ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 94

وَ لَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّیۡنَا شُعَیۡبًا وَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ بِرَحۡمَۃٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوا الصَّیۡحَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دِیَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ ﴿ۙ۹۴﴾
اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ہمراہ ایمان لائے تھے، اپنی خاص رحمت سے بچا لیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا، چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔ En
اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو تو اپنی رحمت سے بچا لیا۔ اور جو لوگ ظالم تھے، ان کو چنگھاڑ نے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
En
جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ (تمام) مومنوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات بخشی اور ﻇالموں کو سخت چنگھاڑ کے عذاب نے دھر دبوچا جس سے وه اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ہوگئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت95،94) ➊ {وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا …:} یہ اللہ تعالیٰ کے ہر قوم پر آنے والے عذاب کی عجیب صفت ہے کہ اس نے اہل ایمان کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا، نہ آندھی نے، نہ چیخ نے اور نہ زلزلے نے۔ صرف کفار اور ظالم مشرک ہی اس سے برباد ہوئے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (۵۷) کی تفسیر۔
➋ اللہ کے حکم سے آنے والے اس عذاب کو سورۂ اعراف (۹۱) اور عنکبوت (۳۷) میں { الرَّجْفَةُ} یعنی زلزلہ فرمایا، یہاں {الصَّيْحَةُ } یعنی چیخ فرمایا اور سورۂ شعراء (۱۸۹) میں { عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ } سائبان کے دن والا عذاب فرمایا۔ اس لیے زیادہ واضح بات یہی نظر آتی ہے کہ پہلے { الصَّيْحَةُ } چنگھاڑ یا سخت چیخ بلند ہوئی، جب وہ حد سے گزری تو شدید زلزلہ آگیا جس نے پہاڑوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا اور اس آواز سے کفار کے دل اور جگر پھٹ گئے اور جو جہاں تھا وہیں پڑا رہ گیا۔ زلزلے نے باقی کسر پوری کر دی اور تمام کفار کا نام و نشان اس طرح مٹا جیسے وہ یہاں کبھی رہے ہی نہ تھے۔ آج بھی مدین کے علاقے میں سیکڑوں میل تک جو پہاڑ پائے جاتے ہیں ان پر زلزلے کے آثار واضح ہیں۔ تمام پہاڑ اس طرح پھٹے ہوئے ہیں جیسے کسی زبردست زلزلے نے انھیں کھیل کھیل کر دیا ہو۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ تمام عذاب ان پر آئے مگر آیات کے سیاق میں ہر مقام کے مطابق جو عذاب تھا اس کا ذکر ہوا۔ سورۂ اعراف (۸۸) میں کفار کا قول ذکر ہوا تھا: «{ لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَاۤ اے شعیب! ہم تجھے اور تجھ پر ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ وہاں {الرَّجْفَةُ} کا ذکر ہے کہ یہ ہے وہ بستی جہاں سے تم نبی کو نکالنا چاہتے تھے۔ یہاں سورۂ ہود میں جب انھوں نے پیغمبر کی گستاخی کی تو اس کی مناسبت سے چیخ کا ذکر فرمایا اور سورۂ شعراء میں ان کا مطالبہ تھا کہ ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دے تو وہاں سائبان والے عذاب کا ذکر فرمایا۔
➌ { اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ:} یعنی قوم شعیب پر ویسی ہی ہلاکت مسلط ہوئی جیسی ثمود پر ہوئی، ان کے علاقے بھی ایک دوسرے کے قریب تھے اور کفر و سرکشی میں بھی دونوں قومیں ایک جیسی تھیں اور دونوں عرب تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

94۔ 1 اس چیخ سے ان کے دل پارہ پارہ ہوگئے اور ان کی موت واقع ہوگئی اور اس کے معا بعد ہی بھو نچال بھی آیا، جیسا کہ سورة اعراف۔ 91 (فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ) اور سورة عنکبوت (فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ) 29۔ العنکبوب:37) میں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

94۔ پھر جب ہمارا حکم آ گیا تو ہم نے شعیب کو اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے انھیں اپنی مہربانی سے بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں ایک سخت چنگھاڑ [106] نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ [107] پڑے کے پڑے رہ گئے
[106] اہل مدین پر عذاب کی نوعیت:۔
یہاں قوم شعیب کا چنگھاڑ (فرشتہ کی چیخ) سے ہلاک ہونا مذکور ہے اور اعراف میں زلزلہ کا ذکر ہوا ہے اور سورۃ شعراء میں عذاب یوم الظلۃ کا ذکر ہے یعنی عذاب کے بادل سائبان کی طرح ان پر محیط ہو گئے تھے گویا اس قوم پر تینوں قسم کا عذاب آیا ہے اور قرآن نے ہر مقام پر صرف اس عذاب کا ذکر فرمایا جیسا کہ مضمون چل رہا تھا مثلاً اس سورۃ میں قوم کا لہجہ تلخ اور باتیں گستاخانہ تھیں جو سنگسار کرنے کی دھمکی دے رہے تھے تو یہاں سخت قسم کے جگر خراش عذاب یعنی چنگھاڑ کا ذکر فرمایا سورۃ اعراف میں یہ ذکر تھا کہ قوم نے دھمکی دی تھی کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اس سرزمین سے نکال دیں گے تو وہ خود اسی سر زمین کے زلزلے سے ہلاک ہوئے تھے اور سورۃ شعراء میں یہ مضمون ہے کہ قوم نے شعیبؑ سے کہا: ”اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو“ اسی مناسبت سے وہاں عذاب کے بادلوں کا ذکر فرمایا اور یہ ممکن ہے کہ ہر مقام پر عذاب کی مختلف اوقات کی کیفیت مذکور ہو۔
[107] اس سہ گونہ عذاب سے وہ اپنے اپنے گھروں میں ہی مر گئے اور اوندھے منہ زمین سے اس لیے چمٹ گئے تھے کہ عذاب کی تکلیف کچھ کم محسوس ہو اور ان کا یہ علاقہ یوں ویران اور بے آباد نظر آتا تھا جیسے کبھی کوئی وہاں آباد ہوا ہی نہ تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مدین والوں پر عذاب الٰہی ٭٭
جب اللہ کے نبی علیہ السلام اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو تھک کر فرمایا اچھا تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ رسوا کرنے والے عذاب کن پر نازل ہوتے ہیں اور اللہ کے نزدیک جھوٹا کون ہے؟ تم منتظر رہو میں بھی انتظار میں ہوں۔‏‏‏‏
آخر ان پر بھی عذاب الٰہی اترا اس وقت نبی اللہ اور مومن بچا دیئے گئے ان پر رحمت رب ہوئی اور ظالموں کو تہس نہس کر دیا گیا۔ وہ جل بجھے۔ بے حس و حرکت رہ گئے۔ ایسے کہ گویا کبھی اپنے گھروں میں آباد ہی نہ تھے۔ اور جیسے کہ ان سے پہلے کے ثمودی تھے اللہ کی لعنت کا باعث بنے ویسے ہی یہ بھی ہو گئے۔ ثمودی ان کے پڑوسی تھے اور گناہ اور بدامنی میں انہیں جیسے تھے اور یہ دونوں قومیں عرب ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔