ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 74

قَالُوۡا فَمَا جَزَآؤُہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ کٰذِبِیۡنَ ﴿۷۴﴾
انھوں نے کہا پھر اس کی کیا جزا ہے، اگر تم جھوٹے ہوئے؟ En
بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا
En
انہوں نے کہا اچھا چور کی کیا سزا ہے اگر تم جھوٹے ہو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 73 میں تا آیت 75 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

74۔ 1 یعنی اگر تمہارے سامان میں وہ شاہی پیالہ مل گیا تو پھر اس کی کیا سزا ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

74۔ وہ بولے: ”اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو اس چور کی کیا سزا ہو گی؟“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہو چکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و پیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیئے؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کر دیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب یوسف علیہ السلام کا مطلب پورا ہو گیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے۔