وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿۴﴾
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 4) ➊ {وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ: ” كُفُوًا “} ہم مثل، جوڑ، جو برابر کا ہو۔ {” قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ “} کہنے سے اولاد اور کفو کی خود بخود نفی ہو جاتی ہے مگر ان کو پھر الگ بھی ذکر فرمایا، جیساکہ سورۂ بقرہ کی آیت (۹۸): «مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِيْلَ وَ مِيْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ» (جو شخص اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا اور جبریل اور میکال کا دشمن ہو تو بلاشبہ اللہ سب کافروں کا دشمن ہے) میں ملائکہ میں شامل ہونے کے باوجود جبریل اور میکائیل کو الگ ذکر فرمایا ہے۔ اس کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ دوبارہ ذکر کرکے اس کی طرف خاص توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ اس سے مزید وضاحت اور تفصیل ہو جاتی ہے۔ ممکن ہے ایک شخص کو صرف {” قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ “} کہنے سے ان دونوں باتوں کی طرف توجہ ہی نہ ہوتی یا توجہ ہوتی بھی تو وہ اتنی وضاحت سے نہ سمجھ سکتا جتنی وضاحت سے وہ انھیں الگ ذکر کرنے سے سمجھا ہے۔ علم بلاغت میں اسے تجرید کہتے ہیں۔ (التسہیل)
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو قرآن کا ثلث قرار دیا ہے، یہ قرآن کا ثلث کس طرح ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی وضاحت نہیں فرمائی، اہلِ علم نے اپنے اپنے خیال کے مطابق اس کی توجیہ فرمائی ہے بعض نے اس سے مراد ثواب لیا ہے، بعض نے فرمایا قرآن مجید کے تین ثلث ہیں، ایک ثلث احکام، دوسرا وعد و وعید اور تیسرا اسماء و صفات ہے اور اس سورت میں اسماء و صفات بیان ہوئے ہیں۔ بعض نے اللہ کی معرفت، آخرت کی معرفت اور صراطِ مستقیم کو قرآن کے تین ثلث قرار دے کر اللہ کی معرفت کو اس سورت کا موضوع قرار دیا ہے۔ بعض نے توحید، رسالت اور آخرت کو تین حصے قرار دیا اور اس سورت کو توحید کی جامع ہونے کی وجہ سے ثلثِ قرآن قرار دیا۔ یہ اختلاف خود اس بات کی دلیل ہے کہ ہر ایک نے اپنے ذہن سے ایک بات سوچی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وضاحت نہیں آئی، ورنہ سب اس پر متفق ہو جاتے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس بات پر ایمان رکھا جائے کہ یہ سورت قرآن کے ثلث کے برابر ہے اور یہ بات اللہ کے سپرد کر دی جائے کہ ثلث کے برابر کس طرح ہے؟
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی سنتوں میں {” قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ “} اور {” قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ “} پڑھا کرتے تھے۔ [دیکھیے مسلم، صلاۃ المسافرین، باب استحباب رکعتي سنۃ الفجر…: ۷۲۶] سورت «قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ» توحید عملی کی جامع ہے کہ میں اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتا ہوں، نہ کروں گا اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ میں کسی اور کی عبادت کروں اور سورت «قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ» توحید علمی کی جامع ہے کہ اللہ کے متعلق عقیدہ و علم کیا ہونا چاہیے۔ (زاد المعاد)
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو قرآن کا ثلث قرار دیا ہے، یہ قرآن کا ثلث کس طرح ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی وضاحت نہیں فرمائی، اہلِ علم نے اپنے اپنے خیال کے مطابق اس کی توجیہ فرمائی ہے بعض نے اس سے مراد ثواب لیا ہے، بعض نے فرمایا قرآن مجید کے تین ثلث ہیں، ایک ثلث احکام، دوسرا وعد و وعید اور تیسرا اسماء و صفات ہے اور اس سورت میں اسماء و صفات بیان ہوئے ہیں۔ بعض نے اللہ کی معرفت، آخرت کی معرفت اور صراطِ مستقیم کو قرآن کے تین ثلث قرار دے کر اللہ کی معرفت کو اس سورت کا موضوع قرار دیا ہے۔ بعض نے توحید، رسالت اور آخرت کو تین حصے قرار دیا اور اس سورت کو توحید کی جامع ہونے کی وجہ سے ثلثِ قرآن قرار دیا۔ یہ اختلاف خود اس بات کی دلیل ہے کہ ہر ایک نے اپنے ذہن سے ایک بات سوچی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وضاحت نہیں آئی، ورنہ سب اس پر متفق ہو جاتے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس بات پر ایمان رکھا جائے کہ یہ سورت قرآن کے ثلث کے برابر ہے اور یہ بات اللہ کے سپرد کر دی جائے کہ ثلث کے برابر کس طرح ہے؟
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی سنتوں میں {” قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ “} اور {” قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ “} پڑھا کرتے تھے۔ [دیکھیے مسلم، صلاۃ المسافرین، باب استحباب رکعتي سنۃ الفجر…: ۷۲۶] سورت «قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ» توحید عملی کی جامع ہے کہ میں اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتا ہوں، نہ کروں گا اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ میں کسی اور کی عبادت کروں اور سورت «قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ» توحید علمی کی جامع ہے کہ اللہ کے متعلق عقیدہ و علم کیا ہونا چاہیے۔ (زاد المعاد)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 اس کی ذات میں اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں۔ (لیس کمثلہ شئی) حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " انسان مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لیے اولاد ثابت کرتا ہے، حالانکہ میں ایک ہوں بےنیاز ہوں، میں نے کسی کو جنا ہے نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے (صحیح بخاری) اس سورت میں ان کا بھی رد ہوگیا جو متعدد خداؤں کے قائل ہیں اور جو اللہ کے لیے اولاد ثابت کرتے ہیں اور جو اس کو دوسروں کا شریک گردانتے ہیں اور ان کا بھی جو سرے سے وجود باری تعالیٰ ہی کے قائل نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اور اس کا ہمسر کوئی [5] نہیں۔
[5] ﴿كفو﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿كُفُوًا﴾: کفاء کپڑے کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جو اس جیسے دوسرے ٹکڑے سے ملا کر خیمہ کی پچھلی طرف ڈال دیا جاتا ہے اور ﴿كفو﴾ اور ﴿كُفٰي﴾ بمعنی ہم پایہ، ہم پلہ، مرتبہ و منزلت میں ایک دوسرے کے برابر ہونا۔ اس کے مقابلہ اور جوڑ یا ٹکر کا ہونا۔ ﴿كفو﴾ کا لفظ عموماً میدان جنگ میں دعوت مبارزت کے وقت یا نکاح اور رشتہ کے وقت بولا جاتا ہے۔ فلان ﴿كفو﴾ لفلان یعنی فلاں شخص فلاں کے جوڑ کا یا مد مقابل یا ہمسر ہے۔ رشتہ کے وقت بھی فریقین یہ دیکھتے ہیں کہ دوسرے فریق کی معاشی، معاشرتی اور تمدنی حالت اس جیسی ہے یا نہیں؟ بس یہی ﴿كفو﴾ کا مفہوم ہے۔ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی ذات کے متعلق طرح طرح کے سوال کرتے ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ اس کائنات میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کے جوڑ کی ہو اور تمہیں سمجھایا جا سکے کہ اللہ فلاں چیز کی مانند ہے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ﴾
سورہ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے :۔
واضح رہے کہ چونکہ اس سورت میں توحید کے جملہ پہلوؤں پر مکمل روشنی ڈال دی گئی ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو تہائی قرآن کے برابر قرار دیا ہے اور یہ چیز بیشمار احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں بنیادی طور پر تین عقائد پر ہی زور دیا گیا ہے۔ اور وہ ہیں توحید، رسالت اور آخرت۔ اس سورت میں توحید کا چونکہ جامع بیان ہے اس لیے اسے قرآن کی تہائی کے برابر قرار دیا گیا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے:
1۔ سیدنا ابو الدرداء سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ہر رات کو ایک تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: کوئی شخص تہائی قرآن کیسے پڑھ سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ ”تہائی قرآن کے برابر ہے“ [مسلم۔ کتاب فضائل القرآن۔ باب فضل قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔]
2۔ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمع ہو جاؤ تاکہ میں تمہارے سامنے قرآن کا تیسرا حصہ پڑھوں ہم جمع ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ اور سورت ﴿قُلْ هُوَاللّٰهُ أحْدٌ﴾ پڑھی۔ پھر اندر چلے گئے۔ ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شاید آسمان سے کوئی خبر آئی ہے جس کے لیے آپ اندر چلے گئے۔ پھر آپ باہر نکلے تو فرمایا: ”میں نے تم سے کہا تھا کہ تمہارے سامنے تہائی قرآن پڑھوں گا۔ سو یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ [حواله ايضاً]
3۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک فوج پر سردار مقرر کر کے بھیجا۔ وہ اپنی فوج کی نماز میں قرآن پڑھتے اور قراءت کو ﴿قُلْ ھُوَاللّٰہُ أحْدٌ﴾ پر ختم کرتے تھے۔ جب فوج لوٹ کر آئی تو لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اس سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ رحمٰن کی صفت ہے اور میں اسے دوست رکھتا ہوں کہ اسے پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اسے کہہ دو کہ اللہ تمہیں دوست رکھتا ہے“ [حواله ايضاً]
1۔ سیدنا ابو الدرداء سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ہر رات کو ایک تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: کوئی شخص تہائی قرآن کیسے پڑھ سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ ”تہائی قرآن کے برابر ہے“ [مسلم۔ کتاب فضائل القرآن۔ باب فضل قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔]
2۔ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمع ہو جاؤ تاکہ میں تمہارے سامنے قرآن کا تیسرا حصہ پڑھوں ہم جمع ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ اور سورت ﴿قُلْ هُوَاللّٰهُ أحْدٌ﴾ پڑھی۔ پھر اندر چلے گئے۔ ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شاید آسمان سے کوئی خبر آئی ہے جس کے لیے آپ اندر چلے گئے۔ پھر آپ باہر نکلے تو فرمایا: ”میں نے تم سے کہا تھا کہ تمہارے سامنے تہائی قرآن پڑھوں گا۔ سو یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ [حواله ايضاً]
3۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک فوج پر سردار مقرر کر کے بھیجا۔ وہ اپنی فوج کی نماز میں قرآن پڑھتے اور قراءت کو ﴿قُلْ ھُوَاللّٰہُ أحْدٌ﴾ پر ختم کرتے تھے۔ جب فوج لوٹ کر آئی تو لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اس سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ رحمٰن کی صفت ہے اور میں اسے دوست رکھتا ہوں کہ اسے پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اسے کہہ دو کہ اللہ تمہیں دوست رکھتا ہے“ [حواله ايضاً]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔