ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإخلاص (112) — آیت 3

لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ﴿۳﴾
نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ En
نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا
En
نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ { لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ:} نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا اس آیت میں نصرانیوں کا ردّ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں، یہودیوں کا ردّ ہے جو عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں، مشرکین عرب کا ردّ ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مانتے ہیں، فلاسفہ کا ردّ ہے جو کہتے ہیں کہ عقول عشرہ اللہ سے نکلی ہیں اور اب کائنات کا نظام وہ چلا رہی ہیں، ہندوؤں کا رد ہے جو کروڑوں کی تعداد میں مخلوق کو خدا مانتے ہیں اور ان مسلمان کہلانے والوں کا بھی ردّ ہے جو کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ائمۂ اہلِ بیت اللہ تعالیٰ کے ذاتی نور سے پیدا ہوئے ہیں۔
➋ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے لیے اولاد کی نفی کے بہت سے دلائل بیان فرمائے ہیں، ان میں سب سے واضح چار ہیں، پہلی دلیل یہ ہے کہ اولاد لازماً باپ کی جنس سے ہوتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی جنس ہی نہیں۔ اس آیت میں اسی دلیل کی طرف اشارہ ہے: «‏‏‏‏مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَ اُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ كَانَا يَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ» [المائدۃ: ۷۵] نہیں ہے مسیح ابن مریم مگر ایک رسول، اس سے پہلے کئی رسول گزر گئے اور اس کی ماں صدیقہ ہے۔ وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ یعنی مسیح ابن مریم علیھما السلام سے پہلے کئی رسول گزرے، وہ پہلے نہیں تھے، پھر پیدا ہوئے، وہ حادث تھے جب کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے۔ باپ اور اولاد کی جنس ایک ہوتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور عیسیٰ علیہ السلام حادث ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کھاتا نہیں اور وہ دونوں کھاتے تھے۔ جنس ایک نہ رہی تو اولاد کیسے بن گئی؟ دوسری دلیل یہ کہ والد اولاد اس لیے حاصل کرتا ہے کہ وہ اس کا محتاج ہوتا ہے اور اللہ کو کسی کی کوئی حاجت نہیں۔ اس آیت میں یہی فرمایا ہے: «‏‏‏‏قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ هُوَ الْغَنِيُّ» ‏‏‏‏ [یونس: ۶۸] انھوں نے کہا کہ اللہ نے اولاد پکڑی ہے، وہ پاک ہے، وہی تو غنی ہے۔ یعنی وہی تو ہے جو غنی ہے، جسے کسی کی حاجت نہیں، وہ اولاد کیوں بنائے گا؟ تیسری دلیل یہ کہ تمام مخلوق اللہ کے بندے اور غلام ہیں اور بندہ ہونا بیٹا ہونے کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا، فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَا يَنْۢبَغِيْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا (92) اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا» [مریم: ۹۲، ۹۳] اور رحمان کے لائق ہی نہیں کہ وہ اولاد پکڑے، آسمانوں میں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے رحمان کے پاس بندہ (غلام) بن کر آنے والا ہے۔ یعنی رحمان کی اولاد کس طرح ہو سکتی ہے، جب کہ زمین و آسمان میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام اور بندہ بن کر پیش ہونے والا ہے؟ بیٹا ہو اور غلام بھی، ممکن ہی نہیں۔ چوتھی دلیل یہ کہ اولاد اسی کی ہوتی ہے جس کی بیوی ہو اور اللہ تعالیٰ کی بیوی ہی نہیں تو اولاد کیسے ہوگی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ» ‏‏‏‏ [الأنعام: ۱۰۱] اس کی اولاد کیسے ہوگی جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں۔
➌ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ، وَشَتَمَنِيْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيْبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ لَنْ يُّعِيْدَنِيْ كَمَا بَدَأَنِيْ، وَلَيْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا، وَ أَنَا الْأَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُوْلَدْ وَلَمْ يَكُنْ لِيْ كُفُوًا أَحَدٌ] [بخاري، التفسیر، سورۃ «‏‏‏‏قل ھو اللہ أحد» : ۴۹۷۴] ابن آدم نے مجھے جھٹلا دیا حالانکہ یہ اس کا حق نہ تھا اور اس نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کا حق نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ جس طرح اس نے مجھے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے دوبارہ نہیں بنائے گا۔ حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا مجھے دوبارہ بنانے سے آسان نہیں ہے اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنائی ہے، حالانکہ میں احد ہوں، صمد ہوں۔ میں نے نہ کسی کو جنا، نہ کسی نے مجھے جنا اور نہ ہی کوئی میرے برابر کا ہے۔
➍ { وَ لَمْ يُوْلَدْ:} اور وہ جنا نہیں گیا یعنی کسی نے اس کو نہیں جنا، اس کا کوئی باپ نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کے سوال کا جواب ہے جنھوں نے کہا تھا کہ ہمیں اپنے رب کانسب بیان کیجیے، کیونکہ جو پیدا ہو گا وہ حادث ہوگا، ہمیشہ سے نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَانَ اللّٰهُ وَ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ] [بخاري، التوحید، باب: «وکان عرشہ علی الماء…» ‏‏‏‏: ۷۴۱۸]اللہ تعالیٰ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی۔ معلوم ہوا کہ جو ولادت کے مرحلے سے گزرا ہو یا خلق کے مرحلے سے گزرا ہو وہ اللہ نہیں ہو سکتا۔ غلط کہتے ہیں جو کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے اور ازلی (یعنی ہمیشہ سے) ہے، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نور سے جدا ہوئے ہیں، مگر درحقیقت وہی ہیں اور ہمیشہ سے ہیں۔ غور کرنا چاہیے کہ جو پیدا ہوا وہ ہمیشہ سے کیسے ہوگیا؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 یعنی نہ کوئی چیز اس سے نکلی ہے نہ وہ کسی چیز سے نکلا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی [4] کی اولاد ہے
[4] اللہ کی اولاد قرار دینے والے فرقے :۔
انسان نے جب بھی اپنے طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق سوچا ہے تو اسے انسانی سطح پر لا کر ہی سوچا ہے اور چونکہ انسان اولاد کا خواہشمند ہوتا ہے۔ اس لیے انسان نے اللہ کی بھی اولاد قرار دے دی۔ حالانکہ جو چیز پیدا ہوتی ہے اس کا مرنا اور فنا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور جو چیز مرنے والی یا فنا ہونے والی ہو وہ کبھی خدا نہیں ہو سکتی۔ نیز انسان کو اولاد کی خواہش اور ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی قائم مقام بنے اور اس کی میراث سنبھالے جبکہ اللہ کو ایسی باتوں کی کوئی احتیاج نہیں۔ وہ حی لایموت ہے، اسی خیال سے عیسائیوں نے سیدنا عیسیٰؑ کو اور یہود نے سیدنا عزیر کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اور یونانی، مصری اور ہندی تہذیبوں نے کروڑوں کی تعداد میں دیوی اور دیوتا بنا ڈالے۔ کوئی دیوی ایسی نہ تھی جس کا انہوں نے کوئی دیوتا شوہر نہ تجویز کیا ہو۔ اور کوئی دیوتا ایسا نہ تھا جس کے لیے انہوں نے کوئی دیوی بیوی کے طور پر تجویز نہ کی ہو۔ پھر ان میں توالد و تناسل کا سلسلہ چلا کر کروڑوں خدا بنا ڈالے۔ یہ بھی غنیمت ہی سمجھئے کہ کسی قوم نے کسی کو اللہ کا باپ نہیں بنا ڈالا۔ ورنہ ایسے مشرکوں سے کیا بعید تھا کہ وہ ایسی بکواس بھی کر ڈالتے۔ اس آیت سے ایسے توہمات کی تردید ہو جاتی ہے۔ اللہ کی اولاد قرار دینا اتنا شدید جرم ہے کہ قرآن میں متعدد مقامات پر اس کی شدید مذمت وارد ہوئی ہے۔ نیز درج ذیل حدیث بھی اس جرم پر پوری روشنی ڈالتی ہے۔
اللہ کی اولاد قرار دینا اسے گالی دینے کے مترادف ہے :۔
سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بنی آدم نے مجھے جھٹلایا اور یہ اسے مناسب نہ تھا اور مجھے گالی دی اور یہ اسے مناسب نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانے کا مطلب یہ ہے کہ جو وہ یہ کہتا ہے کہ میں اسے دوبارہ ہرگز پیدا نہ کروں گا حالانکہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں ہے اور اس کا مجھے گالی دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے حالانکہ میں اکیلا ہوں، بے نیاز ہوں، نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور میرے جوڑ کا تو کوئی دوسرا ہے ہی نہیں۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔