ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 91

قَالُوۡا تَاللّٰہِ لَقَدۡ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیۡنَا وَ اِنۡ کُنَّا لَخٰطِئِیۡنَ ﴿۹۱﴾
انھوں نے کہا اللہ کی قسم! بلاشبہ یقینا اللہ نے تجھے ہم پر فوقیت دی ہے اور بلاشبہ ہم واقعی خطا کار تھے۔ En
وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے
En
انہوں نے کہا اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے تجھے ہم پر برتری دی ہے اور یہ بھی بالکل سچ ہے کہ ہم خطا کار تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت91) {قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ …:} بھائیوں کے سامنے اپنے ظلم و ستم کا وہ سارا منظر آگیا جو ان کے ہاتھوں ہوا تھا تو انھوں نے قسم کھا کر اعتراف کیا کہ یقینا اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر، تقویٰ اور دوسری صفات حسنہ کی وجہ سے ہم پر برتری اور فوقیت عطا فرمائی ہے۔ { وَ اِنْ كُنَّا } اصل میں {اِنَّا كُنَّا} تھا، جس کی دلیل {خَاطِئِيْنَ} پر آنے والا لام ہے۔ {اِنَّ} اور لام کے ساتھ تاکید بھی قسم ہی کی ایک صورت ہے کہ یقینا ہم آپ پرظلم کرکے جانتے بوجھتے ہوئے غلط اور گناہ کا کام کرنے والے تھے۔ {خَاطِئِيْنَ} اور { مُخْطِئِيْنَ } کے فرق کے لیے دیکھیے آیت (۲۹) کی تفسیر۔ بھائیوں کے اعتراف گناہ کے بعد یوسف علیہ السلام کی سینے کی وسعت اور حوصلہ مندی دیکھیے، ابھی انھوں نے صرف گناہ کا اعتراف اور عذر ہی کیا ہے، معافی مانگنے کی نوبت آنے سے پہلے ہی بول اٹھے: «{ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

91۔ 1 بھائیوں نے جب یوسف ؑ کی شان دیکھی تو اپنی غلطی اور کوتاہی کا اعتراف کرلیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

91۔ وہ کہنے لگے: ”اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی ہے۔ اور ہم ہی خطا کار [88] تھے“
[88] سیدنا یوسفؑ کے اس جواب پر ان کے سارے کارنامے ان کی آنکھوں کے سامنے پھر گئے اور برملا اعتراف کرنے لگے بیشک غلط کار ہم ہی تھے اور آپ اسی عزت کے مستحق تھے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے پھر اس خیال سے کہ اگرچہ شاہ مصر ان کا بھائی ہے وہ اس وقت بادشاہ ہے۔ ممکن ہے ہمیں سابقہ خطاؤں پر مؤاخذہ کرے۔ لہٰذا دل ہی دل میں کچھ ڈر بھی رہے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔