فَلَمَّا ذَہَبُوۡا بِہٖ وَ اَجۡمَعُوۡۤا اَنۡ یَّجۡعَلُوۡہُ فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ ۚ وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ لَتُنَبِّئَنَّہُمۡ بِاَمۡرِہِمۡ ہٰذَا وَ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵﴾
پھر جب وہ اسے لے گئے اور انھوں نے طے کرلیا کہ اسے ایک اندھے کنویں کی گہرائی میں ڈال دیں اور ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ تو ضرور ہی انھیں ان کے اس کام کی خبر دے گا، اس حال میں کہ وہ سوچتے نہ ہوں گے۔
En
غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی
En
پھر جب اسے لے چلے اور سب نے مل کر ٹھان لیا کہ اسے غیر آباد گہرے کنوئیں کی تہ میں پھینک دیں، ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ یقیناً (وقت آرہا ہے کہ) تو انہیں اس ماجرا کی خبر اس حال میں دے گا کہ وه جانتے ہی نہ ہوں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 15) ➊ {فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ …:” اَجْمَعُوْۤا “} باب افعال ہے، کسی کام کا مصمم عزم کر لینا، یعنی آخر وہ باپ کے کسی عذر کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کے خاموش ہونے پر اسے اپنے ساتھ لے ہی گئے۔ اب یہاں قرآن کریم کا کمال اعجاز دیکھیے، فرمایا: ”پھر جب وہ اسے لے گئے اور طے کر لیا کہ اسے کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں پھینک دیں“ تو پھر کیا ہوا؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ذکر ہی نہیں فرمایا، تاکہ سننے والے خود ہی سمجھ لیں کہ قتل تک کا منصوبہ بنانے والے ان دس شیر جوانوں نے یوسف علیہ السلام کے ساتھ کنویں میں پھینکنے کے وقت اور اس سے پہلے کیا سلوک کیا ہو گا۔ قرآن اشارہ کرتا ہے، پھر سمجھنے والے پر چھوڑ دیتا ہے اور کچھ اس لیے بھی کہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ ان کا سلوک تصور میں تو آسکتا ہے، اسے الفاظ کا جامہ پہنانا مشکل ہے، یا پھر بات اتنی لمبی ہو جائے گی جو قرآن کا طریقہ نہیں۔ مفسر آلوسی نے فرمایا: ”انھیں کنویں میں پھینکنے کی کیفیت اور اس وقت یوسف علیہ السلام نے بھائیوں سے جو کچھ کہا اور جو کچھ انھوں نے اس سے کہا، اس کے متعلق کتبِ تفسیر میں بہت سی روایات ہیں جنھیں سن کر پتھر بھی پانی ہو جاتا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کی سند پر اعتماد ہو سکتا ہو۔“ کیونکہ ان مفسرین میں سے کوئی چشم دید بیان کرنے والا ہے ہی نہیں اور وہ عالم الغیب جو سب کچھ دیکھ رہا تھا اس نے یہ بات ہمارے خود سوچنے کے لیے بلا تفصیل چھوڑ دی ہے۔
➋ {وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِ …:} یعنی اس مشکل وقت میں یوسف علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعے تسلی دی گئی کہ ایک ایسا وقت ہر صورت آئے گا جب تم ان بھائیوں کو ان کا یہ کام بتاؤ گے، جب کہ طویل مدت اور آج اور اس وقت کے حالات کے فرق کی وجہ سے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ہم اسی بھائی سے پورا غلہ دینے اور صدقہ کرنے کی درخواست کر رہے ہیں جسے ہم کنویں میں پھینک کر اس سے فارغ ہو چکے تھے۔ یہاں {” لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا “} (تو ضرور ہی انھیں ان کے اس کام کی خبر دے گا) میں ”ان کے اس کام“ کے الفاظ میں بھی ان کے یوسف علیہ السلام کے ساتھ سلوک کی لمبی و دلخراش داستان دو تین لفظوں میں سمٹی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
➌ کچھ لوگ یعقوب علیہ السلام کے ان الفاظ سے کہ ”میں ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا جائے گا“ ان کے لیے علمِ غیب ثابت کرتے ہیں، مگر چند میل کے فاصلے پر کنویں میں یوسف علیہ السلام پر گزرنے والی حالت، ان کی غلامی، عفت کی آزمائش، قید خانے کے سال، بادشاہ کے خواب کا قید سے نکلنے کا ذریعہ بننا، خوش حالی اور قحط کے سال، قید سے نکل کر قرب شاہی اور وزارتِ خزانہ کا حصول، یہ سب کچھ یعقوب علیہ السلام کو کیوں معلوم نہ ہو سکا؟ آنکھیں غم سے سفید کیوں ہو گئیں؟ کیا علم غیب یہی ہوتا ہے؟ ہا ں، پیغمبروں کو اللہ تعالیٰ جتنی بات وحی کے ذریعے سے بتاتا ہے وہ انھیں معلوم ہو جاتی ہے، جیسے بشارت دینے والے کے مصر سے قمیص لے کر چلنے کے ساتھ ہی انھیں یوسف علیہ السلام کی خوشبو آنے لگی اور قمیص آنکھوں پر ڈالنے سے بینائی واپس آ گئی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ یہ نہ یوسف علیہ السلام کے بس کی بات تھی اور نہ ان کے والد ماجد یعقوب علیہ السلام کے بس کی۔ اللہ تعالیٰ جتنی بات بتا دے وہ معلوم، باقی کی خبر نہیں، ایسا شخص عالم الغیب نہیں ہوتا، ورنہ غیب کی کئی باتیں ہمیں بھی رسول کے بتانے سے معلوم ہیں، تو کیا ہم بھی عالم الغیب ہو گئے؟ نہیں، آسمان و زمین میں عالم الغیب صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے، جیسے فرمایا: «{ قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ }» [النمل: ۶۵] ”کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا۔“
➋ {وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِ …:} یعنی اس مشکل وقت میں یوسف علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعے تسلی دی گئی کہ ایک ایسا وقت ہر صورت آئے گا جب تم ان بھائیوں کو ان کا یہ کام بتاؤ گے، جب کہ طویل مدت اور آج اور اس وقت کے حالات کے فرق کی وجہ سے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ہم اسی بھائی سے پورا غلہ دینے اور صدقہ کرنے کی درخواست کر رہے ہیں جسے ہم کنویں میں پھینک کر اس سے فارغ ہو چکے تھے۔ یہاں {” لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا “} (تو ضرور ہی انھیں ان کے اس کام کی خبر دے گا) میں ”ان کے اس کام“ کے الفاظ میں بھی ان کے یوسف علیہ السلام کے ساتھ سلوک کی لمبی و دلخراش داستان دو تین لفظوں میں سمٹی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
➌ کچھ لوگ یعقوب علیہ السلام کے ان الفاظ سے کہ ”میں ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا جائے گا“ ان کے لیے علمِ غیب ثابت کرتے ہیں، مگر چند میل کے فاصلے پر کنویں میں یوسف علیہ السلام پر گزرنے والی حالت، ان کی غلامی، عفت کی آزمائش، قید خانے کے سال، بادشاہ کے خواب کا قید سے نکلنے کا ذریعہ بننا، خوش حالی اور قحط کے سال، قید سے نکل کر قرب شاہی اور وزارتِ خزانہ کا حصول، یہ سب کچھ یعقوب علیہ السلام کو کیوں معلوم نہ ہو سکا؟ آنکھیں غم سے سفید کیوں ہو گئیں؟ کیا علم غیب یہی ہوتا ہے؟ ہا ں، پیغمبروں کو اللہ تعالیٰ جتنی بات وحی کے ذریعے سے بتاتا ہے وہ انھیں معلوم ہو جاتی ہے، جیسے بشارت دینے والے کے مصر سے قمیص لے کر چلنے کے ساتھ ہی انھیں یوسف علیہ السلام کی خوشبو آنے لگی اور قمیص آنکھوں پر ڈالنے سے بینائی واپس آ گئی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ یہ نہ یوسف علیہ السلام کے بس کی بات تھی اور نہ ان کے والد ماجد یعقوب علیہ السلام کے بس کی۔ اللہ تعالیٰ جتنی بات بتا دے وہ معلوم، باقی کی خبر نہیں، ایسا شخص عالم الغیب نہیں ہوتا، ورنہ غیب کی کئی باتیں ہمیں بھی رسول کے بتانے سے معلوم ہیں، تو کیا ہم بھی عالم الغیب ہو گئے؟ نہیں، آسمان و زمین میں عالم الغیب صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے، جیسے فرمایا: «{ قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ }» [النمل: ۶۵] ”کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 قرآن کریم نہایت اختصار کے ساتھ واقعہ بیان کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق انہوں نے یوسف ؑ کو کنویں میں پھینک دیا، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کی تسلی اور حوصلے کے لئے وحی کی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہم تیری حفاظت ہی نہیں کریں گے بلکہ ایسے بلند مقام پر تجھے فائز کریں گے کہ یہ بھائی بھیک مانگتے ہوئے تیری خدمت میں حاضر ہونگے اور پھر تو انھیں بتائے گا کہ تم نے اپنے ایک بھائی کے ساتھ اس طرح سنگ دلانہ معاملہ کیا تھا، جسے سن کر وہ حیران اور پشیمان ہوجائیں گے۔ حضرت یوسف علیہ الاسلام اس وقت اگرچہ بچے تھے، لیکن جو بچے، نبوت پر سرفراز ہونے والے ہوں، ان پر بچپن میں بھی وحی آجاتی ہے جیسے حضرت عیسیٰ و یحیٰی وغیرہ (علیہم السلام) پر آئی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ چنانچہ جب وہ یوسف [13] کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کر لیا کہ اسے کسی گمنام کنوئیں میں ڈال دیں، اس وقت ہم نے یوسف کو وحی کی کہ (ایک وقت آئے گا) جب تم اپنے بھائیوں کو ان کی یہ حرکت جتلاؤ گے درآنحالیکہ وہ تمہارے متعلق کچھ نہ جانتے ہوں گے
[13] چنانچہ یہ برادران یوسف اپنے باپ کو چکمہ دینے اور اپنا اعتماد جمانے میں کامیاب ہو گئے اور باپ نے ان پر اعتبار کرتے ہوئے سیدنا یوسفؑ کو دوسرے دن ان کے ہمراہ کر دیا۔ یہ بہت بڑا مرحلہ تھا جو سرانجام پا گیا۔ پھر جب وہ اپنی اتفاق سے طے شدہ تجویز کے مطابق اسے ایک گمنام کنویں میں پھینکنے لگے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یوسفؑ کو صبر عطا فرمایا اور ان کے دل میں بات ڈال دی کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے بھائیوں کو ان کے یہ کرتوت جتلاؤ گے۔ درآنحالیکہ وہ تمہیں پہچانتے بھی نہ ہوں گے اور اس نہ پہچاننے کی بھی دو وجوہ ممکن ہیں ایک یہ کہ یوسف کسی اتنے بلند مرتبہ پر فائز ہوں کہ برادران یوسف کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ آسکے کہ ان کا بھائی اس مقام پر سرفراز ہو سکتا ہے اور اس کا لباس و طرز بود و باش ان سے اس قدر مختلف اور مغائر ہو سکتی ہے، اور دوسرے یہ کہ اتنا طویل عرصہ گزر چکا ہو کہ شکل میں تبدیلی کی وجہ سے وہ انھیں پہچان بھی نہ سکیں۔ واضح رہے ﴿غَيٰبَتِ الجُبِّ﴾ کا مفہوم کسی کچے کنویں میں پانی کی سطح سے ذرا اوپر وہ چھوٹے چھوٹے طاقچے ہیں جن میں پاؤں جمائے جا سکیں اور چھوٹی موٹی چیز بھی رکھی جا سکے تاکہ کنویں کی صفائی وغیرہ کے لیے کنوئیں میں اترنے اس سے نکلنے میں سہولت رہے۔ اسی طرح کے ایک چھوٹے سے طاقچے میں برادران یوسف سیدنا یوسفؑ کو رکھ کر واپس آگئے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بھائی اپنے منصوبہ میں کامیاب ہو گئے ٭٭
سمجھا بجھا کر بھائیوں نے باپ کو راضی کر ہی لیا۔ اور یوسف علیہ السلام کو لے کر چلے جنگل میں جا کر سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوسف علیہ السلام کو کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں ڈال دیں۔ حالانکہ باپ سے یہ کہہ کر لے گئے تھے کہ اس کا جی بہلے گا، ہم اسے عزت کے ساتھ لے جائیں گے۔ ہر طرح خوش رکھیں گے۔ اس کا جی بہل جائے گا اور یہ راضی خوشی رہے گا۔ یہاں آتے ہی غداری شروع کر دی اور لطف یہ ہے کہ سب نے ایک ساتھ دل سخت کر لیا۔ باپ نے ان کی باتوں میں آ کر اپنے لخت جگر کو ان کے سپرد کر دیا۔ جاتے ہوئے سینے سے لگا کر پیار پچکار کر دعائیں دے کر رخصت کیا۔ باپ کی آنکھوں سے ہٹتے ہی ان سب نے بھائی کو ایذائیں دینی شروع کر دیں برا بھلا کہنے لگے اور چانٹا چٹول سے بھی باز نہ رہے۔ مارتے پیٹتے برا بھلا کہتے، اس کنویں کے پاس پہنچے اور ہاتھ پاؤں رسی سے جکڑ کر کنویں میں گرانا چاہا۔ آپ ایک ایک کے دامن سے چمٹتے ہیں اور ایک ایک سے رحم کی درخواست کرتے ہیں لیکن ہر ایک جھڑک دیتا ہے اور دھکا دے کر مار پیٹ کر ہٹا دیتا ہے مایوس ہو گئے سب نے مل کر مضبوط باندھا اور کنویں میں لٹکا دیا آپ علیہ السلام نے کنویں کا کنارا ہاتھ سے تھام لیا لیکن بھائیوں نے انگلیوں پر مار مار کر اسے بھی ہاتھ سے چھڑا لیا۔ آدھی دور آپ پہنچے ہوں گے کہ انہوں نے رسی کاٹ دی۔ آپ علیہ السلام تہ میں جا گرے، کنویں کے درمیان ایک پتھر تھا جس پر آ کر کھڑے ہو گئے۔ عین اس مصیبت کے وقت عین اس سختی اور تنگی کے وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کی جانب وحی کی کہ آپ کا دل مطمئن ہو جائے آپ علیہ السلام صبر و برداشت سے کام لیں اور انجام کا آپ کو علم ہو جائے۔ وحی میں فرمایا گیا کہ غمگین نہ ہو یہ نہ سمجھ کہ یہ مصیبت دور نہ ہو گی۔ سن اللہ تعالیٰ تجھے اس سختی کے بعد آسانی دے گا۔ اس تکلیف کے بعد راحت ملے گی۔ ان بھائیوں پر اللہ تجھے غلبہ دے گا
یہ گو تجھے پست کرنا چاہتے ہیں لیکن اللہ کی چاہت ہے کہ وہ تجھے بلند کرے۔ یہ جو کچھ آج تیرے ساتھ کر رہے ہیں وقت آئے گا کہ تو انہیں ان کے اس کرتوت کو یاد دلائے گا اور یہ ندامت سے سر جھکائے ہوئے ہوں گے اپنے قصور سن رہے ہوں گے۔ اور انہیں یہ بھی معلوم نہ ہو گا کہ تو وہ ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب برادران یوسف، یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچے تو آپ علیہ السلام نے تو انہیں پہچان لیا لیکن یہ نہ پہچان سکے۔ اس وقت آپ علیہ السلام نے ایک پیالہ منگوایا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر اسے انگلی سے ٹھونکا۔ آواز نکلی ہی تھی اس وقت آپ نے فرمایا لو یہ جام تو کچھ کہہ رہا ہے اور تمہارے متعلق ہی کچھ خبر دے رہا ہے۔ یہ کہہ رہا ہے تمھارا ایک یوسف نامی سوتیلا بھائی تھا۔ تم اسے باپ کے پاس سے لے گئے اور اسے کنویں میں پھینک دیا۔ پھر اسے انگلی ماری اور ذرا سی دیر کان لگا کر فرمایا لو یہ کہہ رہا ہے کہ پھر تم اس کے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر باپ کے پاس گئے اور وہاں جا کر ان سے کہہ دیا کہ تیرے لڑکے کو بھیڑیئے نے کھا لیا۔ اب تو یہ حیران ہو گئے آپس میں کہنے لگے ہائے برا ہوا بھانڈا پھوٹ گیا اس جام نے تو تمام سچی سچی باتیں بادشاہ سے کہہ دیں۔ پس یہی ہے جو آپ کو کنویں میں وحی ہوئی کہ ان کے اس کے کرتوت کو تو انہیں ان کے بے شعوری میں جتائے گا۔