ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 56

وَ کَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرۡضِ ۚ یَتَبَوَّاُ مِنۡہَا حَیۡثُ یَشَآءُ ؕ نُصِیۡبُ بِرَحۡمَتِنَا مَنۡ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾
اور اسی طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف کو اقتدار عطا فرمایا، اس میں سے جہاں چاہتا جگہ پکڑتا تھا۔ہماپنی رحمت جس کو چاہتے ہیں پہنچا دیتے ہیں اور ہم نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ En
اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے
En
اسی طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک کا قبضہ دے دیا۔ کہ وه جہاں کہیں چاہے رہے سہے، ہم جسے چاہیں اپنی رحمت پہنچا دیتے ہیں۔ ہم نیکو کاروں کا ﺛواب ضائع نہیں کرتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 57،56) ➊ «‏‏‏‏وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کو سلطنتِ مصر میں ہر قسم کے اختیارات حاصل تھے اور وہ ایک کافر بادشاہ کے وزیر و ملازم نہیں تھے، ہو سکتا ہے کہ بادشاہ نے از خود ہی زمام حکومت ان کے سپرد کر دی ہو۔ ایک مشرک بادشاہ اور ایک نبی کا اتنا قرب ممکن ہی نہیں، اگر بادشاہ کو کافر فرض کیا جائے تو ممکن ہی نہیں کہ انسانوں میں سے اللہ کا سب سے بڑا دشمن (کافر بادشاہ) اللہ کے اس وقت کے سب سے بڑے دوست (نبی) سے اتنی دلی محبت رکھ کر نباہ کر سکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فیصلہ فرمایا ہے: «{ اِنَّ الْكٰفِرِيْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِيْنًا [النساء: ۱۰۱] بے شک کافر لوگ ہمیشہ سے تمھارے کھلے دشمن ہیں۔ سورۂ کافرون پر نظر ڈال لیں اور سورۂ مجادلہ کی آخری آیت پر بھی۔ سورۂ ممتحنہ کی آیت (۴) میں یوسف علیہ السلام کے جد امجد ابراہیم علیہ السلام نے تو مسلم و کافر کے درمیان واضح ابدی بغض و عداوت کی صراحت فرما دی ہے۔ کافر بادشاہ اور نبی کے درمیان عداوت و محبت کا منظر دیکھنا ہو تو موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کو دیکھ لیں، حالانکہ موسیٰ علیہ السلام نے اس گھر میں بیٹے کی حیثیت سے پرورش پائی تھی۔ بادشاہ تو دور کی بات ہے کافر سرداران قوم ایک لمحہ انبیاء اور مسلمانوں کو برداشت نہیں کر سکے اور نہ کر سکتے ہیں۔ سوائے ایسے مسلمانوں کے جو ان کے ہر عملِ بد پر ان کی مدد کریں، یا کم از کم خاموش رہیں۔ اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام سے اس کی توقع وہی شخص کر سکتا ہے جو یوسف علیہ السلام کا خواتین مصر کے مطالبے کے مقابلے میں سال ہا سال کی قید گوارا کرنا اور بادشاہ کے بلانے کے باوجود تحقیق کے بغیر قید خانے سے نکلنے سے انکار نہ جانتا ہو۔
➋ { يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ …:} لفظ{ يَتَبَوَّاُ } سے یوسف علیہ السلام کو مصر میں حاصل ہونے والا اختیار و اقتدار سمجھنے کے لیے اس آیت کو ملاحظہ فرمائیں جس میں ذکر ہے کہ جنتی جنت میں داخلے کے بعد کیا کہیں گے: «{ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ [الزمر: ۷۴] اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ ہم (اس) جنت میں سے جہاں چاہیں جگہ بنا لیں۔ جنت جیسا اختیار نہ سہی مگر اس سے اس لفظ کی وسعت کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ عزیز مصر کی بیوی سے یوسف علیہ السلام کا نکاح ہو گیا تھا، مگر محدثین کے نزدیک یہ روایات قابل اعتبار نہیں۔
➌ { وَ لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ (56) وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ …:} یعنی دنیا و آخرت دونوں میں انھیں اپنے نیک اعمال کا بدلہ ملتا ہے، اس آیت کے سلسلے میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یہ جواب ہوا ان کے سوالوں کا کہ اولاد ابراہیم اس طرح شام سے مصر آئی اور بیان ہوا کہ بھائیوں نے یوسف علیہ السلام کو گھر سے دور پھینکا، تاکہ ذلیل ہو، اللہ نے زیادہ عزت دی اور ملک پر زیادہ اختیار دیا، ویسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

56۔ 1 یعنی ہم نے یوسف ؑ کو زمین میں ایسی قدرت و طاقت عطا کی کہ بادشاہ وہی کچھ کرتا جس کا حکم حضرت یوسف ؑ کرتے، اور سرزمین مصر میں اس طرح تصرف کرتے جس طرح انسان اپنے گھر میں کرتا ہے اور جہاں چاہتے، وہ رہتے، پورا مصر ان کے زیرنگین تھا۔ 56۔ 2 یہ گویا اجر تھا ان کے صبر کا جو بھائیوں کے ظلم و ستم پر انہوں نے کیا اور ثابت قدمی کا زلیخا کی دعوت گناہ کے مقابلے میں اختیار کی اور اس کی اولو العزمی کا جو قید خانے کی زندگی میں اپنا رکھی۔ حضرت یوسف ؑ کو ورغلانے کی مذموم سعی کی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ بادشاہ حضرت یوسف ؑ کی دعوت و تبلیغ سے مسلمان ہوگیا تھا بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ عزیز مصر، جس کا نام اطفیر تھا، فوت ہوگیا تو اس کے بعد زلیخا کا نکاح حضرت یوسف ؑ سے ہوگیا اور دو بچے بھی ہوئے، ایک نام افرأیم اور دوسرے کا نام میشا تھا، افرأیم ہی یوشع بن نون اور حضرت ایوب ؑ کے والد تھے (تفسیر ابن کثیر) لیکن یہ بات مستند روایت سے ثابت نہیں اس لئے نکاح والی بات صحیح معلوم نہیں ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اس عورت سے جس کردار کا مظاہرہ ہوا، اس کے ہوتے ہوئے ایک نبی کے حرم سے اس کی وابستگی، نہایت نامناسب بات لگتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ اس طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں اقتدار عطا کیا، وہ جہاں چاہتے رہتے [55] ہم جسے چاہیں اپنی رحمت سے (ایسے ہی) نوازتے ہیں۔ اور نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے
[55] اس جملہ کے الفاظ سابقہ حاشیہ کی پوری طرح تائید کر رہے ہیں۔ یعنی اب سیدنا یوسفؑ جہاں چاہتے رہتے اور جو کچھ چاہتے کر سکتے تھے اور ظاہر ہے کہ اگر محض محکمہ مال کے افسر یا وزیر خزانہ ہوتے تو آپ حکومت کے احکام کے پابند ہوتے۔ آپ کو اتنی آزادی کبھی میسر نہ آسکتی تھی اور یہ محض آزادی نہ تھی بلکہ آپ کو خوشحالی کے سالوں میں غلہ کو ذخیرہ کرنے کے لیے مختلف مقامات پر جانا ضروری ہوتا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
زمین مصر میں یوں یوسف علیہ السلام کی ترقی ہوئی۔ اب ان کے اختیار میں تھا کہ جس طرح چاہیں تصرف کریں۔ جہاں چاہیں مکانات تعمیر کریں۔ یا اس تنہائی اور قید کو دیکھئیے یا اب اس اختیار اور آزادی کو دیکھئیے۔ سچ ہے رب جسے چاہے اپنی رحمت کا جتنا حصہ چاہے دے۔ صابروں کا پھل لا کر ہی رہتا ہے۔ بھائیوں کا دکھ سہا، اللہ کی نافرمانی سے بچنے کے لیے عزیز مصر کی عورت سے بگاڑ لی اور قید خانے کی مصیبتیں برداشت کیں۔ پس رحمت الٰہی کا ہاتھ بڑھا اور صبر کا اجر ملا۔ نیک کاروں کی نیکیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔ پھر ایسے باایمان تقویٰ والے آخرت میں بڑے درجے اور اعلیٰ ثواب پاتے ہیں۔ یہاں یہ ملا، وہاں کے ملنے کی تو کچھ نہ پوچھئے۔ سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بھی قرآن میں آیا ہے کہ «هَـٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ» [38-ص: 39، 40]‏‏‏‏ یہ دنیا کی دولت وسلطنت ہم نے تجھے اپنے احسان سے دی ہے اور قیامت کے دن بھی تیرے لیے ہمارے ہاں اچھی مہمانی ہے۔ الغرض شاہ مصر ریان بن ولید نے سلطنت مصر کی وزارت آپ علیہ السلام کو دی، پہلے اسی عہدے پر اس عورت کا خاوند تھا۔ جس نے آپ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا، اسی نے آپ کو خرید لیا تھا۔ آخر شاہ مصر آپ کے ہاتھ پر ایمان لایا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ آپ کے خریدنے والے کا نام اطفیر تھا۔ یہ انہی دنوں میں انتقال کر گیا۔
اس کے بعد باشاہ نے اس کی زوجہ راعیل سے یوسف علیہ السلام کا نکاح کر دیا۔ جب آپ ان سے ملے تو فرمایا کہو کیا یہ تمہارے اس ارادے سے بہتر نہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اے صدیق مجھے ملامت نہ کیجیئے آپ علیہ السلام کو معلوم ہے کہ میں حسن وخوبصورتی والی دھن دولت والی عورت تھی میرے خاوند مردمی سے محروم تھے وہ مجھ سے مل ہی نہیں سکتے تھے۔ ادھر آپ کو قدرت نے جس فیاضی سے دولت حسن کے ساتھ مالا مال کیا ہے وہ بھی ظاہر ہے۔ پس مجھے اب ملامت نہ کیجئے۔ کہتے ہیں کہ واقعی یوسف علیہ السلام نے انہیں کنواری پایا۔ پھر ان کے بطن سے آپ کو دو لڑکے ہوئے افراثیم اور میضا۔ افراثیم کے ہاں نون پیدا ہوئے جو یوشع کے والد ہیں اور رحمت نامی صاحبزادی ہوئی جو ایوب علیہ السلام کی بیوی ہیں۔ فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی راستے میں کھڑی تھیں جو یوسف علیہ السلام کی بیوی ہیں۔ فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی راستے میں کھڑی تھیں جب یوسف علیہ السلام کی سواری نکلی تو بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ الحمداللہ اللہ کی شان کے قربان جس نے اپنی فرمانبرداری کی وجہ سے غلاموں کو بادشاہی پر پہنچایا اور اپنی نافرمانی کی وجہ سے بادشاہوں کو غلامی پر لا اتارا۔