ترجمہ و تفسیر — سورۃ النصر (110) — آیت 3

فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَ اسۡتَغۡفِرۡہُ ؕؔ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا ٪﴿۳﴾
تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ، یقینا وہ ہمیشہ سے بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ En
تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ معاف کرنے والا ہے
En
تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 2 میں میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 یعنی یہ سمجھ لے کہ تبلیغ رسالت اور احقاق حق کا فرض، جو تیرے ذمہ تھا، پورا ہوگیا اور اب تیرا دنیا سے کوچ کرنے کا مرحلہ قریب آگیا ہے، اس لئے حمد و تسبیح الٰہی اور استفغار کا خوب اہتمام کر۔ اس سے معلوم ہوا کہ زندگی کے آخری ایام میں ان چیزوں کا اہتمام کثرت سے کرنا چاہئے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ تو آپ اپنے پروردگار [3] کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔ اور اس سے بخشش طلب کیجیے۔ یقیناً وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔
[3] آپ کی وفات کی طرف اشارہ :۔
یہ سورت سب سے آخری نازل ہونے والی مکمل سورت ہے۔ [مسلم، كتاب التفسير]
اور یہ 10ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں نازل ہوئی۔ اس کے بعد چند متفرق آیات نازل ہوئیں جیسے: ﴿الْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ [3:5] وغیرہ مگر مکمل کوئی سورت نازل نہیں ہوئی اور یہ آیت بھی اسی موقع پر نازل ہوئی تھی۔ اس سورت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد پورا ہو چکا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں۔ چنانچہ اسی سال حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا اس میں یہ کہہ کر کہ:”شاید آئندہ سال تم میں موجود نہ ہوں گا“ اس بات کی طرف واضح اشارہ کر دیا تھا، اور سمجھدار صحابہ بھی اس سورت سے یہی کچھ سمجھتے تھے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ مجھے (اپنی مجلس مشاورت میں) بزرگ بدری صحابہ کے ساتھ بلا لیا کرتے تھے۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ بات ناگوار گزری اور کہنے لگے:”آپ اسے ہمارے ساتھ بلا لیتے ہیں جبکہ ہمارے بیٹے اس جیسے ہیں“ سیدنا عمر نے جواب دیا: ”اس کی وجہ تم جانتے ہو“ چنانچہ ایک دن سیدنا عمرؓ نے مجھے بھی بزرگ صحابہ کے ساتھ بلا لیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس دن آپ نے مجھے صرف اس لیے بلایا کہ انہیں کچھ دکھائیں۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ:”اللہ تعالیٰ کے قول: ﴿اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ سے تم کیا سمجھتے ہو؟“ بعض لوگوں نے کہا: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں فتح حاصل ہو تو ہمیں چاہیے کہ اللہ کی تعریف کریں اور اس سے بخشش چاہیں“ اور بعض خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔ پھر مجھے پوچھا گیا: ”کیا تمہارا بھی یہی خیال ہے؟“ میں نے کہا: ’نہیں‘ کہنے لگے:”پھر تم کیا کہتے ہو؟“ میں نے کہا: اس سورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی طرف اشارہ ہے جس سے اللہ نے اپنے رسول کو آگاہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب اللہ کی مدد آپہنچی اور مکہ فتح ہو گیا اور یہی تمہاری وفات کی علامت ہے۔ سو اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی تعریف کیجیے، اس سے بخشش مانگیے وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ سیدنا عمرؓ کہنے لگے:”میں بھی اس سے وہی کچھ سمجھا ہوں جو تم کہہ رہے ہو“ [بخاري، كتاب التفسير]
اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے پروردگار کے اتنے بڑے احسانات کے شکریہ کے طور پر اب پہلے سے زیادہ اللہ کی تسبیح و تحمید کیا کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھر کی کاوشوں میں جو کوئی لغزش رہ گئی ہو تو اس کے لیے اللہ سے استغفار کریں۔ چنانچہ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب سورت نصر نازل ہوئی تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ ﴿سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ [بخاری، کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ النصر]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔