وَ جَآءُوۡۤ اَبَاہُمۡ عِشَآءً یَّبۡکُوۡنَ ؕ﴿۱۶﴾
اور وہ اپنے باپ کے پاس اندھیرا پڑے روتے ہوئے آئے۔
En
(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے
En
اور عشا کے وقت (وه سب) اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے پہنچے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 16) ➊ {وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً: } اتنا بڑا ظلم کرنے کے بعد انھیں دن کی روشنی میں باپ کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہوئی، کیونکہ دن کے وقت چہرے کے اثرات، جسم کا اضطراب اور زبان کا لڑکھڑانا ہی سب کچھ ظاہر کر دیتا ہے۔ اس لیے وہ عشاء کے وقت باپ کے پاس آئے۔ اکثر جرائم کے وقوع اور انھیں چھپانے کا ذریعہ رات کا اندھیرا ہی بنتا ہے، اس لیے ہم سب کو حکم ہوا کہ کہو: «{ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ }» [الفلق: ۳] ”اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے (پناہ مانگتا ہوں)۔“
➋ { يَبْكُوْنَ:} ”روتے ہوئے“ معلوم ہوا ہر رونے والا سچا نہیں ہوتا۔ میں نے ایک عالم کا قول پڑھا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے رونے کے بعد سے ہمارا اعتبار رونے والوں سے اٹھ گیا ہے، اللہ جانے کون سچا رو رہا ہے اور کون جھوٹا۔ حسین رضی اللہ عنہ کی بہن زینب رضی اللہ عنھا نے کوفے والوں کو روتے پیٹتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیوں رو رہے ہیں؟ انھیں بتایا گیا کہ یہ لوگ حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر رو رہے ہیں تو وہ بے ساختہ کہنے لگیں کہ یہ لوگ ہم پر رو رہے ہیں تو ہمیں قتل کرنے والے کون ہیں؟ (یعنی کیا وہ کوفہ سے باہر کی کوئی مخلوق تھی؟ یہی تو قتل کرنے والے تھے)۔
➋ { يَبْكُوْنَ:} ”روتے ہوئے“ معلوم ہوا ہر رونے والا سچا نہیں ہوتا۔ میں نے ایک عالم کا قول پڑھا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے رونے کے بعد سے ہمارا اعتبار رونے والوں سے اٹھ گیا ہے، اللہ جانے کون سچا رو رہا ہے اور کون جھوٹا۔ حسین رضی اللہ عنہ کی بہن زینب رضی اللہ عنھا نے کوفے والوں کو روتے پیٹتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیوں رو رہے ہیں؟ انھیں بتایا گیا کہ یہ لوگ حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر رو رہے ہیں تو وہ بے ساختہ کہنے لگیں کہ یہ لوگ ہم پر رو رہے ہیں تو ہمیں قتل کرنے والے کون ہیں؟ (یعنی کیا وہ کوفہ سے باہر کی کوئی مخلوق تھی؟ یہی تو قتل کرنے والے تھے)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ اور وہ رات کو روتے، پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بھائیوں کی واپسی اور معذرت ٭٭
چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف علیہ السلام کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آ گیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقاً ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے یوسف کا پیراہن داغدار کر دیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔
لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی علیہ السلام نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو جائے گا۔ سیدنا ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف علیہ السلام کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہو گیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اس موقعہ پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال یوسف علیہ السلام کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔[صحیح بخاری:2661]
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اس موقعہ پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال یوسف علیہ السلام کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔[صحیح بخاری:2661]