ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ۚ وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ وَ ہُمۡ یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾
یہ غیب کی کچھ خبریں ہیں، جو ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں اور تو ان کے پاس نہ تھا جب انھوں نے اپنے کام کا پختہ ارادہ کیا اور وہ خفیہ تدبیر کر رہے تھے۔
En
(اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے
En
یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ آپ ان کے پاس نہ تھے جب کہ انہوں نے اپنی بات ٹھان لی تھی اور وه فریب کرنے لگے تھے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت102) ➊ { ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ:} یعنی غیب کی یہ خبریں اپنی صحیح تفصیلات کے ساتھ ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے سے بتائیں، ہماری وحی کے بغیر آپ کو یہ کیسے معلوم ہو سکتی تھیں۔ اس سے مقصود کفارِ مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر ہیں، اگر سچے پیغمبر نہ ہوتے تو ہزاروں برس پہلے کے یہ واقعات کیسے معلوم کر سکتے تھے اور تمھیں کیسے سنا سکتے تھے۔
➋ { وَ مَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ …:} یعنی اگر ہم آپ کو نہ بتاتے تو آپ کو کچھ خبر نہ تھی، کیونکہ آپ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے۔ قرآن مجید نے {” وَ مَا كُنْتَ “} کے ساتھ یہ بات کئی جگہ دہرائی ہے اور اپنا احسان جتلایا ہے کہ آپ کو گزشتہ واقعات کا کچھ علم نہ تھا، نہ آپ وہاں موجود تھے جب یہ سب کچھ ہوا، یہ ہم ہی ہیں جنھوں نے وحی کے ذریعے سے آپ کو یہ واقعات بتائے۔ اس لیے اہلِ مکہ اور دوسرے کفار کو آپ کی نبوت میں ہر گز شک نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں ان مسلمانوں کے لیے بھی سبق ہے جو کہتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر بات کا پہلے ہی علم تھا، اگر ایسا ہی تھا تو وحی کی کیا ضرورت تھی۔ قرآن مجید کی {” وَ مَا كُنْتَ “} والی تمام آیات آپ کے علم غیب کی نفی کرتی ہیں۔ {” وَ مَا كُنْتَ “} کے مقامات کی سیر کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورۂ آل عمران (۴۴)، ہود (۴۹)، یوسف (۱۰۲)، قصص (۴۴، ۴۵، ۴۶، ۸۶)، عنکبوت (۴۸) اور شوریٰ (۵۲)۔
➌ اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یوسف علیہ السلام کا قصہ اہل کتاب سے جن تفصیلات کے ساتھ منقول ہے وہ تمام کی تمام صحیح نہیں، کیونکہ اگر صحیح ہوتیں تو ان کی کوئی بات قرآن مجید کے خلاف نہ ہوتی جو ان کی کتابوں پر نگران اور ان کے صحیح مضامین کا محافظ ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۴۸) اس لیے صحیح و غلط کے گڈ مڈ ہو جانے کی وجہ سے ان کی معلومات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
➋ { وَ مَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ …:} یعنی اگر ہم آپ کو نہ بتاتے تو آپ کو کچھ خبر نہ تھی، کیونکہ آپ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے۔ قرآن مجید نے {” وَ مَا كُنْتَ “} کے ساتھ یہ بات کئی جگہ دہرائی ہے اور اپنا احسان جتلایا ہے کہ آپ کو گزشتہ واقعات کا کچھ علم نہ تھا، نہ آپ وہاں موجود تھے جب یہ سب کچھ ہوا، یہ ہم ہی ہیں جنھوں نے وحی کے ذریعے سے آپ کو یہ واقعات بتائے۔ اس لیے اہلِ مکہ اور دوسرے کفار کو آپ کی نبوت میں ہر گز شک نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں ان مسلمانوں کے لیے بھی سبق ہے جو کہتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر بات کا پہلے ہی علم تھا، اگر ایسا ہی تھا تو وحی کی کیا ضرورت تھی۔ قرآن مجید کی {” وَ مَا كُنْتَ “} والی تمام آیات آپ کے علم غیب کی نفی کرتی ہیں۔ {” وَ مَا كُنْتَ “} کے مقامات کی سیر کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورۂ آل عمران (۴۴)، ہود (۴۹)، یوسف (۱۰۲)، قصص (۴۴، ۴۵، ۴۶، ۸۶)، عنکبوت (۴۸) اور شوریٰ (۵۲)۔
➌ اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یوسف علیہ السلام کا قصہ اہل کتاب سے جن تفصیلات کے ساتھ منقول ہے وہ تمام کی تمام صحیح نہیں، کیونکہ اگر صحیح ہوتیں تو ان کی کوئی بات قرآن مجید کے خلاف نہ ہوتی جو ان کی کتابوں پر نگران اور ان کے صحیح مضامین کا محافظ ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۴۸) اس لیے صحیح و غلط کے گڈ مڈ ہو جانے کی وجہ سے ان کی معلومات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 یعنی یوسف ؑ کے ساتھ، جب کہ انھیں کنوئیں میں پھینک آئے یا مراد حضرت یعقوب ؑ ہیں یعنی ان کو یہ کہہ کر کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے اور یہ اس کی قمیص ہے، جو خون میں لت پت ہے ان کے ساتھ فریب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر بھی اس بات کی نفی فرمائی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کا علم تھا لیکن یہ نفی مطلق علم کی نہیں ہے کیونکہ اللہ نے وحی کے ذریعے سے آپ کو آگاہ فرمایا دیا۔ یہ نفی مشاہد کی ہے کہ اس وقت آپ وہاں موجود نہیں تھے۔ اسی طرح ایسے لوگوں سے بھی آپ کا رابطہ وتعلق نہیں رہا ہے جن سے آپ نے سنا ہو۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو وحی نازل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اور بھی کئی مقامات پر اسی طرح غیب اور مشاہدے کی نفی فرمائی ہے۔ مثلاً ملاحظہ ہو، سورة آل عمران (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۭ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ) 3۔ آل عمران:44) (وَلٰكِنَّآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ ۚ وَمَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِيْٓ اَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا ۙ وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ 45 وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَيْنَا وَلٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 46) 28۔ القصص:46-45) (مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍۢ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ 69 اِنْ يُّوْحٰٓى اِلَيَّ اِلَّآ اَنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ 70) 38۔ ص:70۔ 69)۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
102۔ (اے نبی)! یہ (قصہ بھی) غیب کی خبروں سے ہے جس کو ہم آپ کی طرف [97] وحی کر رہے ہیں۔ آپ اس وقت ان کے پاس تو نہیں تھے۔ جب برادران یوسف نے ایک بات پر اتفاق کر لیا تھا اور اسے عملی جامہ پہنانے کی مکارانہ سازش کر رہے تھے
[97] کفار مکہ کے سوال کا جواب دینا آپ کی نبوت کی دلیل ہے:۔
اگرچہ تورات اور دوسری اسرائیلی روایات میں کئی جگہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاً قرآن میں انبیاء کو ایک پاکیزہ صورت انسان کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی روایات انھیں کئی مقامات پر مورد الزام ٹھہراتی ہیں۔ دوسرے قرآن میں قصہ کے بیان سے زیادہ مواعظ حسنہ اور تذکیر بآیات اللہ پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی روایات اس سے خالی ہیں۔ تاہم قصہ کی اصولی باتیں بہت حد تک ملتی جلتی ہیں اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت موجود نہیں تھے اور یہ بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اسرائیلیات کو پڑھا ہے اور نہ علمائے یہود سے استفادہ کیا ہے۔ پھر آپ کا اس طرح یہ واقعہ بیان کر دینا بجز وحی الٰہی کے ممکن نہیں۔ لہٰذا یہ آپ کی نبوت پر واضح دلیل ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
حضرت یوسف علیہ السلام کا تمام وکمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا، اب اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہو جائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لیے سب مستعد ہو گئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔
جیسے مریم علیہ السلام کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ «وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ» [3-آل عمران: 44] جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے، تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا۔ الخ۔ «وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» [28-القصص: 44]حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں بھی اس قسم کا ارشاد فرمایا ہے کہ بجانب مغرب جب موسیٰ علیہ السلام کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا۔ «وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَلَـٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ» [28-القصص: 45] اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا۔ اور نہ تم مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے
جیسے مریم علیہ السلام کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ «وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ» [3-آل عمران: 44] جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے، تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا۔ الخ۔ «وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» [28-القصص: 44]حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں بھی اس قسم کا ارشاد فرمایا ہے کہ بجانب مغرب جب موسیٰ علیہ السلام کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا۔ «وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَلَـٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ» [28-القصص: 45] اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا۔ اور نہ تم مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے
«مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ إِن يُوحَىٰ إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ» [38-ص: 69، 70] ملاء اعلٰی کی آپس کی گفتگو میں تو موجود نہ تھا۔ یہ سب ہماری طرف سے بذریعہ وحی تجھے بتایا گیا یہ کھلی دلیل ہے تیری رسالت ونبوت کی کہ گزشتہ واقعات تو اس طرح کھول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ گویا تو نے آپ بچشم خود دیکھے ہیں اور تیرے سامنے ہی گزرے ہیں۔ پھر یہ واقعات نصیحت وعبرت حکمت وموعظت سے پر ہیں، جن سے انسانوں کی دین و دنیا سنور سکتی ہے۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان سے کورے رہے جاتے ہیں گو تو لاکھ چاہے کہ یہ مومن بن جائیں اور آیت میں ہے «وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» [6-الانعام: 116] اگر تو انسانوں کی اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دیں گے۔ بہت سے واقعات کے بیان کے بعد ہر ایک واقعہ کے ساتھ قرآن نے فرمایا ہے کہ گو اس میں بڑا زبردست نشان ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ آپ جو کچھ بھی جفاکشی کر رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ حق دکھا رہے ہیں، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا دنیوی نفع ہرگز مقصود نہیں، آپ ان سے کوئی اجرت اور کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ یہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے مخلوق کے نفع کے لیے ہے۔ یہ تو تمام جہان کے لیے سراسر ذکر ہے کہ وہ راہ راست پائیں نصیحت حاصل کریں عبرت پکڑیں ہدایت ونجات پائیں۔