ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡکُوۡا بَثِّیۡ وَ حُزۡنِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾
اس نے کہا میں تو اپنی ظاہر ہوجانے والی بے قراری اور اپنے غم کی شکایت صرف اللہ کی جناب میں کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ En
انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
En
انہوں نے کہا کہ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں، مجھے اللہ کی طرف سے وه باتیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت86) ➊ { قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّيْ …: بَثَّ يَبُثُّ} کا لفظی معنی پھیلانا ہے، فرمایا: «{ وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّ نِسَآءً [النساء: ۱] اور ان دونوں میں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ {بَثَّ الرِّيْحُ التُّرَابَ} ہوا نے مٹی اڑائی۔ آدمی پر جب مصائب آئیں تو ان سے پیدا ہونے والے جس غم کو وہ چھپا سکے وہ حزن کہلاتا ہے اور جو چھپا نہ سکے {بَثٌّ} کہلاتا ہے۔ اس آیت پر شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یعنی تم کیا مجھے صبر سکھاؤ گے، بے صبر وہ ہے جو خلق کے آگے شکایت کرے خالق کی، میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھ پر آزمائش ہے، دیکھوں کس حد کو پہنچ کر بس ہو۔ (موضح)
حقیقت یہ ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے غم کا جو حال اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے وہ پڑھ اور سن کر ہی دل سخت غم زدہ ہو جاتا ہے، پھر خود ان کا کیا حال ہو گا۔ عبد اللہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے روتے ہوئے دھاڑیں مارنے کی آواز سنی، حالانکہ میں صفوں کے آخر میں تھا، وہ یہ پڑھ رہے تھے: «{ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَ حُزْنِيْۤ اِلَى اللّٰهِ [بخاري، الأذان، باب إذا بکی الإمام فی الصلاۃ، قبل ح: ۷۱۶]
➋ { وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ:} یعنی یوسف زندہ ہیں اور ایک دن ایسا آئے گا کہ میرے اور تمھارے سجدہ کرنے کا خواب جو انھوں نے دیکھا تھا، سچا ہو گا، مجھے اس کا پورا یقین ہے اور اللہ تعالیٰ میری یہ امید بر لائے گا۔ اتنی مدت گزرنے اور اتنے غم کے باوجود جس میں یوسف علیہ السلام کی زندگی کی امید باقی رہنا بھی ممکن نظر نہیں آتا، ان کی ملاقات کی امید رکھنا یعقوب علیہ السلام کے کمال ایمان کا نتیجہ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

86۔ 1 اس سے مراد یا تو خواب ہے جس کی بابت انھیں یقین تھا کہ اس کی تعبیر ضرور سامنے آئے گی اور وہ یوسف ؑ کو سجدہ کریں گے یا ان کا یقین تھا کہ یوسف ؑ زندہ موجود ہیں، اور اس سے زندگی میں ضرور ملاقات ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

86۔ یعقوب نے جواب دیا: میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد (اللہ کے سوا) کسی سے نہیں کرتا۔ اور اللہ سے میں کچھ ایسی چیزیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں [83] جانتے
[83] اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے:۔
باپ کے منہ سے آہ سن کر بھی حاسد بیٹوں کو ان پر رحم نہ آیا بلکہ الٹا باپ کو ملامت کرنے لگے کہ اب اس کے قصہ کو چھوڑتے بھی ہو یا نہیں؟ یا اسی کے غم میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے؟ مغموم باپ نے انھیں جواب دیا کہ میں تمہیں تو کچھ نہیں کہتا۔ تم نے جو کچھ چاہا کر لیا۔ میں تو اپنی پریشان حالی کو اللہ کے سامنے پیش کرتا اور اسی سے صبر کی توفیق چاہتا ہوں۔ کیونکہ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یوسف ابھی زندہ ہے جسے اللہ نے مجھ سے دور کر دیا ہے۔ کیونکہ سیدنا یوسفؑ کو جو خواب آیا تھا اس وجہ سے آپ کو یقین تھا کہ یقیناً یوسفؑ زندہ ہے اور کسی نہ کسی دن ضرور اس سے ملاقات ہو گی اور وہ خواب پورا ہوکے رہے گا اور یہی وہ بات تھی جسے یعقوبؑ تو جانتے تھے لیکن ان کے بیٹے نہیں جانتے تھے اور آپ اپنے بیٹوں کو یہ بات بتانا بھی نہیں چاہتے تھے کہ کہیں حسد کے مارے جل بھن نہ جائیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
بچوں نے باپ کا یہ حال دیکھ کر انہیں سمجھانا شروع کیا کہ ابا جی آپ تو اسی کی یاد میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر آپ کا یہی حال کچھ دنوں اور رہا تو کہیں زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ یعقوب علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا میں تو اپنے رب کے پاس اپنا دکھ رو رہا ہوں۔ اور اس کی ذات سے بہت امید رکھتا ہوں وہ بھلائیوں والا ہے۔ مجھے یوسف کا خواب یاد ہے، جس کی تعبیر ظاہر ہو کر رہے گی۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ آپ علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ کی بینائی کیسے جاتی رہی؟ اور آپ کی کمر کیسے کبڑی ہو گئی؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یوسف علیہ السلام کو رو رو کر آنکھیں کھو بیٹھا اور بنیامین کے صدمے نے کمر توڑ دی۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کے بعد کہتا ہے کہ میری شکایتیں دوسروں کے سامنے کرنے سے آپ شرماتے نہیں؟ یعقوب علیہ السلام نے اسی وقت فرمایا کہ میری پریشانی اور غم کی شکایت اللہ ہی کے سامنے ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آپ کی شکایت کا اللہ کو خوب علم ہے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:3403/3:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس میں بھی نکارت ہے۔