وَ مَا یُؤۡمِنُ اَکۡثَرُہُمۡ بِاللّٰہِ اِلَّا وَ ہُمۡ مُّشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، مگر اس حال میں کہ وہ شریک بنانے والے ہوتے ہیں۔
En
اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں
En
ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت106){وَ مَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ …:} اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ شرک کرنے والوں کی پہلی مثال کفار قریش ہیں جو آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، خود ان مشرکین کو پیدا کرنے والے اور ہر چیز کی مکمل ملکیت رکھنے والے اللہ تعالیٰ کو جانتے اور مانتے تھے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ }» [الزخرف: ۸۷] ”اور یقینا اگر تو ان سے پوچھے کہ انھیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔“ اور فرمایا: «{ وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ }» [لقمان: ۲۵] ”اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔“ اس کے علاوہ دیکھیے سورۂ مومنون (۸۴ تا ۸۹) اور یونس (۳۱ تا ۳۵) اور ساتھ ہی کچھ ہستیوں کو اللہ کے ہاں اپنے سفارشی، اللہ کے قریب کرنے والے اور اپنے کام نکلوانے والے سمجھتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنْفَعُهُمْ وَ يَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ }» [یونس: ۱۸] ”اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔“ اور فرمایا: «{ وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى }» [الزمر: ۳] ”اور وہ لوگ جنھوں نے اس کے سوا اور حمایتی بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں، اچھی طرح قریب کرنا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ مشرکین کہتے تھے: [لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: [وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ] ”تمھاری بربادی ہو، اس سے آگے مت کہنا“ (مگر وہ کہتے) [إِلاَّ شَرِيْكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهٗ وَمَا مَلَكَ، يَقُوْلُوْنَ هٰذَا وَهُمْ يُطُوْفُوْنَ بِالْبَيْتِ] [مسلم، الحج، باب التلبیۃ وصفتھا ووقتھا: ۱۱۸۵] ”مگر ایک شریک جو تیرا ہی ہے، تو ہی اس کا مالک ہے، وہ مالک نہیں۔“ وہ یہ الفاظ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہتے تھے۔“ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، اس طرح بھی وہ اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے تھے۔ جیسا کہ فرمایا: «{ وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًااَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ يُسْـَٔلُوْنَ }» [الزخرف: ۱۹] ”اور انھوں نے فرشتوں کو، وہ جو رحمن کے بندے ہیں، عورتیں بنا دیا، کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے؟ ان کی گواہی ضرور لکھی جائے گی اور وہ پوچھے جائیں گے۔“ مشرکین مکہ اللہ پر ایمان کے ساتھ ہی بزرگوں کے بتوں کی بھی پوجا کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰى (19) وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى (20) اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى (21) تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى (22) اِنْ هِيَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ }» [النجم: ۱۹ تا ۲۳] ”پھر کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔ اور تیسری ایک اور (دیوی) منات کو۔ کیا تمھارے لیے لڑکے ہیں اور اس کے لیے لڑکیاں؟ یہ تو اس وقت ناانصافی کی تقسیم ہے۔ یہ (بت) چند ناموں کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔“ انھوں نے عین کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کی صورتیں رکھی ہوئی تھیں۔ [بخاري، الحج، باب من کبّر في نواحي الکعبۃ: ۱۶۰۱] اہل کتاب بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان کے دعوے دار تھے، اس کے باوجود عُزیر اور مسیح علیھما السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ کبھی کہتے تھے، اللہ تعالیٰ خود ہی مسیح کی شکل میں آ گیا، اصل میں دونوں ایک ہیں: «{ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ }» [المائدۃ: ۷۲] کبھی تین کو ایک کہتے، کبھی اللہ کو تین کا تیسرا کہتے: «{ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ }» [المائدۃ: ۷۳] اپنے احبار و رہبان کو اللہ کے سوا حلال و حرام کرنے کا اختیار رکھنے والے رب سمجھتے: «{ اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ }» [التوبۃ: ۳۱] ان کی قبروں پر مسجدیں بنا کر ان کی پرستش کرتے، فرمان رسول ہے: [لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَی الْيَهُوْدِ وَالنَّصَارٰی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ] [بخاري، المغازی، باب مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ: ۴۴۴۳، ۴۴۴۴] ”اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انھوں نے اپنے انبیاء علیھم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“
افسوس کہ عرصۂ دراز سے اکثر کلمۂ اسلام پڑھنے والوں کا بھی یہی حال ہو گیا ہے، ان میں سے بہت سے لوگ اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں زمین پر اتر آیا ہے۔ بعض اپنے پیر کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے آنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ بعض اپنے بزرگوں کی عبادت کرتے کرتے ان کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ہی ہوجانے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ بے شمار بڑے بڑے نام والے عالموں، پیروں اور ان کے معتقدین نے ہندوؤں کی طرح ہر چیز کو اللہ تعالیٰ قرار دے کر اس کا نام وحدت الوجود رکھ دیا ہے اور اس صریح کفر و شرک کو معرفت کا نام دے رکھا ہے، حالانکہ اس عقیدے سے اسلام کا ہر حکم ہی ختم ہو جاتا ہے اور یہی وہ الحاد اور صریح کفر ہے جس پر اسلام کا نقاب ڈال کر یہ لوگ زبردستی مسلمان بلکہ اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔ عام مسلمانوں میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو زندہ یا مردہ بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہیں، مصیبت میں ان کو پکارتے ہیں، ان سے اولاد اور عزت و مال کے لیے فریاد کرتے ہیں، ان کے نام کے وظیفے کرتے اور نیازیں دیتے ہیں، ان کی پختہ قبریں بنا کر ان کا طواف اور انھیں سجدے کرتے ہیں۔ غرض کہ جو کچھ مکہ کے مشرک اپنے بتوں کے ساتھ کرتے تھے یہ جھوٹے مسلمان اپنے داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے ساتھ کرتے ہیں اور دعویٰ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور ہم سب کو شرک سے بچائے اور توحید پر قائم رکھے۔ (آمین)
ایمان لانے کے باوجود شرک کرنے کی کچھ اور صورتیں بھی ہیں جن سے بچنا لازم ہے، مثلاً غیر اللہ کی قسم کھانا، ریاکاری یعنی دکھلاوا کرنا، بیماری سے بچنے کے لیے دھاگے، کڑے، منکے وغیرہ لٹکانا، بدشگونی لینا، کاہنوں، یعنی آئندہ کی خبریں بتانے والوں کے پاس جانا، ان سب کاموں کو صحیح احادیث میں شرک قرار دیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے توحید کے موضوع پر لکھی ہوئی کتابیں، مثلاً تقویۃ الایمان اور کتاب التوحید وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔
افسوس کہ عرصۂ دراز سے اکثر کلمۂ اسلام پڑھنے والوں کا بھی یہی حال ہو گیا ہے، ان میں سے بہت سے لوگ اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں زمین پر اتر آیا ہے۔ بعض اپنے پیر کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے آنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ بعض اپنے بزرگوں کی عبادت کرتے کرتے ان کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ہی ہوجانے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ بے شمار بڑے بڑے نام والے عالموں، پیروں اور ان کے معتقدین نے ہندوؤں کی طرح ہر چیز کو اللہ تعالیٰ قرار دے کر اس کا نام وحدت الوجود رکھ دیا ہے اور اس صریح کفر و شرک کو معرفت کا نام دے رکھا ہے، حالانکہ اس عقیدے سے اسلام کا ہر حکم ہی ختم ہو جاتا ہے اور یہی وہ الحاد اور صریح کفر ہے جس پر اسلام کا نقاب ڈال کر یہ لوگ زبردستی مسلمان بلکہ اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔ عام مسلمانوں میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو زندہ یا مردہ بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہیں، مصیبت میں ان کو پکارتے ہیں، ان سے اولاد اور عزت و مال کے لیے فریاد کرتے ہیں، ان کے نام کے وظیفے کرتے اور نیازیں دیتے ہیں، ان کی پختہ قبریں بنا کر ان کا طواف اور انھیں سجدے کرتے ہیں۔ غرض کہ جو کچھ مکہ کے مشرک اپنے بتوں کے ساتھ کرتے تھے یہ جھوٹے مسلمان اپنے داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے ساتھ کرتے ہیں اور دعویٰ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور ہم سب کو شرک سے بچائے اور توحید پر قائم رکھے۔ (آمین)
ایمان لانے کے باوجود شرک کرنے کی کچھ اور صورتیں بھی ہیں جن سے بچنا لازم ہے، مثلاً غیر اللہ کی قسم کھانا، ریاکاری یعنی دکھلاوا کرنا، بیماری سے بچنے کے لیے دھاگے، کڑے، منکے وغیرہ لٹکانا، بدشگونی لینا، کاہنوں، یعنی آئندہ کی خبریں بتانے والوں کے پاس جانا، ان سب کاموں کو صحیح احادیث میں شرک قرار دیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے توحید کے موضوع پر لکھی ہوئی کتابیں، مثلاً تقویۃ الایمان اور کتاب التوحید وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
16۔ 1 یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن نے بڑی وضاحت کے ساتھ متعدد جگہ بیان فرمایا ہے کہ یہ مشرک یہ تو مانتے ہیں کہ آسمان اور زمین کا خالق، مالک، رازق اور مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک ٹھرا لیتے ہیں۔ اور یوں اکثر لوگ مشرک ہیں یعنی ہر دور میں لوگ توحید ربوبیت کے تو قائل رہے ہیں لیکن توحید الوہیت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے آج کے قبر پرستوں کا شرک بھی یہی ہے کہ وہ قبروں میں مدفون بزرگوں کو صفات الوہیت کا حامل سمجھ کر انھیں مدد کے لیے پکارتے بھی ہیں اور عبادت کے کئی مراسم بھی ان کے لیے بجا لاتے ہیں اعاذنا اللہ منہ
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
106۔ اور ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں مگر [101] (ساتھ ہی ساتھ) شرک بھی کرتے رہتے ہیں
[101] مذہبی طبقہ کی اکثریت بھی ہمیشہ مشرک ہی ہوتی ہے:۔
اگرچہ اس دنیا میں ایک طبقہ ایسا بھی موجود رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے وجود کا بھی منکر ہے اور وہ اس کائنات کے وجود اور اس کے نظام کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ تاہم اکثریت اسی بات کی قائل رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہی اس کا انتظام چلا رہا ہے۔ پھر اس مذہبی طبقہ میں بھی ایک قلیل طبقہ ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی صفات میں کسی دوسرے کو شریک نہیں بناتے اور یہی طبقہ فی الحقیقت راہ مستقیم پر ہے۔ اس مذہبی طبقہ میں بھی اکثریت ایسے ہی لوگوں کی رہی ہے جو اللہ کے خالق و مالک ہونے کا اقرار بھی کرتے جاتے ہیں۔
مشرکین مکہ کا تلبیہ:۔
پھر اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بھی بناتے جاتے ہیں اور یہ بات صرف مشرکین مکہ سے مختص نہیں بلکہ ان سے پہلے بھی یہی کچھ ہوتا رہا اور ان کے بعد آج تک بھی یہی صورت حال ہے۔ مشرکین مکہ کے اصل عقیدہ کی وضاحت اس تلبیہ سے صاف واضح ہوتی ہے جو وہ حج و عمرہ کے احرام باندھتے وقت یوں پکارتے تھے: «ليبك لا شريك لك الا شريكا هولك تملكه وماملك» [مسلم، كتاب الحج، باب التلبية]
یعنی اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس کے جسے تو نے اختیار دے رکھا ہے وہ خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یہی عقیدہ شرک کی سب سے بڑی بنیاد ہے اور یہ آج بھی ویسے ہی پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ مشرکین مکہ میں یا ان سے بھی پہلے پایا جاتا تھا۔ آج بھی لوگ اولیاء اللہ کے تصرفات کے بڑی شدت سے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تصرفات اور اختیارات انھیں اللہ ہی نے عطا کئے ہوئے ہیں جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ یہ بات تم کسی الہامی کتاب سے دکھلا سکتے ہو کہ اللہ نے فلاں فلاں قسم کے اختیارات فلاں فلاں لوگوں کو تفویض کر رکھے ہیں؟
یعنی اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس کے جسے تو نے اختیار دے رکھا ہے وہ خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یہی عقیدہ شرک کی سب سے بڑی بنیاد ہے اور یہ آج بھی ویسے ہی پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ مشرکین مکہ میں یا ان سے بھی پہلے پایا جاتا تھا۔ آج بھی لوگ اولیاء اللہ کے تصرفات کے بڑی شدت سے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تصرفات اور اختیارات انھیں اللہ ہی نے عطا کئے ہوئے ہیں جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ یہ بات تم کسی الہامی کتاب سے دکھلا سکتے ہو کہ اللہ نے فلاں فلاں قسم کے اختیارات فلاں فلاں لوگوں کو تفویض کر رکھے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بے پرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بےشمار نشانیاں ایک عقلمند کو اس قدر بھی کام نہیں آ سکتیں؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر و قیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہو جائیں؟ بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الٰہی تیرا کوئی شریک نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ [صحیح مسلم:1185] «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» [31-لقمان: 13] فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ [صحیح بخاری:4477] اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [4-النساء: 142]، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہو گیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ [سنن ترمذي:1535، قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ [سنن ابن ماجه:3530، قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہو گیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ [سنن ترمذي:1535، قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ [سنن ابن ماجه:3530، قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایسی حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چارپائی تلے چھپا دیا آپ رضی اللہ عنہما آئے میرے پاس میری چارپائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ رضی اللہ عنہما نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بے نیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویذات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ رضی اللہ عنہما کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھاڑا کر دیتا تھا تو سکون ہو جاتا تھا، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ تو کہتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے[مسند احمد:310/4:حسن بالشواھد] «أَذْهِبْ الْبَأْس رَبّ النَّاس اِشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاء إِلَّا شِفَاؤُك شِفَاء لَا يُغَادِر سَقَمًا»
مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے: عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کر دیا جاتا ہے۔ [سنن ترمذي:2072، قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند میں ہے: جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے .[مسند احمد:154/4:حسن بالشواھد] ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھہرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ [صحیح مسلم:2985]
مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے: عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کر دیا جاتا ہے۔ [سنن ترمذي:2072، قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند میں ہے: جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے .[مسند احمد:154/4:حسن بالشواھد] ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھہرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ [صحیح مسلم:2985]
مسند میں ہے: قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کر لے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہے۔ [مسند احمد:466/3:حسن بالشواھد] مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کارو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لیے تم نے عمل کئے تھے، اُنہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں؟ [مسند احمد:428/5:حسن بالشواھد]
مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص کوئی بدشگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہو گیا۔ صحابہ علیہ السلام نے دریافت کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہنا: «اللَّهُمَّ لَا خَيْر إِلَّا خَيْرك وَلَا طَيْر إِلَّا طَيْرك وَلَا إِلَه غَيْرك» اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ [مسند احمد:220/2:حسن بالشواھد] مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ: لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر سیدنا عبداللہ بن حزن اور قیس بن مضارب رضی اللہ عنہما کھڑے ہو گئے اور کہا یا تو آپ رضی اللہ عنہ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا: لوگو! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہو سکتا ہے؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذ بِك مِنْ أَنْ نُشْرِك بِك شَيْئًا نَعْلَمهُ وَنَسْتَغْفِرك لِمَا لَا نَعْلَمهُ» [مسند احمد:403/4:حسن لغیرہ] ایک اور روایت [مسند ابو یعلیٰ] میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك أَنْ أُشْرِك بِك وَأَنَا أَعْلَم وَأَسْتَغْفِرك مِمَّا لَا أَعْلَم» [مسند ابویعلیٰ:60، ضعیف] ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعا پڑھ «اللَّهُمَّ فَاطِر السَّمَوَات وَالْأَرْض عَالِم الْغَيْب وَالشَّهَادَة رَبّ كُلّ شَيْء وَمَلِيكه أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ أَعُوذ بِك مِنْ شَرّ نَفْسِي وَمِنْ شَرّ الشَّيْطَان وَشِرْكه» [مسند احمد:9/1:صحیح] ایک روایت میں ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وَأَنْ أَقْتَرِف عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرّهُ إِلَى مُسْلِم» [مسند احمد:14/1:حسن بالشواھد]
مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص کوئی بدشگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہو گیا۔ صحابہ علیہ السلام نے دریافت کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہنا: «اللَّهُمَّ لَا خَيْر إِلَّا خَيْرك وَلَا طَيْر إِلَّا طَيْرك وَلَا إِلَه غَيْرك» اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ [مسند احمد:220/2:حسن بالشواھد] مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ: لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر سیدنا عبداللہ بن حزن اور قیس بن مضارب رضی اللہ عنہما کھڑے ہو گئے اور کہا یا تو آپ رضی اللہ عنہ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا: لوگو! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہو سکتا ہے؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذ بِك مِنْ أَنْ نُشْرِك بِك شَيْئًا نَعْلَمهُ وَنَسْتَغْفِرك لِمَا لَا نَعْلَمهُ» [مسند احمد:403/4:حسن لغیرہ] ایک اور روایت [مسند ابو یعلیٰ] میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك أَنْ أُشْرِك بِك وَأَنَا أَعْلَم وَأَسْتَغْفِرك مِمَّا لَا أَعْلَم» [مسند ابویعلیٰ:60، ضعیف] ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعا پڑھ «اللَّهُمَّ فَاطِر السَّمَوَات وَالْأَرْض عَالِم الْغَيْب وَالشَّهَادَة رَبّ كُلّ شَيْء وَمَلِيكه أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ أَعُوذ بِك مِنْ شَرّ نَفْسِي وَمِنْ شَرّ الشَّيْطَان وَشِرْكه» [مسند احمد:9/1:صحیح] ایک روایت میں ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وَأَنْ أَقْتَرِف عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرّهُ إِلَى مُسْلِم» [مسند احمد:14/1:حسن بالشواھد]
فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الٰہی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے: «أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُواْ السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ ـ أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ ـ أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ» [16- النحل: 45 - 47] مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت و رافت ہے کہ گناہ کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے: «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ ـ أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ ـ أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللَّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَـسِرُونَ» [7-الأعراف: 97 - 99] بستیوں کے گنہگار اس بات سے بے خطر ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آ جائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔