ترجمہ و تفسیر — سورۃ الناس (114) — آیت 6

مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ ٪﴿۶﴾
جنوں اور انسانوں میں سے۔ En
وہ جنّات میں سے (ہو) یا انسانوں میں سے
En
(خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6){ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ:} لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالنے والے شیطان جن بھی ہوتے ہیں اور انسان بھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا» ‏‏‏‏ [الأنعام: ۱۱۲] اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں کے شیاطین کو دشمن بنا دیا، ان کا بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی بات دھوکا دینے کے لیے دل میں ڈالتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے ساتھ ایک جن شیطان اور ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، شیطان کا کام برائی کا وسوسہ ڈالنا اور فرشتے کا کام بھلائی کا الہام کرنا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مِنْكُمْ مِّنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَكَّلَ اللّٰهُ بِهِ قَرِيْنَهُ مِنَ الْجِنِّ، قَالُوْا وَ إِيَّاكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِقَالَ وَ إِيَّايَ إِلَّا أَنَّ اللّٰهَ أَعَانَنِيْ عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِيْ إِلَّا بِخَيْرٍ] [مسلم، صفۃ القیامۃ، باب تحریش الشیطان…: ۲۸۱۴] تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جنوں میں سے اس کا ایک قرین (ساتھی) مقرر کر رکھا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اور آپ کے ساتھ بھی وہ مقرر ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں میرے ساتھ بھی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد کی ہے تو وہ تابع ہو گیا ہے اور وہ مجھے خیر کے علاوہ کوئی حکم نہیں دیتا۔ صحیح مسلم کی اسی حدیث میں سفیان سے مروی یہ الفاظ ہیں: [وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِيْنُهُ مِنَ الْجِنِّ وَ قَرِيْنُهُ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ] [مسلم، صفۃ القیامۃ، باب تحریش الشیطان…: ۲۸۱۴] (ہر آدمی کے ساتھ) جنوں سے اس کا قرین (ساتھی) اور فرشتوں سے اس کا قرین (ساتھی) مقرر کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انصار صحابہ سے فرمایا: [إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِيْ مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ، وَ إِنِّيْ خَشِيْتُ أَنْ يَّقْذِفَ فِيْ قُلُوْبِكُمَا سُوْئًا أَوْ قَالَ شَيْئًا] [بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ إبلیس و جنودہ: ۳۲۸۱] شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں ڈرا کہ وہ تمھارے دلوں میں کوئی وسوسہ، یا فرمایا کوئی چیز ڈال دے گا۔ شیطان اور اس کا جنی قبیلہ انسانوں کی نگاہوں سے مخفی رہ کر فتنہ انگیزی کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ (دیکھیے انعام: ۲۷) رہے انسانی شیطان تو وہ ہمیشہ چھپ کر تو حملہ آور نہیں ہو سکتے، مگر اپنی باتوں اور طرز عمل سے وسوسہ ڈالتے اور دل میں برائی کا بیج بو دیتے ہیں۔
دوسرے وسوسہ ڈالنے والوں کے علاوہ انسان کا اپنا نفس بھی وسوسہ ڈالتا ہے۔ اس کی غلط خواہشات اور بد اعمالیاں اسے برائی کے لیے اکساتی اور ابھارتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ» [قٓ: ۱۶] اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان چیزوں کو جانتے ہیں جن کا وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے: [وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّآتِ أَعْمَالِنَا] [ابن ماجہ، النکاح، باب خطبۃ النکاح: ۱۸۹۲۔ ترمذي: ۱۱۰۵، وصححہ الألباني] اور ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ ان تمام وسوسہ ڈالنے والوں سے، خواہ وہ شیاطین الجن ہوں یا شیاطین الانس یا خود آدمی کا نفس ہو، اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے، کیونکہ وہی ان کے شر سے بچا سکتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسمیں ہیں، شیاطین الجن کو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے علاوہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی تو صحابہ کرام نے پوچھا کہ یارسول اللہ! کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے، اور میرا مطیع ہوگیا ہے مجھے خیر کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں دیتا (صحیح مسلم) اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف فرما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ ؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئیں رات کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑنے کے لیے ان کے ساتھ گئے۔ راستے میں دو انصاری صحابی وہاں سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا کہ یہ میری اہلیہ، صفیہ بنت حیی، ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت ہمیں کیا بدگمانی ہوسکتی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے لیکن شیطان انسان کی رگوں میں خوف کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ شبہ نہ ڈال دے۔ (صحیح بخاری) دوسرے شیطان، انسانوں میں سے ہوتے ہیں جو ناصح، مشفق کے روپ میں انسانوں کو گمراہی کی تر غیب دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ شیطان جن کو گمراہ کرتا ہے یہ ان کی دو قسمیں ہیں، یعنی شیطان انسانوں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور جنات کو بھی۔ صرف انسانوں کا ذکر تغلیب کے طور پر ہے، ورنہ جنات بھی شیطان کے وسوسوں سے گمراہ ہونے والوں میں شامل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جنوں پر بھی قرآن میں " رجال " کا لفظ بولا گیا ہے (وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا ۝ ۙ) 72۔ الجن:6) اس لیے وہ بھی ناس کا مصداق ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ خواہ وہ جنوں [3] سے ہو یا انسانوں سے
[3] شیطان کا انسان نفس بھی ہو سکتا ہے جو وسوسے ڈالتا ہے :۔
﴿اَلجِنَّةُ انسان کے علاوہ دوسری مکلف مخلوق جن ہے۔ جنوں میں سے کچھ نیک اور صالح بھی ہوتے ہیں اور کچھ خبیث، موذی اور بد کردار بھی۔ اس دوسری قسم کو شیطان کہتے ہیں۔ پھر شیطان کے لفظ کا اطلاق ہر موذی چیز، سرکش اور نافرمان پر بھی ہونے لگا خواہ انسان ہو یا جن یا کوئی جانور۔ مثلاً سانپ کو اس کی ایذا دہی کی وجہ سے شیطان اور جن ّاور جانّ [27: 10] کہتے ہیں۔ پھر یہ شیطان یا ﴿خناس﴾ صرف جن اور انسان ہی نہیں ہوتے بلکہ انسان کا اپنا نفس بھی وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ [50: 16] چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد نبوی میں اعتکاف بیٹھے تھے کہ رات کو آپ کی زوجہ محترمہ صفیہ بنت حیی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملنے کے لیے آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں الوداع کرنے کے لیے ساتھ گئے۔ رستہ میں دو انصاری آدمی ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ یہ میری بیوی صفیہ بنت حیی ہے۔ وہ کہنے لگے۔ ﴿’سبحان الله‘﴾ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کون شک کر سکتا ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿ان الشيطان يجري من ابن اٰدم مجري الدم﴾ [بخاری، کتاب الاحکام۔ باب الشھادۃ تکون عند الحاکم۔۔]
یعنی شیطان ہر انسان میں خون کی طرح دوڑتا پھرتا ہے۔ اس حدیث کی رو سے بھی انسان کے اپنے نفس کو بھی شیطان کہا گیا ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ مسنونہ کے یہ مشہور و معروف الفاظ ہیں۔ ﴿وَنَعُوْذُ باللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ أنْفُسِنَا یعنی ہم اپنے نفوس کی شرارتوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔
معوذات سے دم جھاڑ کرنا مسنون ہے :۔
پہلے لکھا جا چکا ہے کہ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو معوذتین کہتے ہیں اور اگر ان کے ساتھ سورۃ اخلاص کو بھی ملا لیا جائے تو انہیں معوذات کہتے ہیں۔ اور آپ کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ سورتیں پڑھ کر پہلے اپنے ہاتھوں پر پھونکتے پھر ہاتھوں کو چہرہ اور جسم پر پھیرا کرتے تھے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض الموت میں معوذات پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں شدت ہوئی تو میں معوذات پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھونکتی اور اپنے ہاتھ کے بجائے برکت کی خاطر آپ ہی کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھراتی۔ معمر نے کہا: میں نے زہری سے پوچھا (یہ دونوں اس حدیث کی سند کے راوی ہیں) کہ کیونکر پھونکتے تھے۔ انہوں نے کہا: دونوں ہاتھوں پر دم کر کے ان کو منہ پر پھیرتے۔ [بخاری۔ کتاب الطب و المرضیٰ۔ باب الرقی بالقرآن والمعوذات]
تعویذ لکھ کر پلانا یا لٹکانا سب نا جائز اور بدعت ہے :۔
واضح رہے کہ دم جھاڑ کے سلسلے میں مسنون طریقہ یہی ہے کہ قرآن کی کوئی آیت یا آیات یا مسنون دعائیں پڑھ کر مریض پر دم کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ جتنے طریقے آج کل رائج ہیں۔ مثلاً کچھ عبارت لکھ کر یا خانے بنا کر اس میں ہندسے لکھ کر اس کا تعویذ بنا کر گلے میں لٹکانا۔ یا گھول کر پانی پلانا یا بازو یا ران پر باندھنا سب نا جائز ہیں۔ بلکہ اگر قرآنی آیات یا مسنون دعائیں بھی لکھی جائیں جن میں شرک کا شائبہ تک نہ ہو تب بھی یہ خلاف سنت، بدعت اور نا جائز ہیں۔ اور ہم انہیں بدعت اور نا جائز اس لیے کہتے ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تعویذ لکھنے لکھوانے کو اچھا سمجھتے تو اس دور میں بھی لکھوا سکتے تھے اور اس میں کوئی امر مانع نہ تھا۔ لہٰذا ایسے سب طریقے نا جائز اور خلاف سنت ہیں اور بدعت کی تعریف میں آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے چوتھی جلد تمام ہوئی اور قرآن مجید کی یہ تفسیر ”تیسیر القرآن“ مکمل ہوئی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔