ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 93

اِذۡہَبُوۡا بِقَمِیۡصِیۡ ہٰذَا فَاَلۡقُوۡہُ عَلٰی وَجۡہِ اَبِیۡ یَاۡتِ بَصِیۡرًا ۚ وَ اۡتُوۡنِیۡ بِاَہۡلِکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾
میری یہ قمیص لے جائو اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو، وہ بینا ہو جائے گا اور اپنے گھر والوں کو، سب کو میرے پاس لے آؤ۔ En
یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ
En
میرا یہ کرتا تم لے جاؤ اور اسے میرے والد کے منھ پر ڈال دو کہ وه دیکھنے لگیں، اور آجائیں اور اپنے تمام خاندان کو میرے پاس لےآؤ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت93){اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ …:} بھائیوں کو معاف کر دینے کے بعد گھر کے حالات کا تذکرہ ہوا، والد کے نابینا ہونے کی خبر پر ان کے علاج کے لیے اپنی قمیص بھیجی اور اپنے سارے گھر والوں کو اپنے پاس مصر میں لانے کا حکم دیا۔ یہ قمیص بھی عجیب تھی، کبھی یوسف علیہ السلام کو بھیڑیے کے کھا جانے کے ثبوت پر پیش کی گئی اور والد کو نابینا کر گئی اور کبھی یوسف علیہ السلام پر ارادۂ زنا کی تہمت لگی تو یہ ان کی صفائی بن گئی، اب اللہ کا حکم ہوا تو یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس ملنے کا ذریعہ بن گئی۔ یہ سب میرے مالک کی قدرت و مشیت ہے: «{ فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ [یسٓ: ۸۳] سو پاک ہے وہ کہ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی کامل بادشاہی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یعنی ہر مرض کی اللہ کے ہاں دوا ہے، ایک شخص کے فراق میں یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں ضائع ہو گئیں، اس کے بدن کی چیز ملنے سے درست ہو گئیں، یہ یوسف علیہ السلام کی کرامت تھی۔ (موضح) اور خوشی کی شدت سے بینائی میں قوت پیدا ہو جانا طبی طور پر ثابت ہے۔ (رازی) مگر طبی طور پر اس کی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں کہ خوشی سے نابینا بینا ہو جائے، اس لیے اسے معجزہ ہی کہا جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

93۔ 1 قمیص کے چہرے پر پڑنے سے آنکھوں کی بینائی کا بحال ہونا، ایک اعجاز اور کرامت کے طور پر تھا۔ 93۔ 2 یہ یوسف ؑ نے اپنے پورے خاندان کو مصر آنے کی دعوت دی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

93۔ یہ میری قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا۔ وہ بینا ہو جائیں گے اور انھیں لے کر تم سب اہل و عیال سمیت میرے یہاں [90] آؤ
[90] بھائیوں کے ہاتھ قمیص بھیجنا اور سارے خاندان کو مصر لانے کی تاکید کرنا:۔
برادران یوسف کی سیدنا یوسفؑ سے اس طرح حیرت انگیز ملاقات کے نتیجہ میں دو مسئلے از خود حل ہو گئے۔ ایک وہ مہم جس پر باپ نے ان بیٹوں کو بھیجا تھا۔ یعنی وہ جا کر یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کریں اور دوسرے غلہ کی فراہمی کا مسئلہ جس کے لیے برادران یوسف تھوڑا عرصہ پہلے شاہ مصر کے سامنے نہایت عاجزی سے التجا کر رہے تھے۔ اب وہ بس سیدنا یوسفؑ کے حکم کے منتظر تھے چنانچہ سیدنا یوسفؑ نے کہا کہ تم اب واپس جاؤ اور اپنے پورے خاندان کو میرے ہاں لے آؤ اور یہ میری قمیص لے جاؤ اسے میرے والد کے چہرے پر پھراؤ گے تو ان شاء اللہ ان کی بینائی بحال ہو جائے گی۔ بینائی کی واپسی کی وجہ کچھ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ جس کے فراق میں آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تھی۔ اسی کے وصال سے وہ مصیبت دور بھی ہو جاتی اور اس طرح بینائی واپس آنا ممکن ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شدید مرض میں مبتلا مریض کے پاس جب کوئی ایسا قریبی رشتہ دار آجاتا ہے جس سے اسے دلی لگاؤ ہو تو مریض خود بخود ہی تندرست ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ ایسا بھی کسی سخت صدمہ یا غیر معمولی خوشی کے اثر سے بعض نا بینا دفعتاً بینا بن گئے۔ تاہم اگر اس بات کو سیدنا یوسفؑ کے معجزہ پر محمول کیا جائے تو بھی کچھ مضائقہ نہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
چونکہ اللہ کے رسول یعقوب علیہ السلام اپنے رنج و غم میں روتے روتے نابینا ہو گئے تھے، اس لیے یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی ان شاءاللہ ان کی نگاہ روشن ہو جائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام کو یوسف کی خوشبو پہنچا دی تو آپ علیہ السلام نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف علیہ السلام کی خوشبو آ رہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے پر تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:294/7:]‏‏‏‏ جو بحکم الٰہی ہوا نے یعقوب کو یوسف کے پیراہن کی خوشبو پہنچا دی۔ اس وقت یوسف علیہ السلام کی گمشدگی کی مدت اسی سال کی گزر چکی تھی اور قافلہ اسی فرسخ آپ سے دور تھا۔ لیکن بھائیوں نے کہا آپ تو یوسف علیہ السلام کی محبت میں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں نہ غم آپ کے دل سے دور ہو نہ آپ کو تسلی ہو۔ ان کا یہ کلمہ بڑا سخت تھا کسی لائق اولاد کو لائق نہیں کہ اپنے باپ سے یہ کہے نہ کسی امتی کو لائق ہے کہ اپنی نبی علیہ السلام سے یہ کہے.