قَالَ اجۡعَلۡنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرۡضِ ۚ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۵﴾
اس نے کہا مجھے اس زمین کے خزانوں پر مقرر کر دے، بے شک میں پوری طرح حفاظت کرنے والا، خوب جاننے والا ہوں۔
En
(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں
En
(یوسف نے) کہا آپ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے، میں حفاﻇت کرنے واﻻ اور باخبر ہوں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 55) ➊ {قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰى خَزَآىِٕنِ الْاَرْضِ …: ” الْاَرْضِ “} میں الف لام عہد کا ہے ”اس زمین“ یعنی مجھے سرزمین مصر کے خزائن پر مقرر کر دیجیے، کیونکہ میں ان کی پوری طرح حفاظت کر سکتا ہوں اور اس کام کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ {”خَزَآىِٕنِ“ } {”خِزَانَةٌ “} کی جمع ہے، اس سے مراد یا تو ان گوداموں کا نظام ہے جو خوش حالی کے سالوں کے لیے تعمیر کیے جائیں گے اور غلہ سنبھالیں گے اور قحط کے سالوں میں ان سے غلہ تقسیم کیا جائے گا، کیونکہ اس کے لیے بہت بڑی منصوبہ بندی، محنت و امانت اور حساب کتاب میں مہارت کی ضرورت ہے، یا مراد سلطنت کے تمام ذرائع آمدنی و پیداوار ہیں۔ قرآن میں ”خزائن“ کا لفظ عموماً اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: «{ وَ لِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ }» [المنافقون: ۷] ”حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں۔“ اور دیکھیے سورۂ انعام (۵۰)، بنی اسرائیل (۱۰۰)، صٓ (۹)، طور (۳۷) اور حجر (۲۱) اور یہی معنی یہاں صحیح ہے، کیونکہ خوش حالی کے سالوں میں گوداموں کی تعمیر، پھر سات سال تک پورے ملک کے لوگوں سے ضرورت سے زائد گندم خریدنا، حکومت کی آمدنی کے تمام ذرائع پر مکمل اختیار کے بغیر ممکن نہ تھا، تاکہ ملک بھی چلتا رہے اور جنس کی خریداری کے لیے رقم بھی مہیا ہو سکے اور گودام بھی تعمیر ہو سکیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب یوسف علیہ السلام نے دیکھا کہ بادشاہ کی نگاہ میں ان کی قدر و منزلت بڑھ گئی ہے اور وہ انھیں ہر طرح کے اختیارات سونپنے کو تیار ہے تو اپنی اہلیت پر اعتماد کرتے ہوئے یہ پیش کش مناسب سمجھی کہ سلطنت کے تمام ذرائع آمدنی و پیداوار میرے حوالے کر دیے جائیں، بلکہ آئندہ آیات (۱۰۰، ۱۰۱) سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار مصر میں یوسف علیہ السلام ہی تخت نشین ہو گئے تھے، یا کم از کم عملاً حکومت انھی کی تھی اور یہ پیش کش اس لیے بھی تھی کہ یوسف علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی تھے، اس ملک کے تمام اختیارات پر قبضہ ان کے لیے اس لیے بھی ضروری تھا کہ وہ توحید کی اشاعت اور شرک کا استیصال کر سکیں۔
➋ یہاں ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یوسف علیہ السلام نے خود عہدہ مانگا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہدہ مانگنے یا اس کی حرص رکھنے والے کے متعلق فرمایا: [لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلٰی عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهٗ] [بخاری، الإجارۃ، باب استئجار الرجل الصالح…: ۲۲۶۱]”ہم ایسے شخص کو ہر گز عہدہ نہیں دیں گے جو اس کا ارادہ رکھے۔ “اس کے کئی جواب ہیں جن میں سے سب سے صحیح اور مضبوط جواب یہ ہے کہ بادشاہ نے یوسف علیہ السلام کو عہدے پر تو فائز کر ہی دیا تھا: «{ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ }» [یوسف: ۵۴] ”بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانت دار ہے۔“ جس طرح آج کل پہلے وزیر چن لیے جاتے ہیں اور پھر وہ اپنے لیے شعبے کا انتخاب خود کرتے ہیں، اسی طرح جب بادشاہ نے انھیں اپنے ہاں پوری طرح صاحب اقتدار اور امانت دار قرار دے دیا تو یوسف علیہ السلام جانتے تھے کہ اس منصب کے تقاضے خزانے پر مکمل اختیار کے بغیر پورے ہو ہی نہیں سکتے، سو ان کے لیے یہ اختیار طلب کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔ خلاصہ یہ کہ انھوں نے عہدہ ہر گز نہیں مانگا، بلکہ انھیں جب عہدے سے نوازا گیا تو انھوں نے اس کی عملی صورت پیش فرمائی۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر کسی کو اصرار ہو کہ انھوں نے عہدہ مانگا ہے تو ٹھیک ہے جو شخص یوسف علیہ السلام جیسے مقام پر فائز ہو وہ بے شک عہدہ مانگ لے، جو ان جیسے اوصاف رکھتا ہو، انسان کی سب سے منہ زور قوت (جنس) سمیت تمام بہیمانہ قوتوں مثلاً غصے، خیانت اور ظلم وغیرہ پر ان کی طرح قابو رکھتا ہو اور نبوت سے بھی سرفراز ہو، کیونکہ ایسی صورت میں نہ اس عہدے کی ذمہ داری کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے نہ خیانت کا۔ دوسرا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرے اور آرام سے رہے، خود اپنے آپ کو اس آزمائش میں نہ ڈالے جس کا انجام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں واضح طور پر بتا دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مِنْ أَمِيْرِ عَشَرَةٍ إِلاَّ يُؤْتٰی بِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُوْلاً لَا يَفُكُّهٗ إِلاَّ الْعَدْلُ أَوْ يُوْبِقُهُ الْجَوْرُ] [مسند أحمد: 431/2، ح: ۹۵۸۶۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 237/6، ح: ۲۶۲۱]”کوئی بھی دس آدمیوں کا امیر ہو اسے طوق پہنا کر لایا جائے گا، عدل کے سوا کوئی چیز اسے نہیں چھڑائے گی، یا ظلم اسے ہلاک کر دے گا۔“
➋ یہاں ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یوسف علیہ السلام نے خود عہدہ مانگا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہدہ مانگنے یا اس کی حرص رکھنے والے کے متعلق فرمایا: [لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلٰی عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهٗ] [بخاری، الإجارۃ، باب استئجار الرجل الصالح…: ۲۲۶۱]”ہم ایسے شخص کو ہر گز عہدہ نہیں دیں گے جو اس کا ارادہ رکھے۔ “اس کے کئی جواب ہیں جن میں سے سب سے صحیح اور مضبوط جواب یہ ہے کہ بادشاہ نے یوسف علیہ السلام کو عہدے پر تو فائز کر ہی دیا تھا: «{ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ }» [یوسف: ۵۴] ”بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانت دار ہے۔“ جس طرح آج کل پہلے وزیر چن لیے جاتے ہیں اور پھر وہ اپنے لیے شعبے کا انتخاب خود کرتے ہیں، اسی طرح جب بادشاہ نے انھیں اپنے ہاں پوری طرح صاحب اقتدار اور امانت دار قرار دے دیا تو یوسف علیہ السلام جانتے تھے کہ اس منصب کے تقاضے خزانے پر مکمل اختیار کے بغیر پورے ہو ہی نہیں سکتے، سو ان کے لیے یہ اختیار طلب کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔ خلاصہ یہ کہ انھوں نے عہدہ ہر گز نہیں مانگا، بلکہ انھیں جب عہدے سے نوازا گیا تو انھوں نے اس کی عملی صورت پیش فرمائی۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر کسی کو اصرار ہو کہ انھوں نے عہدہ مانگا ہے تو ٹھیک ہے جو شخص یوسف علیہ السلام جیسے مقام پر فائز ہو وہ بے شک عہدہ مانگ لے، جو ان جیسے اوصاف رکھتا ہو، انسان کی سب سے منہ زور قوت (جنس) سمیت تمام بہیمانہ قوتوں مثلاً غصے، خیانت اور ظلم وغیرہ پر ان کی طرح قابو رکھتا ہو اور نبوت سے بھی سرفراز ہو، کیونکہ ایسی صورت میں نہ اس عہدے کی ذمہ داری کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے نہ خیانت کا۔ دوسرا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرے اور آرام سے رہے، خود اپنے آپ کو اس آزمائش میں نہ ڈالے جس کا انجام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں واضح طور پر بتا دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مِنْ أَمِيْرِ عَشَرَةٍ إِلاَّ يُؤْتٰی بِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُوْلاً لَا يَفُكُّهٗ إِلاَّ الْعَدْلُ أَوْ يُوْبِقُهُ الْجَوْرُ] [مسند أحمد: 431/2، ح: ۹۵۸۶۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 237/6، ح: ۲۶۲۱]”کوئی بھی دس آدمیوں کا امیر ہو اسے طوق پہنا کر لایا جائے گا، عدل کے سوا کوئی چیز اسے نہیں چھڑائے گی، یا ظلم اسے ہلاک کر دے گا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
55۔ 1 خزائن خزانۃ کی جمع ہے خزانہ ایسی جگہ کو کہتے ہیں جس میں چیزیں محفوظ کی جاتی ہیں زمین کے خزانوں سے مراد وہ گودام ہیں جہاں غلہ جمع کیا جاتا ہے۔ اس کا انتظام ہاتھ میں لینے کی خواہش اس لئے ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں (خواب کی تعبیر کی رو سے) جو قحط سالی کے ایام آنے والے ہیں، اس سے نمٹنے کے لئے مناسب انتطامات کئے جاسکیں اور غلے کی معقول مقدار بچا کر رکھی جاسکے، عام حالات میں اگرچہ عہدہ و منصب کی طلب جائز نہیں ہے، لیکن حضرت یوسف ؑ کے اس اقدام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاص حالات میں اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ قوم اور ملک کو جو خطرات درپیش ہیں اور ان سے نمٹنے کی اچھی صلاحیت میرے اندر موجود ہیں جو دوسروں میں نہیں ہیں، تو وہ اپنی اہلیت کے مطابق اس مخصوص عہدے اور منصب کی طلب کرسکتا ہے علاوہ ازیں حضرت یوسف ؑ نے تو سرے سے عہدا و منصب طلب ہی نہیں کیا، البتہ جب بادشاہ مصر نے انھیں پیشکش کی تو پھر ایسے عہدے کی خواہش کی جس میں انہوں نے ملک اور قوم کی خدمت کا پہلو نمایاں دیکھا۔ 55۔ 2 حَفِیْظ میں اس کی اس طرح حفاظت کروں گا کہ اسے کسی بھی غیر ضروری مصرف میں خرچ نہیں کروں گا عَلِیْم اس کو جمع کرنے اور خرچ کرنے اور اس کے رکھنے اور نکالنے کا بخوبی علم رکھتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
55۔ یوسف کہنے لگے: مجھے زمین کے خزانوں کا نگران [54] مقرر کر دیجئے میں ان کی حفاظت کرنے والا ہوں اور (یہ کام) جانتا بھی ہوں“
[54] سیدنا یوسف نے شاہ مصر سے کس چیز کا مطالبہ کیا تھا:۔
اس کے جواب میں سیدنا یوسفؑ نے کہا کہ پھر آپ مجھے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیجئے اور یہ بات تو آپ لوگ بھی سمجھ چکے ہیں کہ میں اس نظم و نسق کو پوری احتیاط کے ساتھ چلانے کی اہلیت رکھتا ہوں۔ بادشاہ سے آپ کے اس مطالبہ سے متعلق چند امور غور طلب ہیں: بعض مفسرین نے خزائن الارض کے مطالبہ سے یہ سمجھا کہ آپ نے محکمہ مال کے افسر اعلیٰ یا وزیر خزانہ کا عہدہ طلب کیا تھا۔ جو ملکی معیشت سے تعلق رکھتا تھا۔ کیونکہ آپ نے خواب کی جو تعبیر بتلائی تھی وہ اسی شعبہ سے تعلق رکھتی تھی اور آئندہ جو برادران یوسف کے مصر میں آنے کا ذکر ہے۔ وہ بھی اسی شعبہ سے تعلق ہے لیکن اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ آیا ایک نبی کسی کافرانہ حکومت کا کل پرزہ بن کر رہ سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ ایک نبی کے لیے کسی بھی صورت یہ شایان شان نہیں کہ وہ اس بات کو گوارا کر لے۔ لہٰذا یہاں خزائن الارض سے مراد مکمل اقتدار یا ملک کے سیاہ و سفید کا مختار ہونا ہے۔ بالخصوص اس لحاظ سے کہ ان الفاظ میں اس معنی کی بھی گنجائش موجود ہے اور اس لیے بھی کہ اس سے اگلی آیت میں واضح طور پر یہ الفاظ موجود ہیں۔ ﴿وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ﴾ لہٰذا ﴿عَليٰ خَزَائِنِ الاَرْضِ﴾ سے محض وزارت خزانہ یا شعبہ مالیات مراد لینا درست نہیں۔
طلب امارت کس صورت میں مذموم ہے؟
دوسری بات یہ ہے کہ طلب امارت شرعاً ممنوع اور مذموم چیز ہے تو پھر سیدنا یوسفؑ نے ایسا مطالبہ کیوں کیا تھا؟ بالخصوص اس صورت میں جبکہ بادشاہ کافر بھی تھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ طلب امارت صرف اس صورت میں ممنوع اور مذموم ہے جبکہ اس کا جذبہ محرکہ یا مقصود صرف حب جاہ و مال ہو۔ لیکن جہاں ملک بھر کا انتظام درہم برہم ہو رہا ہو یا کسی بڑے مفسدہ کا خطرہ موجود ہو اور مطالبہ کرنے والے کو یہ بھی علم ہو کہ کوئی دوسرا اس کے سوا یہ بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں تو اس وقت معاملہ بالکل برعکس ہو جاتا ہے اور اس وقت مطالبہ نہ کرنا مذموم بن جاتا ہے۔ رہی یہ بات کہ سیدنا یوسفؑ نے ایک کافر بادشاہ سے مطالبہ کیوں کیا تھا تو اس کا جواب پہلے گزر چکا کہ یہ مطالبہ محض طلب امارت کا نہ تھا بلکہ پورے اقتدار کا مطالبہ تھا۔ یعنی ملک کا پورے کا پورا اقتدار ہی سیدنا یوسفؑ کے حوالہ کر دیا جائے۔ چنانچہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے اس مطالبہ کے متعلق مشورہ کیا۔ جس میں یہی طے ہوا کہ مکمل اقتدار سیدنا یوسفؑ کے حوالہ کر دیا جائے اس لیے کہ سات سالہ قحط پر کنٹرول اور ملکی معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے انھیں کوئی دوسرا آدمی نظر نہیں آ رہا تھا۔ اور اس مشورہ پر عمل درآمد کے بعد بادشاہ صرف برائے نام بادشاہ رہ گیا تھا۔ جملہ اختیارات سیدنا یوسفؑ کی طرف منتقل ہو گئے تھے۔ لہٰذا یہ طلب امارت نہیں بلکہ حق کی فتح تھی۔ چنانچہ بعد میں ملک بھر کا پورا انتظام سیدنا یوسفؑ نے اپنی مرضی کے مطابق چلایا تھا اور قرآن نے بھی اس منتقلی اقتدار کے بعد بادشاہ کے لیے ملک کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ [نيز ديكهئے سورة بني اسرائيل آيت نمبر 82 كا حاشيه]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
جب بادشاہ کے سامنے یوسف علیہ السلام کی بےگناہی کھل گئی تو خوش ہو کر کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ کہ میں انہیں اپنے خاص مشیروں میں کر لوں۔ چانچہ آپ تشریف لائے۔ جب وہ آپ سے ملا، آپ علیہ السلام کی صورت دیکھی۔ آپ علیہ السلام کی باتیں سنیں، آپ علیہ السلام کے اخلاق دیکھے تو دل سے گرویدہ ہو گیا اور بےساختہ اس کی زبان سے نکل گیا کہ آج سے آپ ہمارے ہاں معزز اور معتبر ہیں۔ اس وقت آپ علیہ السلام نے ایک خدمت اپنے لیے پسند فرمائی اور اس کی اہلیت ظاہر کی۔ انسان کو یہ جائز بھی ہے کہ جب وہ انجان لوگوں میں ہو تو اپنی قابلیت بوقت ضرورت بیان کر دے۔ اس خواب کی بنا پر جس کی تعبیر آپ نے دی تھی۔ آپ نے یہی آرزو کی کہ زمین کی پیداوار غلہ وغیرہ جو جمع کیا جاتا ہے اس پر مجھے مقرر کیا جائے تاکہ میں محافظت کروں نیز اپنے علم کے مطابق عمل کر سکوں تاکہ رعایا کو قحط سالی کی مصیبت کے وقت قدرے عافیت مل سکے۔ بادشاہ کے دل پر تو آپ کی امانت داری، سچائی، سلیقہ مندی اور کامل علم کا سکہ بیٹھ چکا تھا اسی وقت اس نے اس درخواست کو منظور کر لیا۔