ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 80

قَالَ لَوۡ اَنَّ لِیۡ بِکُمۡ قُوَّۃً اَوۡ اٰوِیۡۤ اِلٰی رُکۡنٍ شَدِیۡدٍ ﴿۸۰﴾
اس نے کہا کاش! میرے پاس تمھارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ En
لوط نے کہا اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا
En
لوط ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 80){قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً …:} لوط علیہ السلام اس قوم میں ایک طرح سے اجنبی تھے، اللہ تعالیٰ نے انھیں اہل سدوم کی اصلاح کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ اس وجہ سے انھوں نے اس تمنا کا اظہار کیا کہ کاش! مجھ میں تمھارے مقابلے کی قوت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا، یعنی میرا خاندان یہاں ہوتا تو میں تم سے نمٹ لیتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَرْحَمُ اللّٰهُ لُوْطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِيْ إِلٰی رُكْنٍ شَدِيْدٍ] [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قولہ عزو جل: «‏‏‏‏و نبئھم عن ضیف إبراہیم» ‏‏‏‏: ۳۳۷۲] اللہ تعالیٰ لوط پر رحم کرے، یقینا وہ بہت مضبوط سہارے کی پناہ رکھتے تھے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا سہارا رکھتے تھے جو سب سے مضبوط ہے اور اس وقت ان کے پاس فرشتوں کی شکل میں بھی مضبوط سہارا موجود تھا، اگرچہ انھیں معلوم نہ تھا۔ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے { اَلْفِصَلُ فِي الْمِلَلِ} میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں لوط علیہ السلام کی شان میں کمی کی کوئی بات نہیں، کیونکہ اسباب کا مہیا کرنا یا ان کی خواہش کرنا اللہ تعالیٰ پر توکل کے خلاف نہیں ہے۔ لوط علیہ السلام یقینا اللہ تعالیٰ کو اپنا سہارا سمجھتے تھے مگر اس وقت وہ ساتھی مہیا ہونے کی صورت میں فوری طور پر اس خبیث قوم کا راستہ قوتِ بازو کے ساتھ روکنے کے خواہش مند تھے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی لوگوں اور قبیلوں سے کہا کہ کون میری مدد کرتا اور مجھے جگہ دیتا ہے کہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچاؤں۔ آخر کار انصار مدینہ نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور اپنی جان و مال اور اولاد کی طرح آپ کی حفاظت اور آپ کا دفاع کیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ [الصف: ۱۴] اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کے مددگار بن جاؤ، جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا اللہ کی طرف میرے مددگار کون ہیں؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ اس لیے دنیاوی اسباب مہیا ہونے کی کوشش و خواہش جائز بلکہ مستحب ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَمَا بَعَثَ اللّٰهُ بَعْدَهُ مِنْ نَبِيٍّ اِلَّا فِيْ ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ] [السلسلۃ الصحیحۃ: 152/4، ح: ۱۶۱۷] پھر لوط علیہ السلام کے بعد اللہ نے جو نبی بھی بھیجا وہ اس کی قوم کے کثیر لوگوں میں سے بھیجا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

80۔ 1 قوت سے اپنے دست بازو اور اپنے وسائل کی قوت یا اولاد کی قوت مراد ہے اور شدید (مضبوط اسرا) سے خاندان، قبیلہ یا اسی قسم کا کوئی مضبوط سہارا۔ یعنی نہایت بےبسی کے عالم میں آرزو کر رہے ہیں کہ کاش! میرے اپنے پاس کوئی قوت ہوتی یا کسی خاندان اور قبیلے کی پناہ اور مدد مجھے حاصل ہوتی تو آج مجھے مہمانوں کی وجہ سے یہ ذلت و رسوائی نہ ہوتی، میں ان بد قماشوں سے نمٹ لیتا اور مہمانوں کی حفاظت کرلیتا۔ حضرت لوط ؑ کی یہ آرزو اللہ تعالیٰ پر توکل کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ ظاہری اسباب کے مطابق ہے۔ اور توکل علی اللہ کا صحیح مفہوم و مطلب بھی یہی ہے۔ کہ پہلے تمام ظاہر اسباب و وسائل بروئے کار لائے جائیں اور پھر اللہ پر توکل کیا جائے۔ یہ توکل کا نہایت غلط مفہوم ہے کہ ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ جاؤ اور کہو کہ ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس لیے حضرت لوط ؑ نے جو کچھ کہا، ظاہر اسباب کے اعتبار سے بالکل بجا کہا۔ جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ کا پیغمبر جس طرح عالم الغیب نہیں ہوتا اسی طرح مختار کل بھی نہیں ہوتا، جیسا کہ آج کل لوگوں نے یہ عقیدہ گھڑ لیا ہے اگر نبی دنیا میں اختیارات سے بہرہ ور ہوتے تو یقییناً حضرت لوط ؑ اپنی بےبسی کا اور اس آرزو کا اظہار نہ کرتے جو انہوں نے مذکورہ الفاظ میں کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ لوط نے کہا: کاش! میں تمہارا [90] مقابلہ کر سکتا یا کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا
[90] سیدنا لوطؑ کی بے بسی:۔
سیدنا لوطؑ اس علاقہ سدوم میں غریب الدیار تھے سیدنا ابراہیمؑ کے بھتیجے تھے۔ پہلے عراق سے ہجرت کر کے فلسطین آئے پھر جب انھیں نبوت عطا ہوئی تو سیدنا ابراہیمؑ نے انھیں بغرض تبلیغ سدوم بھیج دیا۔ یہاں ان کا کوئی کنبہ قبیلہ بھی نہ تھا۔ بیوی بھی کافر تھی اور اسی قوم کی فرد تھی اور ان لواطت کرنے والے مشٹنڈوں سے ساز باز رکھتی تھی اور جب کوئی مہمان گھر پر آتا تو انھیں خفیہ طور پر یا اشاروں سے مطلع کر دیا کرتی تھی ان فرشتوں کی آمد کی بھی اسی نے ان لوگوں کو اطلاع دی تھی۔ یہ تھا سیدنا لوطؑ کی بے بسی کا عالم کہ گھر میں بیوی بھی ان کی مخالف تھی۔ اسی بے بسی کے عالم میں ان مشٹنڈوں کے بارے میں آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے ”کاش میں تمہارا مقابلہ کر سکتا یا کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا“ یعنی اگر میرا بھی یہاں مضبوط قبیلہ یا برادری ہوتی تو شاید میں ایسا بے بس اور مجبور نہ ہوتا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ سیدنا لوطؑ کے بعد جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے سب بڑے جتھے اور قبیلے والے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل ہوتا ہے ٭٭
لوط علیہ السلام نے جب دیکھا کہ میری نصیحت ان پر اثر نہیں کرتی تو انہیں دھمکایا کہ اگر مجھ میں قوت، طاقت ہوتی یا میرا کنبہ، قبیلہ زور دار ہوتا تو میں تمہیں تمہاری اس شرارت کا مزہ چکھا دیتا۔‏‏‏‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ { اللہ کی رحمت ہو لوط علیہ السلام پر کہ وہ زور آور قوم کی پناہ لینا چاہتے تھے۔ مراد اس سے ذات اللہ تعالیٰ عزوجل ہے۔ آپ علیہ السلام کے بعد پھر جو پیغمبر بھیجا گیا وہ اپنے آبائی وطن میں ہی بھیجا گیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3372]‏‏‏‏
ان کی اس افسردگی، کامل ملال اور سخت تنگ دلی کے وقت فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو ظاہر کر دیا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں یہ لوگ ہم تک یا آپ علیہ السلام تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ آپ علیہ السلام رات کے آخری حصے میں اپنے اہل و عیال کو لے کر یہاں سے نکل جائیے خود ان سب کے پیچھے رہیے۔ اور سیدھے اپنی راہ چلے جائیں قوم والوں کی آہ و بکا پر ان کے چیخنے چلانے پر تمہیں مڑ کر بھی نہ دیکھا چاہیئے۔ پھر اس اثبات سے لوط کی بیوی کا استثنا کر لیا کہ وہ اس حکم کی پابندی نہ کر سکے گی۔ وہ عذاب کے وقت قوم کی ہائے وائے سن کر مڑ کر دیکھے گی۔ اس لیے کہ رحمانی قضاء میں اس کا بھی ان کے ساتھ ہلاک ہونا طے ہو چکا ہے۔ ایک قرأت میں «إِلَّا امْرَأَتَكَ» ت کے پیش سے بھی ہے۔
جن لوگوں کے نزدیک پیش اور زبر دونوں جائز ہیں، ان کا بیان ہے کہ آپ علیہ السلام کی بیوی بھی یہاں سے نکلنے میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھی لیکن عذاب کے نازل ہونے پر قوم کا شور سن کر صبر نہ کر سکی اور مڑ کر ان کی طرف دیکھا اور زبان سے نکل گیا کہ ہائے میری قوم۔ اسی وقت آسمان سے ایک پتھر اس پر بھی آیا اور وہ ڈھیر ہو گئی۔
لوط علیہ السلام کی مزید تشفی کے لیے فرشتوں نے اس خبیث قوم کی ہلاکت کا وقت بھی بیان کر دیا کہ یہ صبح ہوتے ہی تباہ ہو جائے گی۔ اور صبح اب بالکل قریب ہے۔
یہ کور باطن آپ علیہ السلام کا گھر گھیرے ہوئے تھے اور ہر طرف سے لپکتے ہوئے آ پہنچے تھے۔ آیت میں ہے «وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ» ۱؎ [54-القمر:37-39]‏‏‏‏ یعنی ’ اور ان سے ان کے مہمانوں کو لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں سو (‏‏‏‏اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو، اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل ہوا، تو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو ‘۔
لوط علیہ السلام دروازے پر کھڑے ہوئے ان لوطیوں کو روک رہے تھے، جب کسی طرح وہ نہ مانے اور جب لوط علیہ السلام آزردہ خاطر ہو کر تنگ آ گئے اس وقت جبرائیل علیہ السلام گھر میں سے نکلے اور ان کے منہ پر اپنا پر مارا جس سے ان کی آنکھیں اندھی ہو گئیں۔
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ خود ابراہیم علیہ السلام بھی ان لوگوں کے پاس آتے، انہیں سمجھاتے کہ دیکھو اللہ کا عذاب نہ خریدو مگر انہوں نے خلیل الرحمن علیہ السلام کی بھی نہ مانی۔ یہاں تک کہ عذاب کے آنے کا قدرتی وقت آ پہنچا۔
فرشتے لوط علیہ السلام کے پاس آئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت اپنے کھیت میں کام کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ آج کی رات ہم آپ علیہ السلام کے مہمان ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام کو فرمان رب ہو چکا تھا کہ جب تک لوط علیہ السلام تین مرتبہ ان کی بدچلنی کی شہادت نہ دے لیں۔ ان پر عذاب نہ کیا جائے۔ آپ علیہ السلام جب انہیں لے کر چلے تو چلنے کی خبر دی کہ یہاں کے لوگ بڑے بد ہیں یہ برائی ان میں گھسی ہوئی ہے۔ کچھ دور اور جانے کے بعد دوبارہ کہا کہ کیا تمہیں اس بستی کے لوگوں کی برائی کی خبر نہیں؟ میرے علم میں تو روئے زمین پر ان سے زیادہ برے لوگ نہیں، آہ میں تمہیں کہاں لے جاؤں؟ میری قوم تو تمام مخلوق سے بدتر ہے۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے فرشتوں سے کہا دیکھو دو مرتبہ یہ کہہ چکے۔ جب انہیں لے کر آپ علیہ السلام اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو رنج افسوس سے رو دئیے اور کہنے لگے میری قوم تمام مخلوق سے بدتر ہے۔
تمہیں کیا معلوم نہیں کہ یہ کس بدی میں مبتلا ہیں؟ روئے زمین پر کوئی بستی اس بستی سے بری نہیں۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے پھر فرشتوں سے فرمایا دیکھو تین مرتبہ یہ اپنی قوم کی بدچلنی کی شہادت دے چکے ہیں۔ یاد رکھنا اب عذاب ثابت ہو چکا ہے۔ گھر میں گئے اور یہاں سے آپ علیہ السلام کی بڑھیا بیوی اونچی جگہ پر چڑھ کر کپڑا ہلانے لگی جسے دیکھتے ہی بستی کے بدکار دوڑے پڑے۔
پوچھا کیا بات ہے اس نے کہا لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں میں نے تو ان سے زیادہ خوبصورت اور ان سے زیادہ خوشبو والے لوگ کبھی دیکھے ہی نہیں۔ اب کیا تھا یہ خوشی خوشی مٹھیاں بند کئے دوڑتے بھاگتے لوط کے گھر گئے۔ چاروں طرف سے آپ کے گھر کو گھیر لیا۔ آپ نے انہیں قسمیں دیں، پند و نصائح کئے، فرمایا کہ عورتیں بہت ہیں۔‏‏‏‏ لیکن وہ اپنی شرارت اور اپنے بد ارادے سے باز نہ آئے۔
اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ان کے عذاب کی اجازت چاہی اللہ کی جانب سے اجازت مل گئی۔ آپ اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے۔ آپ کے دو پر ہیں۔ جن پر موتیوں کا جڑاؤ ہے۔ آپ کے دانت صاف چمکتے ہوئے ہیں۔ آپ کی پیشانی اونچی اور بڑی ہے۔ مرجان کی طرح کے دانت ہیں لؤلؤ ہیں اور آپ کے پاؤں سبزی کی طرح ہیں۔
لوط علیہ السلام سے آپ نے فرما دیا کہ ہم تو تیرے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں، یہ لوگ تجھ تک پہنچ نہیں سکتے۔ آپ اس دروازے سے نکل جایئے۔‏‏‏‏ یہ کہہ کر ان کے منہ پر اپنا پر مارا جس سے وہ اندھے ہو گئے۔ راستوں تک کو نہیں پہچان سکتے تھے۔ لوط علیہ السلام اپنی اہل کے لے کر راتوں رات چل دیئے یہ اللہ کا حکم بھی تھا۔ محمد بن کعب، قتادہ، سدی رحمہ اللہ علیہم وغیر کا یہی بیان ہے۔