ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 84

وَ تَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰی عَلٰی یُوۡسُفَ وَ ابۡیَضَّتۡ عَیۡنٰہُ مِنَ الۡحُزۡنِ فَہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿۸۴﴾
اور وہ ان سے واپس پھرا اور اس نے کہا ہائے میرا غم یوسف پر! اور اس کی آنکھیں غمسے سفید ہو گئیں، پس وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔ En
پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا
En
پھر ان سے منھ پھیر لیا اور کہا ہائے یوسف! ان کی آنکھیں بوجہ رنج وغم کے سفید ہو چکی تھیں اور وه غم کو دبائے ہوئے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت84) ➊ {وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ يٰۤاَسَفٰى …: يٰۤاَسَفٰى } اصل میں یائے متکلم کے ساتھ {يَا أَسَفِيْ} تھا، تخفیف اور اظہار غم کے لیے یاء کو الف سے بدل دیا ہے۔ { وَ ابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ } غم سے اس کی آنکھیں سفید ہو گئیں یعنی آنسوؤں کے متواتر بہنے سے آنکھوں کی سیاہی پر سفیدی چھا گئی اور بینائی خراب ہو گئی۔ { كَظِيْمٌ } بمعنی {مَكْظُوْمٌ} ہے جو غم سے بھرا ہوا ہو، لیکن لوگوں سے چھپائے اور اظہار نہ کرے۔ اسی سے ہے: «{ وَ الْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ [آل عمران: ۱۳۴] یعنی غصے کو روک لینے والے۔ {كَظَمَ فُلَانٌ السِّقَاءَ} یعنی فلاں نے بھرے ہوئے مشکیزے کا منہ بند کر دیا۔ یعنی یعقوب علیہ السلام نے جب بیٹوں کی بات سن لی اور انھیں جواب دے دیا تو ان پر غموں کا سیلاب امڈ آیا اور دل کے تمام زخم تازہ ہو گئے، چنانچہ انھوں نے بیٹوں کو چھوڑا اور مجلس سے چلے گئے اور کہنے لگے: ہائے میرا یوسف کا غم اور ان کی آنکھیں غم سے سفید ہو گئیں، مگر غم سے بھرے ہوئے ہونے کے باوجود اس کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ رہ گیا دل کا غم اور مصیبت میں رونا اور آنسو بہانا تو یہ جائز ہے اور انسان کے اختیار سے باہر ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم فوت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا: [إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ إِلاَّ مَا يَرْضٰی رَبُّنَا وَ إِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيْمُ! إِنَّا لَمَحْزُوْنُوْنَ] [بخاري، الجنائز، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم إنا بک لمحزونون: ۱۳۰۳۔ مسلم: ۲۳۱۵] بے شک آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہے اور ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے جو ہمارے رب کو پسند ہو اور بے شک ہم تیری جدائی سے اے ابراہیم! یقینا غم زدہ ہیں۔ ہاں مصیبت کے وقت نوحہ کرنا، گریبان پھاڑنا اور منہ پر طمانچے مارنا سخت ممنوع ہے۔
➋ اگرچہ خبر دوسرے دو بیٹوں کی آئی تھی مگر یعقوب علیہ السلام کے منہ سے یوسف پر غم کی شدت کے الفاظ نکلے، اس کی وجہ یہ تھی کہ زخم کے اوپر جب زخم لگے تو پہلا زخم زیادہ تکلیف دیتا ہے۔ { وَلٰكِنَّ نَكْأَ الْجُرْحِ بِالْجُرْحِ أَوْجَعُ } لیکن زخم کا نئے زخم سے چھل جانا زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

84۔ 1 یعنی اس تازہ صدمے نے یوسف ؑ کی جدائی کے قدیم صدمے کو بھی تازہ کردیا۔ 84۔ 2 یعنی آنکھوں کی سیاہی، مارے غم کے، سفیدی میں بدل گئی تھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

84۔ یعقوب نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور کہنے لگے: ہائے یوسف! اور ان کی آنکھیں غم سے بے نور ہو گئی تھیں اور وہ [82] خود غم سے بھرے ہوئے تھے
[82] سیدنا یعقوب کی بینائی جانے کی وجہ:۔
یعنی اپنے بیٹوں کو کچھ لعنت ملامت نہیں کی اور درگزر سے کام لیا۔ حالانکہ اس واقعہ نے پرانے زخم کو پھر سے ہرا کر دیا تھا۔ البتہ بے اختیار آپؑ کے منہ سے ہائے یوسف کے الفاظ نکل گئے جب کہ سیدنا یوسف کا غم آپ کی رگ رگ میں سرایت کر چکا تھا۔ کظیم اس مشک کو کہتے ہیں جسے لبالب بھر کر اس کا منہ بند کر دیا گیا ہو۔ بالفاظ دیگر یوسفؑ کا غم آپ کے گلے تک پہنچ چکا تھا۔ مگر پھر بھی آپ شکوہ شکایت یا بے قراری کا کوئی لفظ زبان سے نکالنا گوارا نہیں کرتے تھے اور سب کچھ ضبط ہی کئے جا رہے تھے جس کا اثر آپ کی آنکھوں پر پڑا اور آپ کی بینائی جاتی رہی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر یعقوب علیہ السلام نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی یوسف علیہ السلام کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضا مندی کے ساتھ واپس لوٹیں۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علیم ہے میری حالت کو خوب جان رہا ہے۔ حکیم ہے اس کی قضاء وقدر اور اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اب آپ کے اس نئے رنج نے پرانا رنج بھی تازہ کر دیا اور یوسف علیہ السلام کی یاد دل میں چٹکیاں لینے لگی۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «إِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ» [2-البقرہ: 156]‏‏‏‏ الخ، پڑھنے کی ہدایات صرف اسی امت کو کی گئی ہے اس نعمت سے اگلی امتیں مع اپنے نبیوں کے محروم تھیں۔ دیکھئیے یعقوب علیہ السلام بھی ایسے موقعہ پر «يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ» کہتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ غم نے آپ علیہ السلام کو نابینا کر دیا تھا اور زبان خاموش تھی۔ مخلوق میں سے کسی شکایت وشکوہ نہیں کرتے تھے۔ غمگین اور اندوہ گین رہا کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ داؤد علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ لوگ تجھ سے یہ کہہ کر دعا مانگتے ہیں کہ اے ابراہیمعلیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کے رب، تو تو ایسا کر کہ ان تین ناموں میں چوتھا نام میرا بھی شامل ہو جائے۔
جواب ملا کہ اے داؤد ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اور صبر کیا۔ تیری آزائش ابھی ایسی نہیں ہوئی۔ اسحاق علیہ السلام نے خود اپنی قربانی منظور کر لی اور اپنا گلا کٹوانے بیٹھ گئے۔ تجھ پر یہ بات بھی نہیں آئی۔ یعقوب علیہ السلام سے میں نے ان کے لخت جگر کو الگ کر دیا اس نے بھی صبر کیا تیرے ساتھ یہ واقعہ بھی نہیں ہوا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:11882/7:ضعیف جدا]‏‏‏‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ اس روایت کے راوی علی بن زید بن جدعان اکثر منکر اور غریب روایتیں بیان کر دیا کرتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بہت ممکن ہے کہ احنف بن قیس رحمہ اللہ نے یہ روایت بنی اسرائیل سے لی ہو، جیسے کعب وہب وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بنی اسرائیل کی ورایتوں میں یہ بھی ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے یوسف کو اس موقعہ پر جب کہ بنیامین قید میں تھے۔ ایک خط لکھا تھا جس میں انہیں رحم دلانے کے لیے لکھا تھا کہ ہم مصیبت زدہ لوگ ہیں۔ میرے دادا ابراہیم علیہ السلام علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے۔ میرے والد اسحاق علیہ السلام ذبح کے ساتھ آزمائے گئے۔ میں خود فراق یوسف علیہ السلام میں مبتلا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی سندا ثابت نہیں۔