اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ ۚ وَ مَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِیۡدٍ ﴿۹۷﴾
فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو انھوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی اور فرعون کا حکم ہرگز کسی طرح درست نہ تھا۔
En
(یعنی) فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو وہ فرعون ہی کے حکم پر چلے۔ اور فرعون کا حکم درست نہیں تھا
En
فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، پھر بھی ان لوگوں نے فرعون کے احکام کی پیروی کی اور فرعون کا کوئی حکم درست تھا ہی نہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 97) ➊ { اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىِٕهٖ …:} یہاں فرعون کے ساتھ اس کے سرداروں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ وہی اس کے احکام کو نافذ کرنے والے تھے۔ بقول زمخشری ان کی جہالت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ وہ فرعون کے احکام کے پیچھے لگے رہے، حالانکہ وہ احکام عقل کے صریح خلاف تھے، مثلاً اپنے جیسے ایک انسان کے رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ مان لینا جس میں ہر انسانی کمزوری پائی جاتی ہے اور حد سے بڑھ کر ظلم وستم، مثلاً معصوم بچوں کو قتل کرنے وغیرہ کے حکم پر عمل کرنا، مگر فرعون نے انھیں اس قدر ہلکا اور ذلیل کیا ہوا تھا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے واضح معجزات دیکھنے کے باوجود فرعون ہی کے پیچھے لگے رہے، کیونکہ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے میں انھیں اپنا فسق (نافرمانی) چھوڑنا پڑتا تھا، فرمایا: «{ فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ }» [الزخرف: ۵۴] ”غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (اور بے وزن) کر دیا تو انھوں نے اس کی اطاعت کر لی، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔“
➋ {وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيْدٍ: ” رَشَدَ “} (ن، ف) سے {” رَشِيْدٌ “} وہ شخص جس کی رائے درست اور سوچ اچھی ہو، یہاں فرعون کے حکم کو فرمایا کہ وہ ہرگز کسی طرح درست نہ تھا، بلکہ واضح طور پر گمراہی پر مبنی تھا۔ اتنی تاکید نفی کی باء اور {” بِرَشِيْدٍ “} کی تنوین سے حاصل ہو رہی ہے۔
➋ {وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيْدٍ: ” رَشَدَ “} (ن، ف) سے {” رَشِيْدٌ “} وہ شخص جس کی رائے درست اور سوچ اچھی ہو، یہاں فرعون کے حکم کو فرمایا کہ وہ ہرگز کسی طرح درست نہ تھا، بلکہ واضح طور پر گمراہی پر مبنی تھا۔ اتنی تاکید نفی کی باء اور {” بِرَشِيْدٍ “} کی تنوین سے حاصل ہو رہی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
97۔ 1 مَلَاء قوم کے اشراف اور ممتاز قسم کے لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ (اس کی تشریح پہلے گزر چکی ہے) فرعون کے ساتھ، اس کے دربار کے ممتاز لوگوں کا نام اس لئے لیا گیا ہے کہ اشراف قوم ہی ہر معاملے کے ذمہ دار ہوتے تھے اور قوم ان ہی کے پیچھے چلتی تھی۔ اگرچہ موسیٰ ؑ پر ایمان لے آتے تو یقیناً فرعون کی ساری قوم ایمان لے آتی۔ 97۔ 2 رَ شِیْدٍ ذی رشد کے معنی میں ہے۔ یعنی بات تو حضرت موسیٰ ؑ کی رشد و ہدایت والی تھی، لیکن اسے ان لوگوں نے رد کردیا اور فرعون کی بات، رشدو ہدایت سے دور تھی، اس کی انہوں نے پیروی کی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
97۔ تو انہوں نے فرعون کے حکم کی ہی پیروی کی حالانکہ فرعون [109] کا حکم کچھ اچھا نہ تھا
[109] اس دعوت کو قبول کرنے کا اثر صرف فرعون پر ہی نہیں پڑتا تھا بلکہ اس کے درباریوں پر بھی پڑتا تھا اور ہر ایک کو اپنے اپنے مناصب سے دستبردار ہونا پڑتا تھا لہٰذا ان سب نے موسیٰؑ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا حالانکہ ان سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ فرعون نے بنی اسرائیل پر جو انسانیت سوز مظالم ڈھا رکھے ہیں وہ کسی لحاظ سے بھی درست نہیں ہیں اور موسیٰؑ اپنے اس مطالبہ میں راستی پر ہیں۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قبطی قوم کا سردار فرعون اور موسیٰ علیہ السلام ٭٭
فرعون اور اس کی جماعت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰ علیہ السلام کو اپنی آیتوں اور ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا «فَعَصَىٰ فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخْذًا وَبِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:16] ’ لیکن انہوں نے فرعون کی اطاعت نہ چھوڑی۔ اسی کی گمراہ روش پر اس کے پیچھے لگے رہے ‘۔ «فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:21-26] ’ جس طرح یہاں انہوں نے اس کی فرمان برداری ترک نہ کی اور اسے اپنا سردار مانتے رہے ‘۔ «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:67، 68] ’ اسی طرح قیامت کے دن اسی کے پیچھے یہ ہوں گے اور وہ اپنی پیشوائی میں انہیں سب کو اپنے ساتھ ہی جہنم میں لے جائے گا اور خود دگنا عذاب برداشت کرے گا۔ یہی حال بروں کی تابعداری کرنے والوں کا ہوتا ہے وہ کہیں گے بھی کہ اللہ انہیں لوگوں نے ہمیں بہکایا تو انہوں دوگنا عذاب دے ‘۔
مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { قیامت کے دن جاہلیت کے شاعروں کا جھنڈا امرؤ القیس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ انہیں لے کر جہنم کی طرف جائے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:228/2:ضعیف جدا]
اس آگ کے عذاب پر یہ اور زیادتی ہے کہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ یہ لوگ ابدی لعنت میں پڑے۔ قیامت کے دن کی لعنت مل کر ان پر دو دو لعنتیں پڑ گئیں۔ یہ اور لوگوں کو جہنم کی دعوت دینے والے امام تھے۔ اس لیے ان پر دوہری لعنت پڑی۔
مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { قیامت کے دن جاہلیت کے شاعروں کا جھنڈا امرؤ القیس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ انہیں لے کر جہنم کی طرف جائے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:228/2:ضعیف جدا]
اس آگ کے عذاب پر یہ اور زیادتی ہے کہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ یہ لوگ ابدی لعنت میں پڑے۔ قیامت کے دن کی لعنت مل کر ان پر دو دو لعنتیں پڑ گئیں۔ یہ اور لوگوں کو جہنم کی دعوت دینے والے امام تھے۔ اس لیے ان پر دوہری لعنت پڑی۔