(آیت104) ➊ { وَمَاتَسْـَٔلُهُمْعَلَيْهِمِنْاَجْرٍ:} یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ آپ ان سے اس تبلیغ پر اجرت مانگ کر ان پر بوجھ بن رہے ہوں، سو یہ بات ہے ہی نہیں۔ ➋ { اِنْهُوَاِلَّاذِكْرٌلِّلْعٰلَمِيْنَ:} اور یہ بھی نہیں کہ یہ نہ مانیں گے تو دین کا کچھ بگاڑ لیں گے، یہ قرآن اور اسلام صرف انھی کے لیے تو نہیں، یہ تو سارے جہانوں کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اور بندے لے آئے گا جو اس کا علم اٹھا لیں گے، باقی رہ گئے یہ لوگ تو اگر مانیں گے تو اپنے آپ کو فائدہ پہنچائیں گے اور نہ مانیں گے تو اپنا نقصان کریں گے، آپ ان کے رویے سے ہر گز رنجیدہ نہ ہوں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 کہ جس سے ان کو یہ شبہ ہو کہ یہ دعوائے نبوت تو صرف پیسے جمع کرنے کا بہانہ ہے۔ 14۔ 2 تاکہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں۔ اب دنیا کے لوگ اگر اس سے آنکھیں پھیر رکھیں اور اس سے ہدایت حاصل نہ کریں تو لوگوں کا قصور اور ان کی بدقسمتی ہے، قرآن تو فی الواقع اہل دنیا کی ہدایت اور نصیحت ہی کے لئے آیا ہے۔ گر نہ بیند بروز شپرہ چشم چشمہ آفتاب را چہ گناہ
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
104۔ آپ اس (تبلیغ) پر ان سے کچھ بھی نہیں مانگتے یہ تو تمام [99] اہل عالم کے لئے نصیحت ہے
[99] کفار کی ہٹ دھرمی:۔
یعنی اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ یہ قرآن صرف ان کے لیے نہیں بلکہ تمام اہل عالم کے لیے نصیحت ہے۔ انھیں نہیں تو کوئی دوسروں کو اس سے ایمان نصیب ہو جائے گا پھر اگر یہ نہیں مانتے تو آپ کا اس میں کچھ نقصان بھی نہیں۔ آپ ان سے کچھ معاوضہ تھوڑے مانگ رہے تھے جو یہ بند کر دیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔