ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 92

قَالَ یٰقَوۡمِ اَرَہۡطِیۡۤ اَعَزُّ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اتَّخَذۡتُمُوۡہُ وَرَآءَکُمۡ ظِہۡرِیًّا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ ﴿۹۲﴾
اس نے کہا اے میری قوم! کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ غالب ہے اور اسے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے پھینکا ہوا بنا رکھا ہے، بے شک میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو، اس کا احاطہ کرنے والا ہے۔ En
انہوں نے کہا کہ قوم! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر خدا سے زیادہ ہے۔ اور اس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے۔ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کیے ہوئے ہے
En
انہوں نے جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو! کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلے کے لوگ اللہ سے بھی زیاده ذی عزت ہیں کہ تم نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے یقیناً میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو سب کو گھیرے ہوئے ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 92) ➊ {قَالَ يٰقَوْمِ اَرَهْطِيْۤ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ …: ظِهْرِيًّا ظَهْرٌ } کی طرف منسوب ہے، نسبت کی وجہ سے ظاء پر کسرہ آگیا ہے۔ یہاں سے شعیب علیہ السلام کا لہجہ کچھ سختی میں بدل جاتا ہے، فرماتے ہیں، کیا میری برادری تمھارے نزدیک اللہ سے بھی زیادہ معزز اور قوی ہے، جس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے؟ اس ہر شے کے مالک کو تو تم نے ایسے سمجھ رکھا ہے جیسے کوئی بے وقعت چیز پیٹھ پیچھے پھینک دی گئی ہوتی ہے۔ مقصد یہ کہ اللہ کے بھیجے ہوئے کی پروا نہ کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی بے وقعتی اور بے قدری کرنا ہے۔
➋ { اِنَّ رَبِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ:} وہ تمھارے تمام اعمال (جن میں ان کے اقوال، ارادے، سازشیں اور وہ سب کچھ شامل ہے جو وہ شعیب علیہ السلام کے خلاف کر رہے تھے) سے پوری طرح واقف ہے، کوئی چیز اس کے احاطے سے باہر نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

92۔ 1 کہ تم مجھے تو میرے قبیلے کی وجہ سے نظر انداز کر رہے ہو۔ لیکن جس اللہ نے مجھے منصب نبوت سے نوازا ہے اس کی کوئی عظمت نہیں اور اس منصب کا کوئی احترام تمہارے دلوں میں نہیں ہے اور اسے تم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ یہاں حضرت شعیب ؑ نے اعز علیکم منی (مجھ سے زیادہ ذی عزت) کی بجائے اعز علیکم من اللہ اللہ سے زیادہ ذی عزت کہا جس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ نبی کی توہین یہ دراصل اللہ کی توہین ہے۔ اس لیے کہ نبی اللہ کا مبعوث ہوتا ہے۔ اور اسی اعتبار سے اب علمائے حق کی توہین اور ان کو حقیر سمجھنا یہ اللہ کے دین کی توہین اور اس کا استخفاف ہے، اس لیے کہ وہ اللہ کے دین کے نمائندے ہیں۔ واتخذتموہ میں ھا کا مرجع اللہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے اس معاملے کو، جسے لے کر اس نے مجھے بھیجا ہے، اسے تم نے پس پشت ڈال دیا ہے اور اس کی کوئی پروا تم نے نہیں کی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

92۔ شعیب نے کہا: ”اے قوم! کیا تم پر میری برادری کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے جسے تم نے بالکل پس پشت [105] ڈال دیا ہے۔ یہ جو کچھ تم کر رہے ہو میرا پروردگار یقیناً اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے
[105] گویا تم میری برادری کے دباؤ کے تحت میرا لحاظ کر رہے ہو جو ابھی تک مجھے سنگسار نہیں کیا حالانکہ حقیقت میں اصل دباؤ تو اس اللہ کا سمجھنا چاہیے جس کے قبضہ قدرت میں کائنات کی ایک ایک چیز ہے اور تم خود بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہو جس کا تمہیں کبھی بھولے سے بھی خیال نہیں آتا۔ اور اگر تمہیں میری باتیں اتنی ہی ناگوار معلوم ہوتی ہیں تو جو کچھ کر رہے ہو کیے جاؤ بہرحال میں تو اپنا کام جاری رکھوں گا۔ تا آنکہ اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی فیصلہ کی ایسی صورت پیدا کر دے جس سے ہر ایک کو معلوم ہو جائے کہ ہم میں راہ راست پر کون تھا اور غلط کار کون؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب ٭٭
قوم مدین نے کہا کہ اے شعیب! آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بے انتہا کمزور ہیں۔‏‏‏‏ سعید رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ آپ علیہ السلام کی نگاہ کم تھی۔ مگر آپ علیہ السلام بہت ہی صاف گو تھے، یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کو خطیب الانبیاء کا لقب حاصل تھا۔‏‏‏‏
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں اس وجہ سے کمزور کہا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام اکیلے تھے۔ مراد اس سے آپ علیہ السلام کی حقارت تھی۔ اس لیے کہ آپ علیہ السلام کے کنبے والے بھی آپ علیہ السلام کے دین پر نہ تھے۔‏‏‏‏
کہتے ہیں کہ اگر تیری برادری کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تو پتھر مار مار کر تیرا قصہ ہی ختم کر دیتے۔ یا یہ کہ تجھے دل کھول کر برا کہتے۔ ہم میں تیری کوئی قدر و منزلت، رفعت وعزت نہیں۔‏‏‏‏ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا بھائیو! تم مجھے میری قرابت داری کی وجہ سے چھوڑتے ہو۔ اللہ کی وجہ سے نہیں چھوڑتے تو کیا تمہارے نزدیک قبیلے والے اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں اللہ کے نبی کو برائی پہنچاتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں کرتے افسوس تم نے کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا۔ اس کی کوئی عظمت و اطاعت تم میں نہ رہی۔ خیر اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حال احوال جانتا ہے وہ تمہیں پورا بدلہ دے گا۔‏‏‏‏