑا سخت تھا کسی لائق اولاد کو لائق نہیں کہ اپنے باپ سے یہ کہے نہ کسی امتی کو لائق ہے کہ اپنی نبی علیہ السلام سے یہ کہے.