تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّ تَبَّ ؕ﴿۱﴾
ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ (خود) ہلاک ہوگیا۔
ابولہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو
ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وه (خود) ہلاک ہو گیا
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
{سورة اللهب}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ جب (سورۂ شعراء کی) آیت: «وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» (اے نبی! اپنے سب سے قریبی خاندان والوں کو ڈرا) اتری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھے اور آواز دی: [يَا بَنِيْ فِهْرٍ! يَا بَنِيْ عَدِيٍّ! لِبُطُوْنِ قُرَيْشٍ حَتَّی اجْتَمَعُوْا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَّخْرُجَ أَرْسَلَ رَسُوْلاً لِيَنْظُرَ مَا هُوَ، فَجَاءَ أَبُوْ لَهَبٍ وَقُرَيْشٌ فَقَالَ أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلاً بِالْوَادِيْ تُرِيْدُ أَنْ تُغِيْرَ عَلَيْكُمْ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ قَالُوْا نَعَمْ، مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلاَّ صِدْقًا، قَالَ فَإِنِّيْ نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ، فَقَالَ أَبُوْ لَهَبٍ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَلِهٰذَا جَمَعْتَنَا؟ فَنَزَلَتْ: «تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ (1) مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ» ] [بخاري، التفسیر، باب: «وأنذر عشیرتک الأقربین…» : ۴۷۷۰] ”اے بنی فہر! اے بنی عدی!“ اور قریش کے قبیلوں کے نام لے لے کر پکارا، یہاں تک کہ وہ جمع ہو گئے۔ کوئی آدمی خود نہ آسکا تو اس نے کسی کو بھیج دیا تاکہ دیکھے کہ کیا بات ہے۔ ابولہب اور قریش کے دوسرے لوگ آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر میں تمھیں اطلاع دوں کہ وادی میں ایک لشکر تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟“ انھوں نے کہا: ”ہاں! ہم نے آپ سے سچ کے علاوہ کبھی کوئی اور تجربہ نہیں کیا(یعنی آپ کو ہمیشہ سچا ہی پایا)۔“ آپ نے فرمایا: ”تو پھر میں تمھیں ایک سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔“ ابو لہب کہنے لگا: ”سارا دن تیرے لیے ہلاکت ہو! تونے ہمیں اسی لیے جمع کیا ہے؟“ تو یہ سورت اتری: «تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ (1) مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ» ”ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ (خود) ہلاک ہوگیا۔ نہ اس کے کام اس کا مال آیا اور نہ جو کچھ اس نے کمایا۔“
(آیت 1) ➊ {تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ:} ابو لہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا، نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ {” لَهَبٍ “} شعلے کو کہتے ہیں، {” اَبِيْ لَهَبٍ “} شعلے کا باپ یا شعلے والا۔ رخساروں کی خوب صورتی اور سرخی کی وجہ سے یا طبیعت کی تیزی اور جوش کی وجہ سے ابو لہب کے نام سے مشہور ہوا، پھر جہنمی ہونے کی وجہ سے فی الواقع شعلے والا ہی بن گیا۔ اس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت عداوت تھی۔ باوجود اس کے کہ چچا باپ کی طرح ہوتا ہے، یہ ہر موقع پر آپ کی مخالفت کرتا اور ایذا پہنچانے کی کوشش کرتا۔ آپ کے دشمنوں میں سے یہ واحد شخص ہے جس کے نام سے قرآن میں اس کے برے انجام کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں نسب اور خاندان کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایمان اور کفر کی بنیاد پر اپنے اور غیر کا فیصلہ ہوتا ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت مخالفت اور آپ کو ہلاکت کی بد دعا دینے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے {” تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ “} فرمایا۔ اس کے دو معانی ہو سکتے ہیں، پہلا یہ کہ ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود ہلاک ہوگیا۔ یہ معنی تو ظاہر ہے۔ دوسرا یہ کہ ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو جائیں اور وہ (فی الواقع) ہلاک ہوگیا۔ یہ معنی فراء نے کیا ہے، یعنی اس کی بد دعا کے مقابلے میں اہلِ ایمان کی بد دعا کی جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ فرما دیے کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو جائیں، پھر بتایا کہ وہ ہلاک ہو چکا۔
➌ ”ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے“ یہاں ہاتھوں کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا گیا کہ ایذا رسانی میں ہاتھوں کا حصہ دوسرے تمام اعضا سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے اور ان کے ساتھ زیادہ تکلیف پہنچائی جا سکتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہاتھوں سے مراد اولاد اور ساتھی ہیں، جو مددگار ہوتے ہیں اور دست و بازو بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ایسا ہی ہوا، اس کے مددگار جنگ بدر میں برباد ہوگئے، وہ خود جنگ میں نہیں گیا، شکست کی خبر آئی تو اسی صدمے سے مر گیا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ جب (سورۂ شعراء کی) آیت: «وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» (اے نبی! اپنے سب سے قریبی خاندان والوں کو ڈرا) اتری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھے اور آواز دی: [يَا بَنِيْ فِهْرٍ! يَا بَنِيْ عَدِيٍّ! لِبُطُوْنِ قُرَيْشٍ حَتَّی اجْتَمَعُوْا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَّخْرُجَ أَرْسَلَ رَسُوْلاً لِيَنْظُرَ مَا هُوَ، فَجَاءَ أَبُوْ لَهَبٍ وَقُرَيْشٌ فَقَالَ أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلاً بِالْوَادِيْ تُرِيْدُ أَنْ تُغِيْرَ عَلَيْكُمْ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ قَالُوْا نَعَمْ، مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلاَّ صِدْقًا، قَالَ فَإِنِّيْ نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ، فَقَالَ أَبُوْ لَهَبٍ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَلِهٰذَا جَمَعْتَنَا؟ فَنَزَلَتْ: «تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ (1) مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ» ] [بخاري، التفسیر، باب: «وأنذر عشیرتک الأقربین…» : ۴۷۷۰] ”اے بنی فہر! اے بنی عدی!“ اور قریش کے قبیلوں کے نام لے لے کر پکارا، یہاں تک کہ وہ جمع ہو گئے۔ کوئی آدمی خود نہ آسکا تو اس نے کسی کو بھیج دیا تاکہ دیکھے کہ کیا بات ہے۔ ابولہب اور قریش کے دوسرے لوگ آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر میں تمھیں اطلاع دوں کہ وادی میں ایک لشکر تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟“ انھوں نے کہا: ”ہاں! ہم نے آپ سے سچ کے علاوہ کبھی کوئی اور تجربہ نہیں کیا(یعنی آپ کو ہمیشہ سچا ہی پایا)۔“ آپ نے فرمایا: ”تو پھر میں تمھیں ایک سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔“ ابو لہب کہنے لگا: ”سارا دن تیرے لیے ہلاکت ہو! تونے ہمیں اسی لیے جمع کیا ہے؟“ تو یہ سورت اتری: «تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ (1) مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ» ”ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ (خود) ہلاک ہوگیا۔ نہ اس کے کام اس کا مال آیا اور نہ جو کچھ اس نے کمایا۔“
(آیت 1) ➊ {تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ:} ابو لہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا، نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ {” لَهَبٍ “} شعلے کو کہتے ہیں، {” اَبِيْ لَهَبٍ “} شعلے کا باپ یا شعلے والا۔ رخساروں کی خوب صورتی اور سرخی کی وجہ سے یا طبیعت کی تیزی اور جوش کی وجہ سے ابو لہب کے نام سے مشہور ہوا، پھر جہنمی ہونے کی وجہ سے فی الواقع شعلے والا ہی بن گیا۔ اس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت عداوت تھی۔ باوجود اس کے کہ چچا باپ کی طرح ہوتا ہے، یہ ہر موقع پر آپ کی مخالفت کرتا اور ایذا پہنچانے کی کوشش کرتا۔ آپ کے دشمنوں میں سے یہ واحد شخص ہے جس کے نام سے قرآن میں اس کے برے انجام کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں نسب اور خاندان کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایمان اور کفر کی بنیاد پر اپنے اور غیر کا فیصلہ ہوتا ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت مخالفت اور آپ کو ہلاکت کی بد دعا دینے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے {” تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ “} فرمایا۔ اس کے دو معانی ہو سکتے ہیں، پہلا یہ کہ ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود ہلاک ہوگیا۔ یہ معنی تو ظاہر ہے۔ دوسرا یہ کہ ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو جائیں اور وہ (فی الواقع) ہلاک ہوگیا۔ یہ معنی فراء نے کیا ہے، یعنی اس کی بد دعا کے مقابلے میں اہلِ ایمان کی بد دعا کی جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ فرما دیے کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو جائیں، پھر بتایا کہ وہ ہلاک ہو چکا۔
➌ ”ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے“ یہاں ہاتھوں کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا گیا کہ ایذا رسانی میں ہاتھوں کا حصہ دوسرے تمام اعضا سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے اور ان کے ساتھ زیادہ تکلیف پہنچائی جا سکتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہاتھوں سے مراد اولاد اور ساتھی ہیں، جو مددگار ہوتے ہیں اور دست و بازو بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ایسا ہی ہوا، اس کے مددگار جنگ بدر میں برباد ہوگئے، وہ خود جنگ میں نہیں گیا، شکست کی خبر آئی تو اسی صدمے سے مر گیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ (خود) ہلاک ہوگیا (1)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ ابو لہب [1] کے دونوں ہاتھ تباہ ہوں اور وہ (خود بھی) ہلاک ہو
[1] ابو لہب کا تعارف :۔
ابو لہب کا اصل نام عبد العزیٰ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا حقیقی چچا تھا۔ نہایت ہی حسین و جمیل تھا۔ رنگ سیب کی طرح دمکتا تھا۔ اسی وجہ سے اس کی کنیت ابو لہب ہوئی۔ مالدار تھا مگر طبعاً بخیل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خبر اسے اس کی لونڈی ثویبہ نے دی تو اس خوشی میں اس نے ثویبہ کو آزاد کر دیا۔ [بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب امھاتکم الٰتی ارضعنکم]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پیشتر ہی وفات پا چکے تھے۔ بڑا چچا ہونے کی حیثیت سے اپنے آپ کو باپ کا قائم مقام سمجھ کر اس نے اپنی طبیعت کے خلاف اس خوشی کا اظہار کیا تھا یا اسے کرنا پڑا تھا۔ یہ اس کے بخل ہی کا نتیجہ تھا کہ جب آپ کے دادا عبد المطلب فوت ہونے لگے تو انہوں نے آپ کی کفالت (اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر آٹھ برس تھی) ابو لہب کے بجائے ابو طالب کے سپرد کی جو مالی لحاظ سے ابو لہب کی نسبت بہت کمزور تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تین سال تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا کام نہایت خفیہ طور پر ہوتا رہا۔ پھر جب یہ حکم نازل ہوا۔ ﴿وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ﴾ اپنے قریبی کنبہ والوں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراؤ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی تعمیل میں بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کو اپنے ہاں کھانے پر بلایا۔ کل 45 آدمی جمع ہوئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پیشتر ہی وفات پا چکے تھے۔ بڑا چچا ہونے کی حیثیت سے اپنے آپ کو باپ کا قائم مقام سمجھ کر اس نے اپنی طبیعت کے خلاف اس خوشی کا اظہار کیا تھا یا اسے کرنا پڑا تھا۔ یہ اس کے بخل ہی کا نتیجہ تھا کہ جب آپ کے دادا عبد المطلب فوت ہونے لگے تو انہوں نے آپ کی کفالت (اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر آٹھ برس تھی) ابو لہب کے بجائے ابو طالب کے سپرد کی جو مالی لحاظ سے ابو لہب کی نسبت بہت کمزور تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تین سال تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا کام نہایت خفیہ طور پر ہوتا رہا۔ پھر جب یہ حکم نازل ہوا۔ ﴿وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ﴾ اپنے قریبی کنبہ والوں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراؤ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی تعمیل میں بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کو اپنے ہاں کھانے پر بلایا۔ کل 45 آدمی جمع ہوئے۔
ابو لہب کی مخالفت :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے ﴿لا الٰه الا اللّٰه﴾ کی دعوت پیش کی تو ابو لہب جھٹ سے بول اٹھا: دیکھو! یہ سب حضرات تمہارے چچا یا چچازاد بھائی ہیں۔ نادانی چھوڑ دو اور یہ سمجھ لو کہ تمہارا خاندان سارے عرب کے مقابلہ کی تاب نہیں رکھتا۔ اور میں سب سے زیادہ حقدار ہوں کہ تمہیں پکڑ لوں۔ بس تمہارے لیے تمہارے باپ کا خانوادہ ہی کافی ہے۔ اور اگر تم اپنی بات پر اڑے رہے اور عرب کے سارے قبائل تم پر ٹوٹ پڑے تو ایسی صورت میں تم سے زیادہ اور کون شخص اپنے خاندان کے لیے شر اور تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ ابو لہب کی یہ تلخ اور ترش باتیں سننے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار کر لی اور دوسرے لوگ بھی اٹھ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
ابو طالب کی حمایت :۔
چند دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اپنے قرابتداروں کو مدعو کر کے اپنی دعوت ذرا کھل کر پیش کی۔ جس کے نتیجہ میں آپ کے چھوٹے چچا ابو طالب نے کھل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کا اعلان کر دیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ میں ذاتی طور پر عبد المطلب کا دین چھوڑنے کو تیار نہیں۔ ابو طالب کی اس حمیت کے جواب میں ابو لہب کہنے لگا: ”خدا کی قسم! یہ (یعنی دعوت توحید) برائی ہے۔ لہٰذا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ دوسروں سے پہلے تم خود ہی پکڑ لو“ اس کے جواب میں ابو طالب نے کہا: ”اللہ کی قسم! جب تک جان میں جان ہے ہم اس کی حفاظت کرتے رہیں گے“ اس دوسری دعوت کا اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ معززین بنو ہاشم میں کم از کم ایک آدمی (یعنی ابو طالب) ایسا ہے جس کی حمایت پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
کوہ صفا پر دشمنوں کا اعتراف :۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تیسرا جرأت مندانہ قدم اٹھایا۔ ایک دن آپ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور ایک فریادی کی طرح وا صباحاہ کی آواز لگائی اور قریش کے ایک ایک قبیلے کا نام لے کر پکارا اور کہا اے بنی فہر، اے بنی عدی، اے بنی کعب وغیرہ وغیرہ۔ حتیٰ کہ سب قبائل کے قابل ذکر اشخاص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہو گئے اور جو نہ پہنچ سکا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونچی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور لوگوں سے پوچھا: اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اس پہاڑی کے اس پار ایک لشکر جمع ہو رہا ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے؟ سب نے یک زبان ہو کر کہا: ”ہاں!“ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہمارا ہمیشہ سچ ہی کا تجربہ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو سن لو کہ میں تمہیں ایک سخت عذاب سے خبردار کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں لہٰذا تم اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔ میں تمہیں اللہ سے بچانے کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔
ابولہب کی برہمی :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ ابو لہب یکدم بھڑک اٹھا اور کہنے لگا: ﴿تبا لك سائر اليوم الهٰذا جمعتنا﴾ (سارا دن تم پر ہلاکت ہو کیا اس بات کے لیے تو نے ہمیں جمع کیا تھا) [بخاري۔ كتاب التفسير]
اگرچہ ابو لہب کی اس بد تمیزی کی وجہ سے یہ اجتماع کچھ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوا تاہم اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب ِ ارشاد باری اپنے پورے قبیلے کو اپنی دعوت سے آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پکار مکہ کے ایک ایک فرد تک پہنچ گئی اور ابو لہب کی بد خلقی اور گستاخی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ ابولہب کا ہی قرآن نے کیوں نام لیا؟ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے دشمن تو اور بھی بہت تھے، بلکہ ابو لہب سے بھی زیادہ تھے۔ تو ان تمام دشمنوں میں صرف ابو لہب کا ہی قرآن میں کیوں نام لے کر ذکر کیا گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ درج ذیل دو وجوہ کی بنا پر ابو لہب کا جرم واقعی اتنا شدید جرم تھا کہ قرآن میں اس کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ عرب میں کوئی باقاعدہ حکومت تو تھی نہیں، جہاں فریاد کی جا سکے۔ لے دے کر ایک قبائلی حمیت ہی وہ چیز تھی جو ایسے اوقات میں کام آتی تھی۔ مظلوم شخص فوراً اپنے قبیلے کو داد رسی کے لیے پکارتا اور پورا قبیلہ اس کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوتا۔ اس لیے ان کو اضطراراً بھی صلہ رحمی کا لحاظ رکھنا پڑتا تھا۔ ابو لہب ہی وہ واحد بد بخت شخص ہے جس نے اس دور کے واجب الاحترام قانون کو توڑ کر اپنے قبیلہ کے علی الرغم ڈٹ کر آپ کی مخالفت کی۔ علاوہ ازیں جب بنو ہاشم اور بنو مطلب کو معاشرتی بائیکاٹ کی وجہ سے شعب ابی طالب میں محصور ہونا پڑا تھا تو اس وقت بھی ابو لہب نے اپنے قبیلے کا ساتھ نہیں دیا تھا اور یہ تو واضح ہے کہ شعب ابی طالب کے محصورین میں بہت سے ایسے لوگ بھی شامل تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے تھے تاہم قبائلی حمیت کی بنا پر انہوں نے سب کچھ گوارا کیا تھا اور اس قانون کے احترام کا حق ادا کیا۔ حد یہ ہے کہ آپ کے چھوٹے چچا ابو طالب نے آپ کی حفاظت کے لیے زندگی بھر قریش مکہ کی مخالفت مول لی۔ حالانکہ آخری دم تک وہ ایمان نہیں لائے تھے۔ [بخاری، کتاب التفسیر زیر آیت: ﴿اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ﴾]
اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اس قبائلی معاشرہ میں چچا کو بھی باپ کا درجہ حاصل تھا۔ بالخصوص اس صورت میں کہ حقیقی والد فوت ہو چکا ہو۔ اس لحاظ سے بھی ابو لہب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا فریضہ بطریق احسن بجا لانا چاہئے تھا خواہ وہ ایمان لاتا یا نہ لاتا۔ مگر وہ آپ کی حفاظت کی بجائے بغض و عناد میں اتنا آگے نکل گیا کہ اس کا شمار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صف اول کے دشمنوں میں ہوتا ہے۔ اس نے کوہ صفا پر جس بد خلقی اور گستاخی کا مظاہرہ کیا اس پر آپ کے خاموش رہنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ معاشرتی سطح پر ابو لہب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ کے مقام پر تھا اور باپ ہونے کے ادب کا تقاضا یہی تھا کہ آپ خاموش رہتے۔ لہٰذا اس کی اس بد تمیزی کا جواب خود اللہ تعالیٰ نے اس کا نام لے کر دے دیا۔ واضح رہے کہ: ﴿تَبَّتْ يَدَا اَبِيْ لَهبٍ﴾ سے یہ مراد نہیں کہ جسمانی لحاظ سے ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں بلکہ یہ بد دعا کی قسم کے کلمات ہیں جو ناراضگی اور خفگی کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔ اور ایسے الفاظ صرف عربی میں نہیں۔ ہر زبان میں پائے جاتے ہیں۔
اگرچہ ابو لہب کی اس بد تمیزی کی وجہ سے یہ اجتماع کچھ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوا تاہم اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب ِ ارشاد باری اپنے پورے قبیلے کو اپنی دعوت سے آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پکار مکہ کے ایک ایک فرد تک پہنچ گئی اور ابو لہب کی بد خلقی اور گستاخی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ ابولہب کا ہی قرآن نے کیوں نام لیا؟ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے دشمن تو اور بھی بہت تھے، بلکہ ابو لہب سے بھی زیادہ تھے۔ تو ان تمام دشمنوں میں صرف ابو لہب کا ہی قرآن میں کیوں نام لے کر ذکر کیا گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ درج ذیل دو وجوہ کی بنا پر ابو لہب کا جرم واقعی اتنا شدید جرم تھا کہ قرآن میں اس کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ عرب میں کوئی باقاعدہ حکومت تو تھی نہیں، جہاں فریاد کی جا سکے۔ لے دے کر ایک قبائلی حمیت ہی وہ چیز تھی جو ایسے اوقات میں کام آتی تھی۔ مظلوم شخص فوراً اپنے قبیلے کو داد رسی کے لیے پکارتا اور پورا قبیلہ اس کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوتا۔ اس لیے ان کو اضطراراً بھی صلہ رحمی کا لحاظ رکھنا پڑتا تھا۔ ابو لہب ہی وہ واحد بد بخت شخص ہے جس نے اس دور کے واجب الاحترام قانون کو توڑ کر اپنے قبیلہ کے علی الرغم ڈٹ کر آپ کی مخالفت کی۔ علاوہ ازیں جب بنو ہاشم اور بنو مطلب کو معاشرتی بائیکاٹ کی وجہ سے شعب ابی طالب میں محصور ہونا پڑا تھا تو اس وقت بھی ابو لہب نے اپنے قبیلے کا ساتھ نہیں دیا تھا اور یہ تو واضح ہے کہ شعب ابی طالب کے محصورین میں بہت سے ایسے لوگ بھی شامل تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے تھے تاہم قبائلی حمیت کی بنا پر انہوں نے سب کچھ گوارا کیا تھا اور اس قانون کے احترام کا حق ادا کیا۔ حد یہ ہے کہ آپ کے چھوٹے چچا ابو طالب نے آپ کی حفاظت کے لیے زندگی بھر قریش مکہ کی مخالفت مول لی۔ حالانکہ آخری دم تک وہ ایمان نہیں لائے تھے۔ [بخاری، کتاب التفسیر زیر آیت: ﴿اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ﴾]
اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اس قبائلی معاشرہ میں چچا کو بھی باپ کا درجہ حاصل تھا۔ بالخصوص اس صورت میں کہ حقیقی والد فوت ہو چکا ہو۔ اس لحاظ سے بھی ابو لہب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا فریضہ بطریق احسن بجا لانا چاہئے تھا خواہ وہ ایمان لاتا یا نہ لاتا۔ مگر وہ آپ کی حفاظت کی بجائے بغض و عناد میں اتنا آگے نکل گیا کہ اس کا شمار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صف اول کے دشمنوں میں ہوتا ہے۔ اس نے کوہ صفا پر جس بد خلقی اور گستاخی کا مظاہرہ کیا اس پر آپ کے خاموش رہنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ معاشرتی سطح پر ابو لہب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ کے مقام پر تھا اور باپ ہونے کے ادب کا تقاضا یہی تھا کہ آپ خاموش رہتے۔ لہٰذا اس کی اس بد تمیزی کا جواب خود اللہ تعالیٰ نے اس کا نام لے کر دے دیا۔ واضح رہے کہ: ﴿تَبَّتْ يَدَا اَبِيْ لَهبٍ﴾ سے یہ مراد نہیں کہ جسمانی لحاظ سے ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں بلکہ یہ بد دعا کی قسم کے کلمات ہیں جو ناراضگی اور خفگی کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔ اور ایسے الفاظ صرف عربی میں نہیں۔ ہر زبان میں پائے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بدترین اور بدنصیب میاں بیوی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جا کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور اونچی آواز سے «يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ» کہنے لگے قریش سب جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں تم سے کہوں کہ صبح یا شام دشمن تم پر چھاپہ مارنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟“ سب نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! میں تمہیں اللہ کے سخت عذاب کے آنے کی خبر دے رہا ہوں“، تو ابولہب نے کہا: تجھے ہلاکت ہو، کیا اسی لیے تو نے ہمیں جمع کیا تھا؟ اس پر یہ سورت اتری} ۱؎ [صحیح بخاری:4972]
دوسری روایت میں ہے کہ یہ ہاتھ جھاڑتا ہوا یوں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ «تَبَّتْ» بد دعا ہے اور «تَبَّ» خبر ہے، یہ ابولہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا اس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ اس کی کنیت ابوعتبہ تھی اس کے چہرے کی خوبصورتی اور چمک دمک کی وجہ سے اسے ابولہب یعنی شعلے والا کہا جاتا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن تھا ہر وقت ایذا دہی تکلیف رسانی اور نقصان پہنچانے کے درپے رہا کرتا تھا۔
سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کے بعد اپنا جاہلیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: ”لوگو! «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کہو تو فلاح پاؤ گے“، لوگوں کا مجمع آپ کے آس پاس لگا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ آپ کے پیچھے ہی ایک گورے چٹے چمکتے چہرے والا بھینگی آنکھ والا جس کے سر کے بڑے بالوں کے دو مینڈھیاں تھیں۔ آیا اور کہنے لگا: لوگو! یہ بےدین ہے، جھوٹا ہے۔ غرض آپ لوگوں کے مجمع میں جا کر اللہ کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور یہ دشمن پیچھے پیچھے یہ کہتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ آپ کا چچا ابولہب ہے۔ «لعنہ اللہ» (مسند احمد) ابو الزیاد نے راوی حدیث ربیعہ سے کہا کہ آپ تو اس وقت بچہ ہوں گے؟ فرمایا: نہیں میں اس وقت خاصی عمر کا تھا مشک لاد کر پانی بھر لایا کرتا تھا }۔ ۱؎ [مسند احمد:341/4:صحیح لغیرہ]
دوسری روایت میں ہے کہ یہ ہاتھ جھاڑتا ہوا یوں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ «تَبَّتْ» بد دعا ہے اور «تَبَّ» خبر ہے، یہ ابولہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا اس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ اس کی کنیت ابوعتبہ تھی اس کے چہرے کی خوبصورتی اور چمک دمک کی وجہ سے اسے ابولہب یعنی شعلے والا کہا جاتا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن تھا ہر وقت ایذا دہی تکلیف رسانی اور نقصان پہنچانے کے درپے رہا کرتا تھا۔
سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کے بعد اپنا جاہلیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: ”لوگو! «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کہو تو فلاح پاؤ گے“، لوگوں کا مجمع آپ کے آس پاس لگا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ آپ کے پیچھے ہی ایک گورے چٹے چمکتے چہرے والا بھینگی آنکھ والا جس کے سر کے بڑے بالوں کے دو مینڈھیاں تھیں۔ آیا اور کہنے لگا: لوگو! یہ بےدین ہے، جھوٹا ہے۔ غرض آپ لوگوں کے مجمع میں جا کر اللہ کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور یہ دشمن پیچھے پیچھے یہ کہتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ آپ کا چچا ابولہب ہے۔ «لعنہ اللہ» (مسند احمد) ابو الزیاد نے راوی حدیث ربیعہ سے کہا کہ آپ تو اس وقت بچہ ہوں گے؟ فرمایا: نہیں میں اس وقت خاصی عمر کا تھا مشک لاد کر پانی بھر لایا کرتا تھا }۔ ۱؎ [مسند احمد:341/4:صحیح لغیرہ]
دوسری روایت میں ہے {میں اپنے باپ کے ساتھ تھا میری جوان عمر تھی اور میں نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک قبیلے کے پاس جاتے اور فرماتے: لوگو! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں میں تم سے کہتا ہوں کہ ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، مجھے سچا جانو مجھے میرے دشمنوں سے بچاؤ تاکہ میں اس کا کام بجا لاؤں جس کا حکم مجھے دے کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، آپ یہ پیغام پہنچا کر فارغ ہوتے تو آپ کا چچا ابولہب پیچھے سے پہنچتا اور کہتا، اے فلاں قبیلے کے لوگو! یہ شخص تمہیں لات و عزیٰ سے ہٹانا چاہتا ہے اور بنو مالک بن اقیش کے تمہارے حلیف جنوں سے تمہیں دور کر رہا ہے اور اپنی نئی لائی ہوئی گمراہی کی طرف تمہیں گھسیٹ رہا ہے، خبردار نہ اس کی سننا نہ ماننا}۔ ۱؎ [مسند احمد:492/3:ضعیف]
اللہ تعالیٰ اس سورت میں فرماتا ہے کہ ابولہب برباد ہوا اس کی کوشش غارت ہوئی اس کے اعمال ہلاک ہوئے بالیقین اس کی بربادی ہو چکی، اس کی اولاد اس کے کام نہ آئی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا تو ابولہب کہنے لگا اگر میرے بھتیجے کی باتیں حق ہیں تو میں قیامت کے دن اپنا مال و اولاد اللہ کو فدیہ میں دے کر اس عذاب سے چھوٹ جاؤں گا اس پر آیتیں «مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ» ۱؎ [111-المسد:2]، اتری۔
پھر فرمایا: کہ یہ شعلے مارنے والی آگ میں جو سخت جلانے والی اور بہت تیز ہے داخل ہو گا، اور اس کی بیوی بھی جو قریش عورتوں کی سردار تھی اس کی کنیت ام جمیل تھی نام ارویٰ تھا، حرب بن امیہ کی لڑکی تھی ابوسفیان کی بہن تھی اور اپنے خاوند کے کفر و عناد اور سرکشی و دشمنی میں یہ بھی اس کے ساتھ تھی اس لیے قیامت کے دن عذابوں میں بھی اسی کے ساتھ ہو گی، لکڑیاں اٹھا اٹھا کر لائے گی اور جس آگ میں اس کا خاوند جل رہا ہو گا ڈالتی جائے گی اس کے گلے میں آگ کی رسی ہو گی۔
یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ «حَمَّالَةَ الْحَطَبِ» سے مراد اس کا غیب گو ہونا ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند کرتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ جنگل سے خار دار لکڑیاں چن لاتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں بچھا دیا کرتی تھی، یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فقیری کا طعنہ دیا کرتی تھی تو اسے اس کا لکڑیاں چننا یاد دلایا گیا، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا: کہ یہ شعلے مارنے والی آگ میں جو سخت جلانے والی اور بہت تیز ہے داخل ہو گا، اور اس کی بیوی بھی جو قریش عورتوں کی سردار تھی اس کی کنیت ام جمیل تھی نام ارویٰ تھا، حرب بن امیہ کی لڑکی تھی ابوسفیان کی بہن تھی اور اپنے خاوند کے کفر و عناد اور سرکشی و دشمنی میں یہ بھی اس کے ساتھ تھی اس لیے قیامت کے دن عذابوں میں بھی اسی کے ساتھ ہو گی، لکڑیاں اٹھا اٹھا کر لائے گی اور جس آگ میں اس کا خاوند جل رہا ہو گا ڈالتی جائے گی اس کے گلے میں آگ کی رسی ہو گی۔
یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ «حَمَّالَةَ الْحَطَبِ» سے مراد اس کا غیب گو ہونا ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند کرتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ جنگل سے خار دار لکڑیاں چن لاتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں بچھا دیا کرتی تھی، یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فقیری کا طعنہ دیا کرتی تھی تو اسے اس کا لکڑیاں چننا یاد دلایا گیا، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے پاس ایک نفیس ہار تھا کہتی تھی کہ اسے میں فروخت کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں خرچ کروں گی تو یہاں فرمایا گیا کہ اس کے بدلے اس کے گلے میں آگ کا طوق ڈالا جائے گا۔
«مسد» کے معنی کھجور کی رسی کے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جہنم کی زنجیر ہے جس کی ایک ایک کڑی ستر ستر گز کی ہے۔ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جہنم کا طوق ہے جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے۔ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اونٹ کی کھال کی اور اونٹ کے بالوں کی بنائی جاتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی لوہے کا طوق۔
«مسد» کے معنی کھجور کی رسی کے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جہنم کی زنجیر ہے جس کی ایک ایک کڑی ستر ستر گز کی ہے۔ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جہنم کا طوق ہے جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے۔ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اونٹ کی کھال کی اور اونٹ کے بالوں کی بنائی جاتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی لوہے کا طوق۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { جب یہ سورت اتری تو یہ بھینگی عورت ام جمیل بنت کرب اپنے ہاتھ میں نوکدار پتھر لیے یوں کہتی ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ «مُذَمَّمَا اَبَيْنَا ... وَدِيْنَه قَلَيْنَا ... وَاَمْرَه عَصَيْنَا» یعنی ہم مذمم کے منکر ہیں ... اور اس کے دین کے دشمن ہیں ... اور اس کے نافرمان ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے ساتھ میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے اس حالت میں دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ آ رہی ہے ایسا نہ ہو آپ کو دیکھ لے، آپ نے فرمایا: ”صدیق بےغم رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی“، پھر آپ نے قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دی تاکہ اس سے بچ جائیں، خود قرآن فرماتا ہے «وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا» ۱؎ [17-الإسراء:45] یعنی ’جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور ایمان نہ لانے والوں کے درمیان پوشیدہ پردہ ڈال دیتے ہیں‘۔ یہ ڈائن آ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑی ہو گئی گو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ہی بالکل ظاہر بیٹھے ہوئے تھے لیکن حجابوں نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگی مجھے معلوم ہوا ہے کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے یعنی شعروں میں میری مذمت کی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، نہیں، رب البیت کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری کوئی ہجو نہیں کی تو یہ کہتی ہوئی لوٹ گئی کہ قریش تو جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:361/2:صحیح] (ابن ابی حاتم)
ایک مرتبہ یہ اپنی چادر اوڑھے طواف کر رہی تھی پیر چادر میں الجھ گیا اور پھسل پڑی تو کہنے لگی مذمم غارت ہو۔ ام حکیم بنت عبدالطلب نے کہا میں تو پاک دامن عورت ہوں اپنی زبان نہیں بگاڑوں گی اور دوست پسند ہوں پس داغ نہ لگاؤں گی اور ہم سب ایک ہی دادا کی اولاد میں سے ہیں اور قریش ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔
بزار میں ہے کہ { اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر جواب دیا کہ نہ تو آپ شعر گوئی جانتے ہیں نہ کبھی آپ نے شعر کہے، اس کے جانے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اس نے آپ کو دیکھا نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”فرشتہ آڑ بن کر کھڑا ہوا تھا جب تک وہ واپس چلی نہ گئی“ } ۱؎۔ [مسند ابویعلی:23585:حسن]
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس کے گلے میں جہنم کی آگ کی رسی ہو گی جس سے اسے کھینچ کر جہنم کے اوپر لایا جائے گا پھر ڈھیلی چھوڑ کر جہنم کی تہہ میں ڈال دیا جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا، ڈول کی رسی کو عرب «مسد» کہہ دیا کرتے ہیں۔ عربی شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں لایا گیا ہے۔
ہاں یہ یاد رہے کہ یہ بابرکت سورت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک اعلیٰ دلیل ہے کیونکہ جس طرح ان کی بدبختی کی خبر اس سورت میں دی گئی تھی اسی طرح واقعہ بھی ہوا ان دونوں کو ایمان لانا آخر تک نصیب ہی نہ ہوا نہ تو وہ ظاہر میں مسلمان ہوئے، نہ باطن میں، نہ چھپے، نہ کھلے، پس یہ سورت زبردست بہت صاف اور روشن دلیل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی۔
اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں اور اسی کے فضل و کرم اور اسی کے احسان و انعام کی یہ برکت ہے۔
بزار میں ہے کہ { اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تیرے ساتھی نے میری ہجو کی ہے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر جواب دیا کہ نہ تو آپ شعر گوئی جانتے ہیں نہ کبھی آپ نے شعر کہے، اس کے جانے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اس نے آپ کو دیکھا نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”فرشتہ آڑ بن کر کھڑا ہوا تھا جب تک وہ واپس چلی نہ گئی“ } ۱؎۔ [مسند ابویعلی:23585:حسن]
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس کے گلے میں جہنم کی آگ کی رسی ہو گی جس سے اسے کھینچ کر جہنم کے اوپر لایا جائے گا پھر ڈھیلی چھوڑ کر جہنم کی تہہ میں ڈال دیا جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا، ڈول کی رسی کو عرب «مسد» کہہ دیا کرتے ہیں۔ عربی شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں لایا گیا ہے۔
ہاں یہ یاد رہے کہ یہ بابرکت سورت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک اعلیٰ دلیل ہے کیونکہ جس طرح ان کی بدبختی کی خبر اس سورت میں دی گئی تھی اسی طرح واقعہ بھی ہوا ان دونوں کو ایمان لانا آخر تک نصیب ہی نہ ہوا نہ تو وہ ظاہر میں مسلمان ہوئے، نہ باطن میں، نہ چھپے، نہ کھلے، پس یہ سورت زبردست بہت صاف اور روشن دلیل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی۔
اس سورت کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں اور اسی کے فضل و کرم اور اسی کے احسان و انعام کی یہ برکت ہے۔