وَ قَالَ الۡمَلِکُ اِنِّیۡۤ اَرٰی سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ؕ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِیۡ فِیۡ رُءۡیَایَ اِنۡ کُنۡتُمۡ لِلرُّءۡیَا تَعۡبُرُوۡنَ ﴿۴۳﴾
اور بادشاہ نے کہا بے شک میں سات موٹی گائیں دیکھتا ہوں، جنھیں سات دبلی کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے اور کچھ دوسرے خشک (دیکھتا ہوں)، اے سردارو! مجھے میرے خواب کے بارے بتائو، اگر تم خواب کی تعبیر کیا کرتے ہو۔
En
اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ
En
بادشاه نے کہا، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی فربہ گائیں ہیں جن کو سات ﻻغر دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیاں ہیں ہری ہری اور دوسری سات بالکل خشک۔ اے درباریو! میرے اس خواب کی تعبیر بتلاؤ اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 43) ➊ {وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّيْۤ اَرٰى …:} مصر کے بادشاہ کا یہ خواب اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں یوسف علیہ السلام کی قید سے عزت و تکریم کے ساتھ رہائی کا سبب تھا، اس خواب نے شاہِ مصر کو نہایت خوف زدہ اور پریشان کر دیا، چنانچہ اس نے اپنے علم تعبیر کے تمام ماہروں اور سب سرداروں کو جمع کرکے خواب سنایا اور تعبیر کی فرمائش کی۔
➋ { يٰۤاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ …:} اس سے معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر بھی فتویٰ کا حکم رکھتی ہے، جس طرح فتویٰ علم کے بغیر جائز نہیں، خواب کی تعبیر کا بھی اگر فی الواقع علم ہو تو بتانی چاہیے، ورنہ علم کے بغیر تعبیر کرنے والے اس حدیث کے مصداق ہوں گے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ لاَ يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَرِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلٰكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّی إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمَا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوْسًا جُهَّالاً، فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَ أَضَلُّوْا] [بخاری، العلم، باب کیف یقبض العلم: ۱۰۰] ”اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح قبض نہیں کرے گا کہ اسے علماء کے سینے سے نکال لے، بلکہ علم کو علماء کے فوت کر لینے کے ساتھ قبض کرے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہل سردار بنا لیں گے، پھر ان سے سوال کیے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر فتویٰ دیں گے، سو خود گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو گمراہ کریں گے۔“ اس حدیث سے تک بندی اور اٹکل پچو سے تعبیر بتانے والے اپنا انجام سوچ لیں۔
➌ معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ کو اپنے درباریوں سے امید نہ تھی کہ وہ اس خواب کی تعبیر کر سکیں گے، اسی لیے کہا: ”اگر تم خواب کی تعبیر کیا کرتے ہو۔“
➋ { يٰۤاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ …:} اس سے معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر بھی فتویٰ کا حکم رکھتی ہے، جس طرح فتویٰ علم کے بغیر جائز نہیں، خواب کی تعبیر کا بھی اگر فی الواقع علم ہو تو بتانی چاہیے، ورنہ علم کے بغیر تعبیر کرنے والے اس حدیث کے مصداق ہوں گے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ لاَ يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَرِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلٰكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّی إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمَا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوْسًا جُهَّالاً، فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَ أَضَلُّوْا] [بخاری، العلم، باب کیف یقبض العلم: ۱۰۰] ”اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح قبض نہیں کرے گا کہ اسے علماء کے سینے سے نکال لے، بلکہ علم کو علماء کے فوت کر لینے کے ساتھ قبض کرے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہل سردار بنا لیں گے، پھر ان سے سوال کیے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر فتویٰ دیں گے، سو خود گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو گمراہ کریں گے۔“ اس حدیث سے تک بندی اور اٹکل پچو سے تعبیر بتانے والے اپنا انجام سوچ لیں۔
➌ معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ کو اپنے درباریوں سے امید نہ تھی کہ وہ اس خواب کی تعبیر کر سکیں گے، اسی لیے کہا: ”اگر تم خواب کی تعبیر کیا کرتے ہو۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
43۔ (ایک دن) بادشاہ نے (اپنے درباریوں سے) کہا: میں نے خواب دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور اناج کی سات [43] بالیں ہری ہیں اور دوسری سات سوکھی ہیں (اے اہل دربار)! اگر تم خواب کی تعبیر بتلا سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ
[43] شاہ مصر کا خواب:۔
طویل مدت کے بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس رہا ہونے والے ساقی کو سیدنا یوسفؑ کا پیغام یاد دلایا۔ واقعہ یہ ہوا کہ شاہ مصر کو ایک عجیب اور ڈراؤنا سا خواب آیا۔ خواب میں اس نے دیکھا کہ سات دبلی گائیں ہیں جو اپنے سے بہت بھاری سات موٹی تازی گایوں کا گوشت کھا رہی ہیں اور گوشت کھا کر انھیں ختم ہی کر دیا ہے اور یہ سارا گوشت چٹ کر جانے کے بعد بھی وہ دبلی کی دبلی ہی ہیں۔ جیسے پہلے تھیں اور دوسرا منظر یہ دیکھا ہے کہ سات سوکھی بالیاں ہیں جو سات ہری بھری اور سرسبز بالیوں کے اوپر لپٹ گئی ہیں اور انھیں بھی سوکھا بنا دیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف علیہ السلام تک رسائی ٭٭
قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ یوسف علیہ السلام قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی براءت اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہو گیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو یوسف علیہ السلام یاد آ گئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو یوسف علیہ السلام کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے یوسف علیہ السلام نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آ گیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق علیہ السلام جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔
یعنی بھول جانے کے بعد اسے یوسف علیہ السلام کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی علیہ السلام سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف علیہ السلام بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ علیہ السلام مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کر لیں۔ آپ علیہ السلام نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتا دی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہو گی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کر لینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔
نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہو گی۔ یہی مراد سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہو گی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہو گی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہو گا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہو جائے گی اور تنگی دور ہو جائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہو جائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔