ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۡۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَۃٍ ؕ وَ مَاۤ اُغۡنِیۡ عَنۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ ۚ وَ عَلَیۡہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور اس نے کہا اے میرے بیٹو! ایک دروازے سے داخل نہ ہونا اور الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم سے اللہ کی طرف سے (آنے والی) کوئی چیز نہیں ہٹا سکتا، حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اسی پر میں نے بھروسا کیا اور اسی پر پس لازم ہے کہ بھروسا کرنے والے بھروسا کریں۔ En
اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
En
اور (یعقوب علیہ السلام) نے کہا اے میرے بچو! تم سب ایک دروازے سے نہ جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا۔ میں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا۔ حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے۔ میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت67) ➊ { وَ قَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا …:} نہ تو آیت کے الفاظ میں اس چیز کی وضاحت ہے اور نہ کسی صحیح حدیث ہی سے اس کا پتا چلتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو یہ حکم کیوں دیا کہ وہ ایک دروازے سے نہیں بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صحرا کے پر وردہ تنومند گیارہ نوجوان ایک ہی دروازے سے اکٹھے گزریں گے تو ان کی پڑتال زیادہ ہو گی۔ انھیں رہزنوں کا گروہ بھی سمجھا جا سکتا ہے، اگر شک یا حسد کی بنا پر گرفتار ہوئے تو عزیزِ مصر تک ایک بھی نہیں پہنچ سکے گا، پھر گرفتار شدگان کی رہائی کی جدوجہد اجنبی وطن میں کون کرے گا، غرض کئی وجہیں ہو سکتی ہیں، مگر اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ یعقوب علیہ السلام کو اپنے صحت مند، قوی، جوان اور خوب صورت بیٹوں کے اکٹھے داخل ہونے پر نظرِ بد لگنے کا خطرہ تھا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ٹوک (نظر بد) سے بچنے کا طریقہ بتایا اور توکل اللہ پر کیا، ٹوک لگنی غلط نہیں اور نظر بد سے بچاؤ کرنا درست ہے۔ (موضح) ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوْا] [مسلم، السلام، باب الطب والمرض والرقي: ۲۱۸۸]نظر لگنا ثابت شدہ بات ہے اور اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے نکل سکتی تو نظر اس سے آگے نکل جاتی اور جب تم سے غسل کے لیے کہا جائے تو غسل کرو۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت سے لوگوں کو نظر بد سے نقصان کا پہنچنا ثابت ہے۔ دراصل نظر لگانے والے کی آنکھ سے کوئی ایسی تاثیر رکھنے والی شعاع نکلتی ہے جو نشانہ بننے والے کو نقصان پہنچاتی ہے، جیسا کہ اب لیزر (شعاع) سے پتھر بھی توڑ دیا جاتا ہے۔ یہ حسد کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اور اپنے پیاروں کو بھی لگ جاتی ہے، کسی کی آنکھ میں یہ تاثیر زیادہ ہوتی ہے کسی میں کم۔ بچوں پر یہ زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہدایت تو یہ دی ہے کہ کوئی چیز اچھی لگے تو اس کے لیے برکت کی دعا کرے، مثلاً: [تَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ، اَللّٰهُمَّ بَارِكْ فِيْهِ] یا اپنی زبان میں کہہ دے یا اللہ! اس میں برکت فرما۔ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ کوئی اپنے خوب صورت باغ وغیرہ میں داخل ہو تو یہ کہے: «{ مَا شَآءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ [الکھف: ۳۹] اس آیت سے یہی الفاظ اپنی ہر پیاری چیز پر پڑھنے کی ترغیب بھی ملتی ہے، اس سے وہ چیز نظربد سے محفوظ رہے گی۔ اگر نظر لگ جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے دور کرنے کے دو طریقے ثابت ہیں، ایک تو یہ ہے کہ اگر معلوم ہو جائے کہ کس کی نظر لگی ہے تو اس سے غسل کروا کر وہ پانی نظر کے مریض پر ڈالا جائے، جیسا کہ اوپر صحیح مسلم کی حدیث میں گزرا، یا کم از کم اس کا چہرہ، دونوں ہاتھ، دونوں کہنیاں، دونوں گھٹنے، پیروں کی انگلیاں اور تہ بند کے اندر کا حصہ کسی برتن میں دھو کر وہ پانی مریض پر ڈالا جائے (تو وہ تندرست ہو جائے گا)۔ [الموطأ، العین، باب الوضوء من العین: ۲] دوسرا طریقہ توحید پر مبنی دم ہے۔ عوف بن مالک راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا بَأْسَ بِالرُّقٰي مَا لَمْ يَكُنْ فِيْهِ شِرْكٌ] [مسلم، السلام، باب لا بأس بالرقٰی …: ۲۲۰۰] دموں میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ وہ شرک نہ ہوں۔ مشرک صوفیوں اور گدی نشینوں کے بجائے خود ہی مسنون دم کر لیا کریں، یہاں چند مسنون دم ضرورت اور فائدے کے لیے نقل کیے جاتے ہیں: (1) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن و حسین رضی اللہ عنھما کو پناہ دلواتے (دم کرتے) اور فرماتے: تم دونوں کا باپ (ابراہیم علیہ السلام) اسماعیل اور اسحاق(علیھما السلام) کو ان کلمات کے ساتھ پناہ دلواتا (دم کرتا) تھا: [أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ] [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب: ۳۳۷۱] میں پناہ طلب کرتا ہوں اللہ کے کامل کلمات کے ساتھ ہر شیطان اور زہریلے جانور سے اور ہر اس آنکھ سے جو نظر لگانے والی ہے۔ ابوداؤد (۴۷۳۷) اور ترمذی (۲۰۶۰) میں شروع کے لفظ یہ ہیں: [أُعِيْذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ] یعنی میں تم دونوں کو دم کرتا ہوں۔ اگر ایک کو دم کرے تو { أُعِيْذُكَ } کہہ لے۔ (2) ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، کہا: اے محمد! آپ بیمار ہو گئے ہیں؟ کہا: ہاں! تو انھوں نے کہا: [بِسْمِ اللّٰهِ أَرْقِيْكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيْكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنٍ حَاسِدٍ، اَللّٰهُ يَشْفِيْكَ بِسْمِ اللّٰهِ أَرْقِيْكَ] [مسلم، باب الطب والمرض والرقٰی: ۲۱۸۶] میں اللہ ہی کے نام کے ساتھ تجھے دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو تجھے تکلیف دے رہی ہے اور ہر حسد کرنے والے نفس یا آنکھ کے شر سے، اللہ تجھے شفا دے۔ اللہ ہی کے نام سے میں تجھے دم کرتا ہوں۔ مسند احمد (۵؍۳۲۳، ح: ۲۲۸۲۶) میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا، پچھلے پہر جبریل علیہ السلام نے دم کیا، شام کو آپ بہترین حالت میں ہو گئے۔ (3) آسمان سے اترنے والی تمام کتابوں میں سے سورۂ فاتحہ سب سے عظیم سورت ہے۔ صحیح بخاری میں ہے، ایک قبیلے کے سردار کو (جنھوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے قافلے کی مہمان نوازی سے انکار کر دیا تھا) سانپ نے ڈس لیا، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے سورۂ فاتحہ پڑھ کر اسے دم کیا، وہ بالکل ٹھیک ہو گیا تو صحابہ نے ان سے طے کی ہوئی تیس بکریاں وصول کیں۔ [بخاری، الإجارۃ، باب ما یعطی في الرقیۃ علی أحیاء العرب…: ۲۲۷۶] ابوداؤد میں ہے کہ خارجہ بن صلت کے چچا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گئے، واپسی پر ان کا گزر ایک قوم پر ہوا، جہاں ایک پاگل لوہے کی زنجیر کے ساتھ بندھا ہوا تھا، انھوں نے ان سے دم کی درخواست کی تو انھوں نے صرف سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا۔ صبح و شام تین دن سورۂ فاتحہ پڑھ کر جمع شدہ تھوک اس پر پھینکتے رہے تو وہ تندرست ہو گیا اور ایسا گویا اسے رسیوں سے کھول دیا گیا ہو، تو انھوں نے ان کو سو بکریاں دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كُلْ فَلَعَمْرِيْ مَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ] [أبوداوٗد، الطب، باب کیف الرقی: ۳۹۰۱] کھا لو، میری عمر کی قسم! لوگ تو باطل دم کے ساتھ کھاتے ہیں، تم نے حق دم کے ساتھ کھایا ہے۔ اس لیے ہر بیماری، نظر ہو یا کوئی اور سورۂ فاتحہ جیسا عظیم دم موجود ہونے کی صورت میں اگر کوئی مشرکوں بدعتیوں کے پاس جائے تو اس پر افسوس ہے۔ (4) سورۂ فلق اور سورۂ ناس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [يَا عُقْبَةُ! تَعَوَّذْ بِهِمَا فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا] [أبوداوٗد، الوتر، باب فی المعوذتین: ۱۴۶۳] اے عقبہ! ان دونوں کے ساتھ پناہ پکڑ، کیونکہ کسی پناہ پکڑنے والے نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ پناہ نہیں پکڑی۔ کتبِ احادیث میں اور بھی دم موجود ہیں جو حصن المسلم اور ادعیہ و اذکار کی دوسری کتابوں میں موجود ہیں۔
➋ {وَ مَاۤ اُغْنِيْ عَنْكُمْ …:} اور میں اللہ کی طرف سے آنے والی کوئی چیز تم سے ہٹا نہیں سکتا، بلکہ اس نے جو کچھ تمھاری تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ ہو کر رہے گا، مگر چونکہ آدمی کا فرض ہے کہ جہاں تک ممکن ہو خرابی سے بچنے کی تدبیر کرے، اگرچہ اصل بھروسا تدبیر پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت پر ہونا چاہیے، کیونکہ اسباب بھی تب ہی کام آتے ہیں جب اللہ تعالیٰ چاہے۔ سو تدبیر کرنا بھی دراصل اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگنے کا نام ہے۔ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا تدبیر ہے اور میں اللہ سے آنے والی کوئی چیز تم سے ہٹا نہیں سکتا تقدیر پر ایمان ہے، جس کا نتیجہ اسی پر توکل ہے۔
➌ {اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ …:} یہاں حکم سے مراد کونی اور قدری حکم ہے جس پر یہ کائنات چل رہی ہے، اس میں بندے کا کچھ اختیار نہیں۔ { عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ } یعنی میری طرح تم پر اور سب لوگوں پر بھی لازم ہے کہ صرف اسی پر بھروسا کریں، اپنی تدبیر پر غرور نہ کریں، اگرچہ شرعی حکم بھی اللہ ہی کا ماننا لازم ہے مگر اس میں اللہ تعالیٰ نے امتحان کے لیے بندے کو کچھ اختیار دیا ہے جس پر باز پرس ہو گی۔
➍ پہلی دفعہ یعقوب علیہ السلام نے انھیں مختلف دروازوں سے داخل ہونے کا حکم نہیں دیا، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس وقت قحط کی وجہ سے تمام بھائیوں کی صحت اچھی نہیں ہو گی، اب وہ بہترین صحت کے ساتھ تھے اور مزید یہ کہ وہ چھوٹے بھائی کو ساتھ لے جا رہے تھے جو یوسف علیہ السلام کے بعد یعقوب علیہ السلام کو سب سے زیادہ پیارے اور یوسف علیہ السلام کی ماں کے بطن سے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

67۔ 1 جب بنیامین سمیت، گیارہ بھائی مصر جانے لگے، تو یہ ہدایت دی، کیونکہ ایک ہی باپ کے گیارہ بیٹے، جو قد و قامت اور شکل و صورت میں بھی ممتاز ہوں، جب اکٹھے ایک ہی جگہ یا ایک ساتھ کہیں سے گزریں گے تو عموماً انھیں لوگ تعجب یا حسد کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہی چیز نظر لگنے کا باعث بنتی ہے۔ چناچہ انھیں نظر بد سے بچانے کے لئے بطور تدبیر یہ حکم دیا ' نظر لگ جانا حق ہے ' جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے مثلاً ' اَ لْعَیْنُ حَق ' نظر کا لگ جانا حق ہے '۔ صحیح بخاری صحیح مسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد سے بچنے کے لیے دعائیہ کلمات بھی اپنی امت کو بتالئے ہیں مثلا فرمایا کہ جب تمہیں کوئی چیز اچھی لگے تو بارک اللہ کہو۔ مؤطا امام مالک جس کی نظر لگے اس کو کہا جائے کہ غسل کرے اور اس کے غسل کا یہ پانی اس شخص کے سر اور جسم پر ڈالا جائے جس کو نظر لگی ہو حوالہ مذکورہ اسی طرح ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ پڑھنا قرآن سے ثابت ہے سورة کہف قل اغوذ برب الفلق اور قل اغوذ برب الناس نظر کے لیے بطور دم پڑھنا چاہیے جامع ترمذی 67۔ 2 یعنی یہ تاکید بطور ظاہری اسباب، احتیاط اور تدبیر کے ہے جسے اختیار کرنے کا انسانوں کو حکم دیا گیا ہے، تاہم اس سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر و قضا میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ ہوگا وہی، جو اس کی قضا کے مطابق اس کا حکم ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ پھر کہنے لگے: میرے بچو! (شہر میں) ایک ہی دروازے سے نہیں بلکہ مختلف دروازوں [65] سے داخل ہونا۔ تاہم میں اللہ (کی مشیئت) سے تمہیں ذرہ بھر بھی بچا نہیں سکتا۔ حکم تو صرف اسی کا چلتا ہے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور جسے بھی بھروسہ کرنا ہو اسی پر کرنا چاہئے۔“
[65] پھر جب ان گیارہ بھائیوں کی روانگی کا وقت آیا تو کئی طرح کے اندیشے سیدنا یعقوبؑ کے دل میں پیدا ہونے لگے پہلے ان کے بیٹے اجنبی مسافروں کی حیثیت سے اور بے بسی کے عالم میں مصر داخل ہوئے تھے۔ اب یہ ایک لحاظ سے شاہی دعوت کی بنا پر شان و شوکت سے روانہ ہو رہے تھے۔ گیارہ بھائی تھے۔ سب کے سب جوان اور خوبصورت، پھر پہلی بار بھی ان سے مصر میں عام لوگوں جیسا سلوک نہ ہوا تھا بلکہ ان کی بہت عزت و تکریم کی گئی تھی جسے اہل مصر خوب جانتے تھے۔ لہٰذا روانگی کے وقت سیدنا یعقوبؑ کو سب سے بڑا اندیشہ یہی تھا کہ کہیں انھیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ لہٰذا احتیاطی تدبیر کے طور پر انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ مصر کے کسی ایک ہی دروازہ سے داخل نہ ہوں۔ بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں۔ بعض لوگ نظر لگنے کو محض ایک وہم خیال کرتے ہیں۔ درج ذیل حدیث کی رو سے ان کا خیال باطل ہے: ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر لگنا برحق ہے اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کرتی تو نظر کرتی۔ [مسلم، كتاب السلام، باب الطب و المرضيٰ والرقي۔۔]
اس تدبیر کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں یہ بھی بتلا دیا کہ ہماری تدابیر بھی اس صورت میں کام آسکتی ہیں جبکہ اللہ کو منظور ہو، اور اگر اللہ کو منظور نہ ہو تو سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہو۔ لہٰذا حقیقت یہی ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنا تدابیر اختیار کرنے سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
چونکہ اللہ کے نبی نے یعقوب علیہ السلام کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے، خوبصورت، تنو مند، طاقتور، مضبوط دیدہ رو نوجوان تھے اس لیے بوقت رخصت ان سے فرماتے ہیں کہ پیارے بچو تم سب شہر کے ایک دروازے سے شہر میں نہ جانا بلکہ مختلف دروازوں سے ایک ایک دو دو کر کے جانا۔ نظر کا لگ جانا حق ہے۔ گھوڑ سوار کو یہ گرا دیتی ہے۔ پھر ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ یہ میں جانتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ یہ تدبیر تقدیر میں ہیر پھیر نہیں کر سکتی۔ اللہ کی قضاء کو کوئی شخص کسی تدبیر سے بدل نہیں سکتا۔ اللہ کا چاہا پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔ حکم اسی کا چلتا ہے۔ کون ہے جو اس کے ارادے کو بدل سکے؟ اس کے فرمان کو ٹال سکے؟ اس کی قضاء کو لوٹا سکے؟ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور مجھ پر ہی کیا موقوف ہے۔ ہر ایک توکل کرنے والے کو اسی پر توکل کرنا چاہیئے۔
چنانچہ بیٹوں نے باپ کی فرماں برداری کی اور اسی طرح کئی ایک دروازوں میں بٹ گئے اور شہر میں پہنچے۔ اس طرح وہ اللہ کی قضاء کو لوٹا نہیں سکتے تھے ہاں یعقوب علیہ السلام نے ایک ظاہری تدبیر پوری کی کہ اس سے وہ نظر بد سے بچ جائیں۔ وہ ذی علم تھے، الہامی علم ان کے پاس تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:250/7]‏‏‏‏ ہاں اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں جانتے۔