اس آیت کی تفسیر آیت 72 میں تا آیت 74 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
73۔ 1 برداران یوسف ؑ چونکہ اس منصوبے سے بیخبر تھے جو حضرت یوسف ؑ نے تیار کیا تھا، اس لئے قسم کھا کر انہوں نے اپنے چور ہونے کی اور زمین میں فساد برپا کرنے کی نفی کی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
73۔ وہ کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! تم خوب جانتے ہوں کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے اور نہ ہی ہم چور ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہو چکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و پیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیئے؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کر دیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب یوسف علیہ السلام کا مطلب پورا ہو گیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔