ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 26

قَالَ ہِیَ رَاوَدَتۡنِیۡ عَنۡ نَّفۡسِیۡ وَ شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتۡ وَ ہُوَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۲۶﴾
اس (یوسف)نے کہا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے اور اس عورت کے گھر والوں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر اس کی قمیص آگے سے پھاڑی گئی ہو تو عورت نے سچ کہا اور یہ جھوٹوں سے ہے۔ En
یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا
En
یوسف نے کہا یہ عورت ہی مجھے پھسلا رہی تھی، اور عورت کے قبیلے ہی کے ایک شخص نے گواہی دی کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہو تو عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26 تا 28) ➊ {قَالَ هِيَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ:} یوسف علیہ السلام اب تک خاموش تھے اور انھوں نے خاموش ہی رہنا تھا، کیونکہ اللہ کے بندوں کی صفت پردہ پوشی ہے، مگر تہمت کے بعد خاموش رہنے کا مطلب اس الزام کو قبول کرنا تھا، اس لیے یوسف علیہ السلام نے اپنی صفائی پیش کرنا ضروری سمجھا، فرمایا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے۔
➋ {وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا …:} عزیز مصر اور گھر کے خصوصی افراد دونوں کی بات سن کر پس و پیش میں پڑ گئے کہ کسے سچا کہیں اور کسے جھوٹا؟ کیونکہ وقوعہ کے وقت کوئی شخص پاس موجود ہی نہ تھا۔ ایسے وقت میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ موقع دیکھ کر قرائن سے فیصلہ کیا جائے، اسے قرینے کی شہادت بھی کہتے ہیں۔ دیکھا گیا تو عورت کے جسم یا لباس پر دست درازی کا کوئی نشان نہ تھا۔ ہاں، یہ بات سب کو معلوم ہو چکی تھی کہ یوسف کی قمیص پھٹی ہے۔ عزیز مصر کی بیوی کے گھر والوں میں سے ایک سمجھ دار آدمی نے فیصلہ کیا (یہاں شہادت کا لفظ قرینے پر فیصلہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے) کہ قمیص کو دیکھ کر فیصلہ کر لو۔ ظاہر ہے کہ اس آدمی نے ابھی تک قمیص دیکھی نہ تھی، ورنہ وہ یہ نہ کہتا کہ قمیص دیکھو کدھر سے پھٹی ہے، بلکہ اس نے ایک مسلمہ قاعدے کے طور پر یہ فیصلہ دیا۔ جب عزیز مصر نے قمیص دیکھی کہ پیچھے سے پھٹی ہے تو ساری بات اس کی سمجھ میں آ گئی اور پھر صرف اپنی بیوی ہی نہیں سب عورتوں کے متعلق کہہ دیا کہ یقینا یہ تمھارے فریب میں سے ایک فریب ہے، یقینا تم عورتوں کا فریب بہت بڑا ہے۔ یہ شاہد کون تھا؟ مستدرک حاکم اور بعض دوسری کتب میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ وہ ان چار بچوں میں سے ایک تھا جنھوں نے گود میں کلام کیا۔ اس حدیث کو بہت سے اصحاب نے صحیح یا حسن کہا ہے، مگر بہت سے اصحاب نے ضعیف بھی کہا ہے۔ جن میں سے شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ سرفہرست ہیں۔ دیکھیے: [سلسلة الأحاديث الضعيفة 271/2، ح: ۸۸۰] پوری بحث وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی الجواب الکافی میں اسے ضعیف کہا ہے۔ میری دانست میں یہی بات درست ہے کہ وہ ایک سمجھ دار آدمی تھا، کیونکہ (1) خود ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ثقہ راویوں کے ساتھ تفسیر طبری میں ہے کہ وہ شاہد داڑھی والا مرد تھا۔ اگر ابن عباس رضی اللہ عنھما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہوتا تو وہ کبھی اس کے خلاف نہ فرماتے، جب کہ ان کا یہ قول صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے۔ (2) اگر دودھ پیتے بچے نے گواہی دی تھی تو یہ معجزہ خود اکیلا ہی یوسف علیہ السلام کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے کافی تھا، اس بچے کو عزیز مصر کی بیوی کا رشتہ دار بتائے جانے کی اور قمیص آگے یا پیچھے سے پھٹی ہونے کی پڑتال کی ضرورت ہی نہ تھی۔ ہمارے بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اگرچہ اس بچے کا بول اٹھنا ہی بہت بڑا تھا، جس نے کلام کرنا سیکھا ہی نہیں، مگر قرآن نے اس پر اکتفا نہیں کیا، کیونکہ قرآن بنیادی طور پر دلیل یا تحقیق اور جستجو کو معیار ماننا یا منوانا چاہتا ہے۔ وہ نری تقدیس پر نہیں، تحقیق پر بنیاد رکھتا ہے۔ چنانچہ بچے نے دلیل اور مشاہدہ کو فیصلے کی بنیاد قرار دیا اور کہا: (قمیص) دیکھ لو…۔ اگر یہ بات درست مانی جائے تو پھر مریم علیھا السلام کی پاک بازی کے ثبوت کے لیے بچے کے معجزۂ کلام کے سوا تحقیق کی کیا بنیاد تھی؟ اور صحیح بخاری میں مذکور جریج پر جس بچے کا باپ ہونے کا الزام لگا تھا، وہاں صرف اس بچے کے بولنے کے سوا تحقیق کی بنیاد کیا تھی؟ دونوں جگہ بچے کا بولنا ہی کافی دلیل تھا۔
➌ یہاں بعض لوگ عورتوں کی مذمت کے طور پر عجیب صغریٰ کبریٰ ملاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عورتوں کا مکر و فریب شیطان کے مکر وفریب سے بھی بڑا ہے، دلیل یہ کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے کید (مکر) کو عظیم قرار دیا، جب کہ شیطان کے کید کے متعلق فرمایا: «{ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا [النساء: ۷۶] بے شک شیطان کی چال (کید) ہمیشہ نہایت کمزور رہی ہے۔ حالانکہ یہاں سورۂ یوسف میں یہ عزیز مصر کا قول نقل ہوا ہے اور اس نے بھی اپنی بیوی کا جرم ہلکا کرنے کے لیے تمام عورتوں کو اس میں لپیٹ لیا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے نقل کرکے اس پر رد نہیں فرمایا، مگر یہ قرآن کا طریقہ نہیں کہ بات سننے والے کی سمجھ میں آ رہی ہو کہ کون کہہ رہا ہے اور کیوں کہہ رہا ہے تو اس کا رد ضرور ہی کرے۔ پھر دیکھیے حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کا کید (مکر) مردوں کے مقابلے میں عظیم ہے، جب کہ شیطان کا (مکر) اللہ تعالیٰ اور اس کی راہ میں لڑنے والوں کے مقابلے میں ضعیف ہے۔ یہاں قوت و ضعف کے فریق ہی الگ الگ ہیں۔ البتہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کے فتنے سے ہوشیار رہنے کی تاکید صحیح احادیث سے ثابت ہے، اسامہ بن زید رضی اللہ عنھما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا تَرَكْتُ بَعْدِيْ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ] [بخاری، النکاح، باب ما یتقي من شؤم المرأۃ…: ۵۰۹۶] میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے بڑا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِيْنٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ يَامَعْشَرَ النِّسَاءِ!] [بخاری، الزکوٰۃ، باب الزکاۃ علی الأقارب: ۱۴۶۲] میں نے عقل اور دین کی ناقص شخصیات میں سے کسی کو تمھاری کسی ایک سے زیادہ ہوشیار آدمی کی عقل کو لے جانے والا نہیں دیکھا، اے عورتو کی جماعت! اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایرانیوں کے اپنے بادشاہ کی بیٹی کو بادشاہ مقرر کرنے پر فرمایا: [لَنْ يُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً] [بخاري، المغازي، باب كتاب النبي صلي الله عليه وسلم إليٰ كسرٰي و قيصر: 4425] وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جنھوں نے اپنا امر (سلطنت) کسی عورت کے حوالے کر دیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

26۔ 1 حضرت یوسف ؑ نے جب دیکھا کہ وہ عورت تمام الزام ان پر ہی دھر رہی ہے صورت حال واضح کردی اور کہا کہ مجھے برائی پر مجبور کرنے والی یہی ہے۔ میں اس سے بچنے کے لئے باہر دروازے کی طرف بھاگتا ہوا آیا ہوں۔ 26۔ 2 یہ انہی کے خاندان کا کوئی سمجھدار آدمی تھا جس نے یہ فیصلہ کیا۔ فیصلے کو یہاں شہادت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا، کیونکہ معاملہ ابھی تحقیق طلب تھا۔ شیر خوار بچے کی شہادت والی بات مستند روایات سے ثابت نہیں۔ صحیحین میں تین شیر خوار بچوں کے بات کرنے کی حدیث ہے جن میں یہ چوتھا نہیں ہے جس کا ذکر اس مقام پر کیا جاتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ یوسف نے کہا: (بات یوں نہیں بلکہ) اس نے مجھے اپنی طرف ورغلانا چاہا تھا اور اس (زلیخا) کے خاندان میں سے ایک گواہ نے (قرائن کی بنا پر) شہادت دیتے ہوئے کہا: اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی تو عورت سچی اور یوسف جھوٹا ہے
آیت 26 کی تفسیر اگلی آیت کے ساتھ ملاحظہ کیجئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی ٭٭
حضرت یوسف علیہ السلام اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ علیہ السلام کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آ گیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے یوسف علیہ السلام پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہو گئے لیکن آپ علیہ السلام نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیئے؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہو سکتی۔ اب جب کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کر دینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھی، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔
اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصوروار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آ گیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں بچپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے یوسف صدیق علیہ السلام کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔[تفسیر ابن جریر الطبری:19118:صحیح مرفوعاً صحیح موقوفاً]‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہٰ کے لڑکے نے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے گواہ نے۔ حضرت جریج کے صاحب نے اور عیسٰی بن مریم علیہ السلام نے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو یوسف علیہ السلام کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہو گیا کہ یوسف علیہ السلام سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق علیہ السلام پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔
پھر یوسف علیہ السلام سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئیے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کر دی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔