(آیت85){قَالُوْاتَاللّٰهِتَفْتَؤُا …:} تاء قسم کے لیے ہوتی ہے، لفظ ”اللہ“ پر آتی ہے اور عموماً ایسے موقع پر قسم کے لیے آتی ہے جس میں کوئی تعجب ہو۔ {”فَتِئَيَفْتَؤُ“} ہٹ جانا، بھول جانا۔ اس سے پہلے عموماً {”مَا“} آتا ہے اور معنی ہمیشہ رہنا، نہ بھولنا ہوتا ہے، یہاں بھی اصل {”مَاتَفْتَؤُ“} تھا {”مَا“} کو معلوم ہونے کی وجہ سے حذف کر دیا ہے، یعنی تو ہمیشہ یوسف کو یاد کرتا رہے گا، اسے نہیں بھولے گا، اسے یاد کرنے سے باز نہیں آئے گا۔ بیٹوں اور پوتوں کو باپ کی حالت زار دیکھ کر رحم آتا تھا، جب ان کا غم اس حد تک پہنچ گیا تو انھوں نے باپ سے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ یوسف کو اسی طرح ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے حتیٰ کہ گھل گھل کر مرنے کے قریب ہو جائیں گے، یا ہلاک ہونے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ گویا وہ انھیں صبر کی تلقین اور اس قدر غم پر ملامت کر رہے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
85۔ 1 حَرَض اس جسمانی عارضے یا ضعف عقل کو کہتے ہیں جو بڑھاپے، عشق یا پے درپے صدمات کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوتا ہے، یوسف ؑ کے ذکر سے بھائیوں کی آتش حسد پھر بھڑک اٹھی اور اپنے باپ کو یہ کہا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
85۔ یہ حالت دیکھ کر وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! آپ تو یوسف کو یاد کرتے ہی رہیں گے تا آنکہ اپنے آپ کو غم میں گھلا دیں یا ہلاک ہو جائیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
بچوں نے باپ کا یہ حال دیکھ کر انہیں سمجھانا شروع کیا کہ ابا جی آپ تو اسی کی یاد میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر آپ کا یہی حال کچھ دنوں اور رہا تو کہیں زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ یعقوب علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا میں تو اپنے رب کے پاس اپنا دکھ رو رہا ہوں۔ اور اس کی ذات سے بہت امید رکھتا ہوں وہ بھلائیوں والا ہے۔ مجھے یوسف کا خواب یاد ہے، جس کی تعبیر ظاہر ہو کر رہے گی۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ آپ علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ کی بینائی کیسے جاتی رہی؟ اور آپ کی کمر کیسے کبڑی ہو گئی؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یوسف علیہ السلام کو رو رو کر آنکھیں کھو بیٹھا اور بنیامین کے صدمے نے کمر توڑ دی۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کے بعد کہتا ہے کہ میری شکایتیں دوسروں کے سامنے کرنے سے آپ شرماتے نہیں؟ یعقوب علیہ السلام نے اسی وقت فرمایا کہ میری پریشانی اور غم کی شکایت اللہ ہی کے سامنے ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آپ کی شکایت کا اللہ کو خوب علم ہے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:3403/3:ضعیف] یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس میں بھی نکارت ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔