قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَکُمۡ اَنۡفُسُکُمۡ اَمۡرًا ؕ فَصَبۡرٌ جَمِیۡلٌ ؕ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّاۡتِـیَنِیۡ بِہِمۡ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۸۳﴾
اس نے کہا بلکہ تمھارے لیے تمھارے دلوں نے ایک کام مزین کر دیا ہے، سو (میرا کام) اچھا صبر ہے، امید ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا، یقینا وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
En
(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
En
(یعقوب علیہ السلام نے) کہا یہ تو نہیں، بلکہ تم نے اپنی طرف سے بات بنالی، پس اب صبر ہی بہتر ہے۔ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس ہی پہنچا دے۔ وه ہی علم وحکمت واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت83) ➊ {قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ …:} جب بڑے بھائی کی تجویز کے مطابق باقی بھائیوں نے کنعان پہنچ کر اپنے والد یعقوب علیہ السلام سے یہ سب کچھ بیان کیا تو انھوں نے کہا کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اصل بات یہ نہیں بلکہ تمھارے دلوں نے تمھارے لیے ایک کام مزین کر دیا ہے، اب میرا کام صبر جمیل ہے۔ وہی لفظ منہ سے نکلا جو یوسف کو بھیڑیے کے کھائے جانے کی خبر سن کر نکلا تھا۔ اللہ اپنے بندوں خصوصاً رسولوں کو کتنا بڑا حوصلہ دیتا ہے کہ جگر ٹکڑے ٹکڑے کر دینے والی خبر سن کر بھی نہ شکوہ نہ شکایت، نہ جزع فزع نہ واویلا۔ پہلے ایک بیٹے کی خبر پر بھی صبر جمیل، اب مزید دو بیٹوں کی خبر پر بھی وہی صبر جمیل۔ پہلے بھی اللہ ہی سے مدد مانگی: «{ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ }» [یوسف: ۱۸] اب بھی اسی کے سہارے پر دل میں امید کا چراغ روشن رکھا: «{ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا }» امید ہے کہ اللہ ان تینوں کو میرے پاس لے آئے گا، یقینا وہی علیم و حکیم ہے، وہ سب کچھ جانتا بھی ہے اور اس کی حکمتوں کی بھی کوئی انتہا نہیں۔
➋ اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹے کی سچی بات کا بھی اعتبار نہیں کیا جاتا۔ رہی یہ بات کہ یعقوب علیہ السلام کس طرح ان سب کی ملاقات کی امید ظاہر فرما رہے ہیں، تو ایک تو یہ کہ وہ اللہ کے نبی تھے اور دوسرے یہ کہ انھیں یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر سامنے آنے کا بھی یقین تھا، مگر پیارے بیٹے کی جدائی پھر لخت جگر کے حال سے بے خبری اور تعبیر کے ظہور کا وقت نامعلوم ہونے اور اب مزید دو بیٹوں کی گم شدگی کے پیہم صدمات اور انھیں دل ہی دل میں پی جانے کی کوشش نے یعقوب علیہ السلام کی طبیعت پر بہت ہی زیادہ اثر ڈالا۔
➋ اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹے کی سچی بات کا بھی اعتبار نہیں کیا جاتا۔ رہی یہ بات کہ یعقوب علیہ السلام کس طرح ان سب کی ملاقات کی امید ظاہر فرما رہے ہیں، تو ایک تو یہ کہ وہ اللہ کے نبی تھے اور دوسرے یہ کہ انھیں یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر سامنے آنے کا بھی یقین تھا، مگر پیارے بیٹے کی جدائی پھر لخت جگر کے حال سے بے خبری اور تعبیر کے ظہور کا وقت نامعلوم ہونے اور اب مزید دو بیٹوں کی گم شدگی کے پیہم صدمات اور انھیں دل ہی دل میں پی جانے کی کوشش نے یعقوب علیہ السلام کی طبیعت پر بہت ہی زیادہ اثر ڈالا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
83۔ 1 حضرت یعقوب ؑ چونکہ حقیقت حال سے بیخبر تھے اور اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے انھیں حقیقت واقعہ سے آگاہ نہیں فرمایا۔ اس لئے وہ یہی سمجھے کہ میرے ان بیٹوں نے اپنی طرف سے بات بنا لی ہے۔ بنیامین کے ساتھ انہوں نے کیا معاملہ کیا؟ اس کا یقینی علم تو حضرت یعقوب ؑ کے پاس نہیں تھا، تاہم یوسف ؑ کے واقعے پر قیاس کرتے ہوئے ان کی طرف سے حضرت یعقوب ؑ کے دل میں بجا طور پر شکوک شبہات تھے۔ 83۔ 2 اب پھر سوائے صبر کے کوئی چارہ نہیں تھا، تاہم صبر کے ساتھ امید کا دامن بھی نہیں چھوڑا یوسف علیہ السلام، بنیامین اور وہ بڑا بیٹا ہے جو مارے شرم کے وہیں مصر میں رک گیا تھا کہ یا تو والد صاحب مجھے اسی طرح آنے کی اجازت دے دیں یا پھر میں کسی طریقے سے بنیامین کو ساتھ لے کر آؤں گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
83۔ یعقوب نے جواب دیا: (بات یوں نہیں) بلکہ تم نے ایک بات بنا کر اسے بنا سنوار کر پیش کر دیا ہے۔ لہذا (اب) صبر [80] ہی بہتر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ [81] ان سب کو میرے پاس لے آئے بلا شبہ وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
[80] گمشدہ سامان کی برآمدگی سے چوری ثابت نہیں ہو جاتی:۔
یہ بعینہ وہی الفاظ ہیں جو سیدنا یعقوبؑ نے اس وقت بھی کہے تھے جب برادران یوسف نے یوسفؑ کو کنویں میں ڈالنے کے بعد رات کو روتے ہوئے باپ کے پاس آئے تھے اور ایک جھوٹا سا واقعہ بنا کر انھیں سنا دیا تھا۔ اب کی بار آپ نے بیٹوں سے پورا واقعہ سننے کے بعد جو انھیں تنبیہ کی تو اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ کیا تم یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ کسی شخص کے سامان سے کسی گم شدہ چیز کا برآمد ہونا اس بات کا یقینی ثبوت کب ہوتا ہے کہ اس شخص نے ضرور چوری کی ہے۔ ممکن ہے کسی دوسرے نے اس کے سامان میں وہ چیز رکھ دی ہو؟ پھر تم نے یوسف پر چوری کا مزید الزام لگا کر بن یمین پر لگے ہوئے الزام کو پختہ تر بنا دیا۔ اس تنبیہ سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے ایک یہ کہ سیدنا یعقوبؑ کو اس بات کا پختہ یقین تھا کہ میرے یہ بیٹے چور نہیں ہو سکتے اور دوسرے یہ کہ برادران یوسف اپنے ان دونوں چھوٹے بھائیوں سے ہمیشہ بدگمان ہی رہتے تھے۔
[81] سب سے مراد یوسف بن یمین اور ان کا وہ بڑا بھائی ہے جو شرم و ندامت کے مارے مصر میں ہی رہ گیا تھا۔
[81] سب سے مراد یوسف بن یمین اور ان کا وہ بڑا بھائی ہے جو شرم و ندامت کے مارے مصر میں ہی رہ گیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر یعقوب علیہ السلام نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی یوسف علیہ السلام کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضا مندی کے ساتھ واپس لوٹیں۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علیم ہے میری حالت کو خوب جان رہا ہے۔ حکیم ہے اس کی قضاء وقدر اور اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اب آپ کے اس نئے رنج نے پرانا رنج بھی تازہ کر دیا اور یوسف علیہ السلام کی یاد دل میں چٹکیاں لینے لگی۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «إِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ» [2-البقرہ: 156] الخ، پڑھنے کی ہدایات صرف اسی امت کو کی گئی ہے اس نعمت سے اگلی امتیں مع اپنے نبیوں کے محروم تھیں۔ دیکھئیے یعقوب علیہ السلام بھی ایسے موقعہ پر «يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ» کہتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ غم نے آپ علیہ السلام کو نابینا کر دیا تھا اور زبان خاموش تھی۔ مخلوق میں سے کسی شکایت وشکوہ نہیں کرتے تھے۔ غمگین اور اندوہ گین رہا کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ داؤد علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ لوگ تجھ سے یہ کہہ کر دعا مانگتے ہیں کہ اے ابراہیمعلیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کے رب، تو تو ایسا کر کہ ان تین ناموں میں چوتھا نام میرا بھی شامل ہو جائے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «إِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ» [2-البقرہ: 156] الخ، پڑھنے کی ہدایات صرف اسی امت کو کی گئی ہے اس نعمت سے اگلی امتیں مع اپنے نبیوں کے محروم تھیں۔ دیکھئیے یعقوب علیہ السلام بھی ایسے موقعہ پر «يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ» کہتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ غم نے آپ علیہ السلام کو نابینا کر دیا تھا اور زبان خاموش تھی۔ مخلوق میں سے کسی شکایت وشکوہ نہیں کرتے تھے۔ غمگین اور اندوہ گین رہا کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ داؤد علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ لوگ تجھ سے یہ کہہ کر دعا مانگتے ہیں کہ اے ابراہیمعلیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کے رب، تو تو ایسا کر کہ ان تین ناموں میں چوتھا نام میرا بھی شامل ہو جائے۔
جواب ملا کہ اے داؤد ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اور صبر کیا۔ تیری آزائش ابھی ایسی نہیں ہوئی۔ اسحاق علیہ السلام نے خود اپنی قربانی منظور کر لی اور اپنا گلا کٹوانے بیٹھ گئے۔ تجھ پر یہ بات بھی نہیں آئی۔ یعقوب علیہ السلام سے میں نے ان کے لخت جگر کو الگ کر دیا اس نے بھی صبر کیا تیرے ساتھ یہ واقعہ بھی نہیں ہوا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:11882/7:ضعیف جدا] یہ روایت مرسل ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ اس روایت کے راوی علی بن زید بن جدعان اکثر منکر اور غریب روایتیں بیان کر دیا کرتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بہت ممکن ہے کہ احنف بن قیس رحمہ اللہ نے یہ روایت بنی اسرائیل سے لی ہو، جیسے کعب وہب وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بنی اسرائیل کی ورایتوں میں یہ بھی ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے یوسف کو اس موقعہ پر جب کہ بنیامین قید میں تھے۔ ایک خط لکھا تھا جس میں انہیں رحم دلانے کے لیے لکھا تھا کہ ہم مصیبت زدہ لوگ ہیں۔ میرے دادا ابراہیم علیہ السلام علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے۔ میرے والد اسحاق علیہ السلام ذبح کے ساتھ آزمائے گئے۔ میں خود فراق یوسف علیہ السلام میں مبتلا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی سندا ثابت نہیں۔