اپنے باپ کی طرف واپس جائو، پس کہو اے ہمارے باپ! بے شک تیرے بیٹے نے چوری کر لی اور ہم نے شہادت نہیں دی مگر اس کے مطابق جو ہم نے جانا اور ہم غیب کی حفاظت کرنے والے نہ تھے۔
En
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
تم سب والد صاحب کی خدمت میں واپس جاؤ اور کہو کہ اباجی! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی اور ہم نے وہی گواہی دی تھی جو ہم جانتے تھے۔ ہم کچھ غیب کی حفاﻇت کرنے والے نہ تھے
En
(آیت81) ➊ {اِرْجِعُوْۤااِلٰۤىاَبِيْكُمْ …:} البتہ تم واپس جا کر والد کو بتاؤ کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، اگر تم بھی واپس نہ گئے تو والد اور زیادہ پریشان ہوں گے کہ شاید تمام بیٹے ہی گرفتار ہو گئے، یا ان کا کیا بنا، اس لیے واپس جا کر انھیں حقیقت حال سے آگاہ کرو۔ ➋ {وَمَاشَهِدْنَاۤاِلَّابِمَاعَلِمْنَا: } اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ ہم نے بھائی کے چور ہونے کی شہادت اپنے علم ہی کے مطابق دی ہے، کیونکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے اس کے سامان سے پیمانہ نکلتا ہوا دیکھا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے عزیز مصر کو جو مسئلہ بتایا کہ چور کی یہ سزا ہے تو وہ ہم نے اپنے علم ہی کے مطابق بتایا کہ ہمارے باپ دادا کی شریعت کے مطابق اس کا یہ حکم ہے۔ ➌ { وَمَاكُنَّالِلْغَيْبِحٰفِظِيْنَ:} یعنی جب ہم نے آپ کو قسم کھا کر عہد دیا تھا، ہمیں غیب کا علم تو نہیں تھا کہ بھائی مصر میں جا کر چوری کرے گا، ورنہ ہم اسے اپنے ساتھ کیوں لے جاتے، یا آپ کو یہ پختہ عہد کیوں دیتے کہ اسے اپنے ساتھ ضرور واپس لائیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
80۔ 1 یعنی ہم نے جو عہد کیا تھا کہ ہم بنیامین کو باحفاظت واپس لے آئیں گے، تو یہ ہم نے اپنے علم کے مطابق عہد کیا تھا، بعد میں جو واقعہ پیش آگیا اور جس کی وجہ سے بنیامین کو ہمیں چھوڑنا پڑا، یہ تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ دوسرا مطلب یہ ہے ہم نے چوری کی جو سزا بیان کی تھی چور کو ہی چوری کے بدلے میں رکھ لیا جائے، تو یہ سزا ہم نے اپنے علم کے مطابق ہی تجویز کی تھی۔ اس میں کسی قسم کی بدنیتی شامل نہیں تھی۔ لیکن یہ اتفاق کی بات تھی کہ جب سامان کی تلاشی لی گئی تو مسروقہ کٹورا بنیامین کے سامان سے نکل آیا۔ 81۔ 2 یعنی مستقبل میں پیش آنے والے واقعات سے ہم بیخبر تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
81۔ تم لوگ اپنے باپ سے جا کر کہو: ابا جان! آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے۔ ہم نے وہی گواہی دی جو ہم جانتے [78] تھے اور ہم پوشیدہ چیزوں کے نگہبان نہیں ہیں
[78] یعنی ہم نے بچشم خود دیکھا تھا کہ گمشدہ پیالہ اس کے سامان سے نکلا تھا۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اس نے چوری کی ہے اور جب ہم نے آپ سے اس کی حفاظت کرنے کا عہد و پیمان کیا تھا اس وقت ہمیں یہ تو معلوم نہ تھا کہ وہ مصر جا کر چوری کرے گا، اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ہم سے پوچھا کہ تمہارے ہاں چور کی کیا سزا ہے، تو ہم نے وہی بات بتائی جو ہم جانتے تھے یعنی چور اس شخص کی غلامی میں ایک سال رہے جس کی اس نے چوری کی ہے۔ مگر ہمیں یہ کیا خبر تھی کہ ہمارا یہ بیان ہم پر ہی لاگو ہونے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
اب یہ اپنے اور بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ تم ابا جی کے پاس جاؤ۔ انہیں حقیقت حال سے مطلع کرو۔ ان سے کہو کہ ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ چوری کر لیں گے اور چوری کا مال ان کے پاس موجود ہے ہم سے تو مسئلے کی صورت پوچھی گئی ہم نے بیان کر دی۔ آپ کو ہماری بات کا یقین نہ ہو تو اہل مصر سے دریافت فرما لیجئے جس قافلے کے ساتھ ہم آئے ہیں اس سے پوچھ لیجئے۔ کہ ہم نے صداقت، امانت، حفاظت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اور ہم جو کچھ عرض کر رہے ہیں، وہ بالکل راستی پر مبنی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔