ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 2

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲﴾
بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تا کہ تم سمجھو۔ En
ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو
En
یقیناً ہم نے اس کو قرآن عربی نازل فرمایا ہے کہ تم سمجھ سکو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2) ➊ {اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا …: اَنْزَلْنٰهُ } میں { هٗ } ضمیر { الْكِتٰبِ } کی طرف جا رہی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کتاب صرف اہل عرب کے لیے ہے، دوسروں کے لیے نازل نہیں کی گئی ہے۔ بات یہ ہے کہ تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے جو کتاب اتاری جائے گی وہ کسی ایک ہی انسانی زبان میں ہو گی اور فطری طریقہ یہ ہے کہ یا تو اس کتاب کی زبان سیکھی جائے یا اس کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے، چنانچہ یہی طریقہ قرآن کے بارے میں ملحوظ رکھا گیا۔ اس لیے عربوں سے، جو اس کے اولین مخاطب ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمھاری اپنی زبان میں نازل کی ہے، کسی اور زبان میں نہیں اتاری کہ تم اسے ٹھیک طرح سے سمجھ نہ سکنے کا عذر پیش کر سکو۔ یہ کتاب عربی قرآن ہے، قرآن کا معنی پڑھنا ہے، بمعنی اسم مفعول، یعنی یہ ایسی کتاب ہے جو اتنی پڑھی جانے والی ہے کہ سراسر اس کا وجود ہی پڑھا جانا ہے۔ اس میں عقل والوں کے لیے عبرت کا بڑا سامان ہے۔
➋ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «{ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ اس لیے کہ لغت عرب تمام زبانوں سے زیادہ فصیح، سب سے واضح اور وسیع ہے، انسانی نفس میں آنے والے احساسات و جذبات اور مضامین و معانی کو سب سے زیادہ اور بہتر ادا کرنے والی ہے، اس لیے یہ تمام کتابوں سے اشرف (زیادہ بلندی اور شرف رکھنے والی) کتاب ہے۔ یہ کتاب تمام زبانوں سے زیادہ باشرف زبان میں، تمام رسولوں سے زیادہ شرف رکھنے والے رسول پر، تمام فرشتوں سے زیادہ شرف رکھنے والے فرشتے کی سفارت کے ذریعے سے اتری اور زمین کے تمام قطعوں اور علاقوں سے زیادہ باشرف علاقے مکہ میں، سال کے سب سے باشرف مہینے رمضان اور اس کے سب سے باشرف وقت لیلۃ القدر میں اتری۔ سو اس کا باشرف ہونا اور سب کتابوں سے اشرف ہونا ہر لحاظ سے کامل ہے۔ مختصر سی تفصیل اس کی یہ ہے کہ کئی زبانوں کے حروف تہجی پچاس(۵۰) سے لے کر اسی(۸۰) تک ہیں، جب کہ عربی زبان کے حروف تہجی کل انتیس(۲۹) ہیں، جنھیں سیکھنا آسان ہے۔ سیکھنے میں نہایت آسان ہونے کے باوجود اپنا مقصد اور دل کی بات ادا کرنے کے لیے اس زبان کی وسعت دنیا کی ہر زبان سے زیادہ ہے، مثلاً اکثر زبانوں میں فعل کے صیغوں میں فاعل مذکر یا مؤنث کے لیے الگ الگ الفاظ نہیں ہیں، مثلاً وہ گیا، وہ گئی، دونوں کے لیے فارسی میں رفت اور انگریزی میں went ہے۔ ان زبانوں میں مذکر و مؤنث کی وضاحت کے لیے الگ الفاظ لانا پڑیں گے، نہ ہی ان زبانوں میں تثنیہ اور جمع کی وضاحت فعل کے لفظ سے ہوتی ہے، اس کے لیے بھی الگ الفاظ کی ضرورت ہے۔ غرض عربی زبان کی خوبیاں ایک مستقل مضمون ہے، جس پر اہل علم کی کتابیں موجود ہیں۔
عرب قوم پہاڑوں اور صحراؤں میں رہنے اور ہر وقت تقریباً حالت سفر میں رہنے کی وجہ سے نہایت جفاکش اور خود دار قوم تھی اور وہ ہمیشہ غیروں کی غلامی سے آزاد رہی تھی، اگرچہ ان میں بے شمار خرابیاں اور گمراہیاں موجود تھیں، مثلاً بت پرستی، شرک، ظلم و ستم، باہمی لڑائی، چوری، ڈاکے، جوا، شراب نوشی اور زنا وغیرہ، ان میں عام تھے، اس کے باوجود وہ بہت سی خوبیوں کی حامل بھی تھی، مثلاً غیرت، قبائلی زندگی کی وجہ سے حمیت اور دفاع کا جذبہ، کسی صورت غلامی قبول نہ کرنا، ایفائے عہد، سخاوت، صدق، ان پڑھ ہونے کی وجہ سے کمال درجے کا حافظہ۔ غرض وہ قوم بہت سی خوبیوں کی بھی حامل تھی، اپنی زبان کی خوبی، وسعت اور حسن ادا کی وجہ سے اپنے آپ کو عرب (اپنے مطلب کا واضح اظہار کرنے والے) اور دوسری تمام اقوام کو عجم (گونگے) قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بے شمار مصلحتوں کے ساتھ ساتھ ان خوبیوں کی بنا پر بھی تمام اقوام عالم تک اپنا دین پہنچانے کے لیے عربوں کا انتخاب فرمایا، کیونکہ آخری نبی کا قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ قرآن مجید اپنی دوسری بے شمار خوبیوں کے ساتھ ادائے مطلب کے حسن میں بھی لاجواب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان میں اتارا اور چیلنج کر دیا کہ اس جیسی کتاب لاؤ، پھر دس سورتیں لانے کا اور آخر میں صرف تین آیات کی چھوٹی سی سورت کی مثال پیش کرنے کا چیلنج کیا، جس کا جواب آج تک نہ عرب دے سکے، نہ عجم اور نہ قیامت تک دے سکیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

2۔ 1 آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد، لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی ہے اور یہ مقصد اس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب وہ کتاب اس زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ سکیں، اس لئے ہر آسمانی کتاب اس قومی زبان میں نازل ہوئی، جس قوم کی ہدایت کے لئے اتاری گئی تھی۔ قرآن کریم کے مخاطب اول چونکہ عرب تھے، اس لئے قرآن بھی عربی زبان میں نازل ہوا علاوہ ازیں عربی زبان اپنی فصاحت و بلاغت اور ادائے معانی کے لحاظ سے دنیا کی بہترین زبان ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس اشرف الکتاب (قرآن مجید) کو اشرف اللغات (عربی) میں اشرف الرسل (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اشرف الملائکہ (جبرائیل) کے ذریعے سے نازل فرمایا اور مکہ، جہاں اس کا آغاز ہوا، دنیا کا اشرف ترین مقام ہے اور جس مہینے میں نزول کی ابتدا ہوئی وہ بھی اشرف ترین مہینہ۔ رمضان ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ ہم نے قرآن کو عربی زبان [1] میں اس لئے نازل کیا ہے تاکہ تم اسے سمجھ سکو
[1] قرآن کی عربی زبان اور روایت بالمعنی کی ضرورت:۔
قرآن ساری دنیا کے لیے ہدایت کی کتاب ہے۔ لیکن چونکہ اس کے اولین مخاطب اہل عرب تھے۔ اس لیے ضروری تھا کہ اسے عربی زبان میں نازل کیا جاتا۔ تاکہ پہلے عرب اس کے مطالب کو خوب سمجھیں، پھر دوسرے لوگوں تک ان لوگوں کی زبان میں اسے پہنچائیں۔ اہل عجم عربی زبان سیکھ جائیں اس سے ایک نہایت اہم مسئلہ کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے جو یہ ہے کہ روایت بالمعنی شرعی لحاظ سے قابل اعتبار چیز ہے اور روایت بالمعنی کے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ قرآن کے مطالب کو دوسری زبانوں میں منتقل کیا جا سکتا۔ قرآن کی ایک صفت تو یہ ہے کہ وہ عربی زبان میں ہے اور دوسری یہ کہ وہ اپنے سارے مطالب واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ یعنی ایسے مطالب جن پر انسانی ہدایت کے لیے کسی عمل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن ٭٭
سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کر دینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اسلیئے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی واقعہ بیان فرماتے؟ اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18786:ضعیف و منقطع]‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ ایک زمانے تک قرآن کریم نازل ہوتا گیا اور آپ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے تلاوت فرماتے رہے پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کوئی واقعہ بھی بیان ہو جاتا تو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں پھر کچھ وقت کے بعد کہا کاش کہ آپ کوئی بات بیان فرماتے اس پر یہ آیت «اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ» [39-الزمر: 23]‏‏‏‏ اتری۔ اور بات بیان ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:150/12:حسن]‏‏‏‏ روش کلام کا ایک ہی انداز دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ بات سے اوپر کی اور قرآن سے نیچے کی کوئی چیز ہوتی یعنی واقعہ، اس پر یہ آیتیں اتریں، پھر انہوں نے حدیث کی خواہش کی اس پر «اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ» اتری۔ پس قصے کے ارادے پر بہترین قصہ اور بات کے ارادے پر بہترین بات نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18788:مرسل]‏‏‏‏ اس جگہ جہاں کہ قرآن کریم کی تعریف ہو رہی ہے۔
اور یہ بیان ہے کہ یہ قرآن اور سب کتابوں سے بے نیاز کر دینے والا ہے۔ مناسب ہے کہ ہم مسند احمد کی اس حدیث کو بھی بیان کر دیں جس میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب کو کسی اہل کتاب سے ایک کتاب ہاتھ لگ گئی تھی اسے لے کر آپ حاضر خدمت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور آپ کے سامنے سنانے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضب ناک ہو گئے اور فرمانے لگے اے خطاب کے لڑکے کیا تم اس میں مشغول ہو کر بہک جانا چاہتے ہو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کو نہایت روشن اور واضح طور پر لے کر آیا ہوں۔ تم ان اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو ممکن ہے کہ وہ صحیح جواب دیں اور تم سے جھٹلا دو۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ غلط جواب دیں اور تم اسے سچا سمجھ لو۔ سنو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آج خود موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی سوائے میری تابعداری کے کوئی چارہ نہ تھا۔ [مسند احمد:338/3:ضعیف]‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بنو قریِضہ قبیلہ کے میرے ایک دوست نے تورات میں سے چند جامع باتیں مجھے لکھ دی ہیں۔ تو کیا میں انہیں آپ کو سناؤ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عمر رضی اللہ عنہ کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے؟ اب عمر رضی اللہ عنہما کی نگاہ پڑی تو آپ رضی اللہ عنہما کہنے لگے ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر دل سے رضامند ہیں۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ سے غصہ دور ہوا اور فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ اگر تم میں خود موسیٰ علیہ السلام ہوتے پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع میں لگ جاتے تو تم سب گمراہ ہو جاتے امتوں میں سے میرا حصہ تم ہو اور نبیوں میں سے تمہارا حصہ میں ہوں۔ [مسند احمد:266/4:ضعیف]‏‏‏‏
ابو یعلیٰ میں ہے کہ سوس کا رہنے والا قبیلہ عبدالقیس کا ایک شخص جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا آپ رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا کہ تیرا نام فلاں فلاں ہے؟ اس نے کہا ہاں پوچھا تو سوس میں مقیم ہے؟ اس نے کہا ہاں تو آپ کے ہاتھ میں جو خوشہ تھا اسے مارا۔ اس نے کہا امیر المؤمنین میرا کیا قصور ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا بیٹھ جا۔ میں بتاتا ہوں پھر «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اسی سورت کی «الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَٰذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ» [12-یوسف: 1-3]‏‏‏‏ تک پڑھیں تین مرتبہ ان آیتوں کی تلاوت کی اور تین مرتبہ اسے مارا۔ اس نے پھر پوچھا کہ امیر المؤمنین میرا قصور کیا ہے آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تو نے دانیال کی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس نے کہا پھر جو آپ فرمائیں۔ میں کرنے کو تیار ہوں، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا جا اور گرم پانی اور سفید روئی سے اسے بالکل مٹا دے۔ خبردار آج کے بعد سے اسے خود پڑھنا نہ کسی اور کو پڑھانا۔ اب اگر میں اس کے خلاف سنا کہ تو نے خود اسے پڑھا یا کسی کو پڑھایا تو ایسی سخت سزا کروں گا کہ عبرت بنے۔
پھر فرمایا بیٹھ جا، ایک بات سنتا جا۔ میں نے جا کر اہل کتاب کی ایک کتاب لکھی پھر اسے چمڑے میں لیے ہوئے حضور علیہ السلام کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے؟ میں نے کہا ایک کتاب ہے کہ ہم علم میں بڑھ جائیں۔ اس پر آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ غصے کی وجہ سے آپ کے رخسار پر سرخی نمودار ہو گئی پھر منادی کی گئی کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔ اسی وقت انصار نے ہتھیار نکال لیے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر دیا ہے اور منبرنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف وہ لوگ ہتھیار بند بیٹھ گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! میں جامع کلمات دیا گیا ہوں اور کلمات کے خاتم دیا گیا ہوں اور پھر میرے لیے بہت ہی اختصار کیا گیا ہے میں اللہ کے دین کی باتیں بہت سفید اور نمایاں لایا ہوں۔ خبردار تم بہک نہ جانا۔
گہرائی میں اترنے والے کہیں تمہیں بہکا نہ دیں۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میں تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر دل سے راضی ہوں۔ اب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے۔[الضیاء المقدسی فی المختارۃ:24/1:ضعیف]‏‏‏‏ اس کے ایک روای عبدالرحمٰن بن اسحاق کو محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ امام بخاری ان کی حدیث کو صحیح نہیں لکھتے۔ میں کہتا ہوں اس کا ایک شاہد اور سند حافظ ابوبکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی لائے ہیں کہ خلافت فاروقی کے زمانے میں آپ نے محصن کے چند آدمی بلائے ان میں دو شخص وہ تھے جنہوں نے یہودیوں سے چند باتیں منتخب کر کے لکھ لی تھیں۔ وہ اس مجموعے کو بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کر لیں اگر آپ نے اجازت دی تو ہم اس میں اسی جیسی اور باتیں بھی بڑھا لیں گے ورنہ اسے بھی پھینک دیں گے۔ یہاں آ کر انہوں نے کہا کہ امیر المؤمنین یہودیوں سے ہم بعض ایسی باتیں سنتے ہیں کہ جن سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں تو کیا وہ باتیں ان سے لے لیں یا بالکل ہی نہ لیں؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا شاید تم نے ان کی کچھ باتیں لکھ رکھیں ہیں؟ سنو میں اس میں فیصلہ کن واقعہ سناؤ۔
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خیبر گیا۔ وہاں کے ایک یہودی کی باتیں مجھے بہت پسند آئیں۔
میں نے اس سے درخواست کی اور اس نے وہ باتیں مجھے لکھ دیں۔ میں نے واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ وہ لے کر آؤ میں خوشی خوشی چلا گیا شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا یہ کام پسند آ گیا۔ لا کر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اب جو ذرا سی دیر کے بعد میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو سخت ناراض ہیں۔ میری زبان سے تو ایک حرف بھی نہ نکلا اور مارے خوف کے میر رُوّاں رُوّاں کھڑا ہو گیا۔ میری یہ حالت دیکھ کر اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تحریروں کو اٹھا لیا اور ان کا ایک ایک حرف مٹانا شروع کیا اور زبان مبارک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے کہ دیکھو خبردار ان کی نہ ماننا۔ یہ تو گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں اور یہ تو دوسروں کو بھی بہکا رہے ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس ساری تحریر کا ایک حرف بھی باقی نہ رکھا۔ یہ سنا کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم نے بھی ان کی باتیں لکھی ہوئی ہوتیں تو میں تمہیں ایسی سزا کرتا جو اوروں کے لیے عبرت ہو جائے۔ انہوں نے کہا واللہ ہم ہرگز ایک حرف بھی نہ لکھیں گے۔ باہر آتے ہی جنگل میں جا کر انہوں نے اپنی وہ تختیاں گڑھا کھود کر دفن کر دیں۔ [مراسیل ابی داؤد:455:ضعیف]‏‏‏‏ مراسیل ابی داؤد میں بھی عمر رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔