ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 111

لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ؕ مَا کَانَ حَدِیۡثًا یُّفۡتَرٰی وَ لٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ تَفۡصِیۡلَ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾٪
بلاشبہ یقینا ان کے بیان میں عقلوں والوں کے لیے ہمیشہ سے ایک عبرت ہے، یہ ہرگز ایسی بات نہیں جو گھڑ لی جائے اور لیکن اس کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے ہے اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔ En
ان کے قصے میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
En
ان کے بیان میں عقل والوں کے لئے یقیناً نصیحت اور عبرت ہے، یہ قرآن جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ یہ تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے کی ہیں، کھول کھول کر بیان کرنے واﻻ ہے ہر چیز کو اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان دار لوگوں کے لئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت111){ لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ …:} یعنی رسولوں اور گزشتہ قوموں خصوصاً یوسف علیہ السلام اور ان سے متعلق تمام لوگوں مثلاً والد، بھائی، قافلے والے، عزیز مصر، اس کی بیوی، زنان مصر، قید کے ساتھی اور شاہِ مصر ان سب کے بیان میں عقل مندوں کے لیے بڑی عبرت ہے، یہ کوئی گھڑی ہوئی کہانیاں نہیں، بلکہ پہلی آسمانی کتابوں کی صحیح باتوں کی تصدیق، ان کی کمی بیشی کو کھول کر بیان کرنے والی، ان کے صحیح مضامین کی محافظ اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

111۔ 1 یعنی قرآن، جس میں قصہ یوسف ؑ اور دیگر قوموں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں کوئی گھڑا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ یہ پچھلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں دین کے بارے میں ساری ضروری باتوں کی تفصیل ہے اور ایمان داروں کے لئے ہدایت و رحمت۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

111۔ ان قصوں میں اہل عقل و خرد کے لئے (کافی سامان) عبرت ہے۔ یہ قرآن کوئی ایسی باتیں نہیں جو گھڑ لی گئی ہوں بلکہ یہ تو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ اس میں ہر بات [105] کی تفصیل موجود ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے یہ ہدایت اور رحمت ہے
[105] قرآن کی تین صفات:۔
قرآن کا موضوع، نوع انسان کی ہدایت ہے۔ لہٰذا جو بات بھی انسان کی ہدایت سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی تفصیل اس کتاب میں آگئی ہے۔ تفصیل ﴿كُلِّ شَئْيٍ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اس میں سے علم طب یا حساب یا جغرافیہ وغیرہ کی تفصیلات تلاش کرنے لگیں۔ نیز یہ کتاب صرف ان لوگوں کو ہدایت کا کام دیتی ہے جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ پھر ان لوگوں کے لیے رحمت بھی ہے۔ بھلا جس شخص کو بلا کسی معاوضہ اور تکلیف کے زندگی کے ہر پہلو میں بہترین رہنمائی مل جائے اس کے لیے اس سے زیادہ نعمت اور رحمت کیا ہو سکتی ہے؟ اور اس میں جو اقوام سابقہ کے اور انبیاء و رسل کے قصے بیان ہوئے ہیں وہ اپنے اندر اہل عقل و خرد کے لیے عبرتوں کے بے شمار پہلو سمیٹے ہوئے ہیں اور یہی چیز اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کسی انسان کی تصنیف کردہ کتاب نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو قرون اولیٰ کے صحیح صحیح واقعات بیان کرنے کے ساتھ ان تاریخی واقعات اور قصوں میں بھی ہدایت اور عبرت کے لیے بے شمار اسباق سمو دیتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عبرت ونصیحت ٭٭
نبیوں کے واقعات، مسلمانوں کی نجات، کافروں کی ہلاکت کے قصے، عقلمندوں کے لیے بڑی عبرت و نصیحت والے ہیں۔ یہ قرآن بناوٹی نہیں بلکہ اگلی آسمانی کتابوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ ان میں جو حقیقی باتیں اللہ کی ہیں ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور جو تحریف و تبدیلی ہوئی ہے اسے چھانٹ دیتا ہے ان کی دو باتیں باقی رکھنے کی ہیں انہیں باقی رکھتا ہے۔ اور جو احکام منسوخ ہو گئے انہیں بیان کرتا ہے۔ ہر ایک حلال و حرام، محبوب و مکروہ کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ طاعات واجبات، مستحبات، محرمات، مکروہات وغیرہ کو بیان فرماتا ہے اجمالی اور تفصیلی خبریں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جل و علا کی صفات بیان فرماتا ہے اور بندوں نے جو غلطیاں اپنے خالق کے بارے میں کی ہیں ان کی اصلاح کرتا ہے۔ مخلوق کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اللہ کی کوئی صفت اس کی مخلوق میں ثابت کریں۔ پس یہ قرآن مومنوں کے لیے ہدایت و رحمت ہے، ان کے دل ضلالت سے ہدایت اور جھوٹ سے سچ اور برائی سے بھلائی کی راہ پاتے ہیں اور رب العباد سے دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کر لیتے ہیں۔ ہماری بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دنیا آخرت میں ایسے ہی مومنوں کا ساتھ دے اور قیامت کے دن جب کہ بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے منہ کالے ہو جائیں گے، ہمیں مومنوں کے ساتھ نورانی چہروں میں شامل رکھے آمین۔ الحمدللہ سورۃ یوسف کی تفسیر ختم ہو گئی۔ اللہ کا شکر ہے وہی تعریفوں کے لائق ہے اور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔