ترجمہ و تفسیر — سورۃ المسد/اللهب (111) — آیت 5

فِیۡ جِیۡدِہَا حَبۡلٌ مِّنۡ مَّسَدٍ ٪﴿۵﴾
اس کی گردن میں مضبوط بٹی ہوئی رسی ہوگی۔ En
اس کے گلے میں مونج کی رسّی ہو گی
En
اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) {فِيْ جِيْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ: جِيْدٌ} گردن۔ { مَسَدٍ } کھجور کی چھال کی رسی یا گوگل کے درخت کی چھال کی رسی یا کسی بھی چیز کی بنی ہوئی رسی یا خوب مضبوط بٹی ہوئی رسی۔ لوہے کی رسی کو بھی { مَسَدٍ } کہتے ہیں، یعنی جہنم میں اس حال میں داخل ہوگی کہ اس کی گردن میں مضبوط بٹی ہوئی رسی ہوگی۔ صحیح بخاری میں مجاہد سے منقول ہے کہ اس سے مراد وہ زنجیر ہے جو آگ میں ہوگی، جس میں مجرم پروئے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ» ‏‏‏‏ [الحآقۃ: ۳۲] پھر ایک زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے، اسے داخل کر دو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

جید گردن۔ مسد، مضبوط بٹی ہوئی رسی۔ وہ مونج کی یا کھجور کی پوست کی ہو یا آہنی تاروں کی۔ جیسا کہ مختلف لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ وہ دنیا میں ڈالے رکھتی تھی جسے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم میں اس کے گلے میں جو طوق ہوگا، وہ آہنی تاروں سے بٹا ہوا ہوگا۔ مسد سے تشبیہ اس کی شدت اور مضبوطی کو واضح کرنے کے لیے دی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ اس کی گردن میں مضبوط [5] بٹی ہوئی رسی ہو گی
[5] ابو لہب کی بیوی کی موت :۔
﴿جِيْد بمعنی لمبی اور خوبصورت گردن، ہرن کی طرح پتلی اور لمبی گردن۔ اس گردن میں وہ ایک سونے کا ہار پہنا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ میں یہ ہار بیچ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے کاموں میں لگاؤں گی۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ جس مونج کی چبھنے والی موٹی رسی سے وہ جھاڑ جھنکار باندھا کرتی وہی اس کی گردن میں اٹک گئی اور ایسی پھنسی کہ بالآخر اس کی موت کا سبب بن گئی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔