ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 92

قَالَ لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ ؕ یَغۡفِرُ اللّٰہُ لَکُمۡ ۫ وَ ہُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۹۲﴾
اس نے کہا آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمھیں بخشے اور وہ رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ En
(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے
En
جواب دیا آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اللہ تمہیں بخشے، وه سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت92) ➊ {قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ: تَثْرِيْبَ } کے معنی ملامت، ڈانٹ ڈپٹ، گناہ یاد دلانا سبھی آتے ہیں۔ فرمایا تمھیں ہر گز کوئی ملامت نہیں کرتا، نہ ڈانٹ ڈپٹ، نہ تمھیں کوئی یہ زیادتی یاد دلائے گا۔ { الْيَوْمَ } کا معنی صرف آج کا دن نہیں بلکہ مطلق زمانے کے لیے ہے، یعنی اب آئندہ تم پر کوئی ملامت نہیں۔
➋ یہ ہے شان نبوت، اگر کوئی دوسرا آدمی ہوتا تو ایسے قصور واروں پر قابو پا لینے کے بعد انھیں ہرگز معاف نہ کرتا۔ یہی سلوک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد وہاں کے رہنے والوں سے فرمایا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (فتح مکہ کے دن) قریش کے سرداروں اور بڑے بڑے لوگوں نے کعبہ میں پنا لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، بیت اللہ کا طواف کیا اور ان (۳۶۰) بتوں کے پاس سے گزرتے ہوئے انھیں کمان کے کنارے کے ساتھ ٹھوکا مارتے گئے اور یہ فرماتے گئے: «{ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا [بنی إسرائیل: ۸۱] جب فارغ ہوئے اور نماز پڑھ لی تو آکر دروازے کی چوکھٹ کے دونوں کناروں کو پکڑا، پھر فرمایا: اے معشر قریش! (بولو) کیا کہتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم کہتے ہیں (آپ) رحیم و کریم بھتیجے اور چچا زاد (بھائی) ہیں۔ آپ نے پھر ان کے سامنے اپنی بات دہرائی، انھوں نے وہی جواب دیا، تو آپ نے فرمایا: پھر میں وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے کہا تھا: «{ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ چنانچہ وہ سب نکل کر آئے اور آپ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کی۔ [السنن الکبریٰ للنسائي: 382/6، ۳۸۳ح: ۱۱۲۹۸] یہ ہے اصل صلہ رحمی، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ وَلَكِنَّ الْوَاصِلُ الَّذِيْ إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهٗ وَصَلَهَا] [بخاري، الأدب، باب لیس الواصل بالمکافئ: ۵۹۹۱] صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو صلہ رحمی کے مقابلے میں صلہ رحمی کرتا ہے، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کی رشتہ داری قطع کی جائے تو وہ اسے ملائے۔
➌ { يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ …:} یوسف علیہ السلام نے نہ صرف انھیں معاف فرما دیا بلکہ ان کی درخواست کے بغیر ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت و رحم کی دعا بھی کر دی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

92۔ 1 حضرت یوسف ؑ نے بھی پیغمبرانہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے فرمایا کہ جو ہوا سو ہوا۔ آج تمہیں کوئی سرزنش اور ملامت نہیں کی جائے گی۔ فتح مکہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مکہ کے ان کفار اور سردران قریش کو، جو آپ کے خون کے پیاسے تھے اور آپ کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچائی تھیں، یہی الفاظ ارشاد فرما کر انھیں معاف فرما دیا تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

92۔ یوسف نے کہا: ”آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہیں [89] معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
[89] سیدنا یوسفؑ کا بھائیوں کو فراخدلی سے معاف کر دینا:۔
سیدنا یوسفؑ نے ان کے اس اندیشہ کو بھانپ لیا اور انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا جو ہو چکا سو ہو چکا۔ آج تم پر کوئی گرفت نہیں، کوئی سرزنش نہیں اور آئندہ میں تمہاری ایسی تقصیر کا ذکر بھی نہ کروں گا۔ میں نے سب کچھ تمہیں معاف کیا اور اللہ سے دست بدعا ہوں کہ وہ بھی تمہیں معاف فرما دے اور مجھے قوی امید ہے کہ وہ ضرور تمہیں معاف فرما دے گا، کیونکہ وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔